عمران کا مکروہ جنسی رویہ گھناؤنی شخصیت کا عکاس

سابق وزیراعظم عمران خان کی حال ہی میں دو مختلف خواتین کے ساتھ لیک ہونے والی گندی گفتگو پر مبنی ٹیلیفونک آڈیوز انکے گھناؤنے اور بیمار جنسی رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ماضی قریب میں جب ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان کی شخصیت کی ڈارک سائڈ کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے تو یہ الزام لگایا کہ انکا مقصد خان صاحب کی کردار کشی کرنا یے۔ لیکن موصوف کی عائلہ اور فریحہ کے ساتھ مارکیٹ ہونے والی آڈیو لیکس نے اب ریحام خان کے تمام دعووں کی تصدیق کر دی ہے۔

یاد رہے کہ سیکس فری مغربی معاشروں میں بھی سیاسی شخصیات کے جنسی رویوں اور ان کے سیاست اور ملک پر پڑنے والے اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے، تاکہ ملک کی باگ دوڑ کسی ذہنی طور پر بیمار شخص کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسی کوئی روایت نہیں اور اسی لیے پروجیکٹ عمران کھڑا کرنے والوں سے عمرانی بلنڈر سرزد ہو گیا جس کا خمیازہ آج پوری پاکستانی قوم بھگت رہی یے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جناح کے پاکستان میں چلنے والی ‘کلٹ فالوونگ’ کی گرد آلود ہوا نے لوگوں کو اس حد تک اندھا کر دیا  ہے کہ وہ کردار کے غازی عمران خان کی ہر ناجائز اور غیر اخلاقی حرکت کو بھی جائز اور قانونی قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں، چاہے وہ ناجائز بچی کا معاملہ ہو یا گندی ویڈیوز اور آڈیوز کا۔ ایسے میں سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک و قوم کی قسمت کے فیصلے کرنے والے سیاسی قیادت کے نفسیاتی اور جنسی رویوں کس سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے اور عوام ان کے اصل چہروں سے آگاہ کیا جائے۔

معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اے آر شہزاد نے عمران خان کی حالیہ آڈیوز لیک کی روشنی میں ان کی شخصیت کا نفسیاتی تجزیہ کیا یے۔ اس حوالے سے انہوں نے ملک کے ایک معروف سیکسالوجسٹ sexologist سے بھی تفصیلی گفتگو کی اور تین شادیاں کرنے والے عمران خان کی شخصیت سمجھنے کی کوشش کی۔ اے آر شہزاد کے مطابق عمران کی حالیہ سیکس ٹیپ کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ معروف سیکسالوجسٹ نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھتے ہوئے چند بہت اہم پہلووں کی نشاندہی کی۔

ان کے مطابق عمران خان کی آڈیو کا وہ حصہ غور سے سننا چاہئے جس میں موصوف فون کے دوسری طرف موجود خاتون کو کہتے ہیں کہ میں جسنی عمل کے دوران بری طرح زخمی ہوا ہوں۔ خاتون جواب میں کہتی ہے کہ ہاں تم بہت بری طرح زخمی تھے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ایک مرد جنسی عمل کے دوران کیسے زخمی ہو سکتا ہے؟ معروف سیکسالوجسٹ کے مطابق مرد سیکس کے دوران صرف ایک صورت میں زخمی ہو سکتا اگر اس کے جسم کے اندر کوئی چیز داخل کی جائے۔ یہ سیکس کی مکروہ ترین قسم ہے جس میں خاتون اپنے مرد پارٹنر کی جنسی تسکین کے لیے اس کے جسم میں ربڑ کا بنا ہوا آلہ داخل کرتی یے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ عمران نے جنسی عمل کے دوران فون پر گفتگو کرنے والی خاتون سے اپنے جسم میں کوئی آلہ داخل کروایا تھا۔

ایسے میں اہم ترین سوال یہ یے کہ آخر یہ کس قسم کا جنسی رویہ ہے اور اس رویے کو ماہرین نفسیات کیا کہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنے طویل ٹوئیٹر تھریڈ میں اے آر شہزاد کا کہنا ہے کہ عمران کی جو تین آڈیوز لیک ہوئی ہیں ان سب کو باریک بینی سے سنا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ خان صاحب ‘ہائپر سیکس ڈس آرڈر’ Hyper Sex Disorder کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ ‘جنسی سیڈسٹ’ ہونے کی وجہ سے غیر فطری طریقے سے جنسی عمل کا شوق بھی رکھتے ہیں۔

‘جنسی سیڈسٹ’ وہ لوگ ہوتے جو جنسی عمل کے دوران تکلیف دے کر اور تکلیف لیکر تسکین اور لذت محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک ابنارمل جنسی رویہ ہے جس کے اثرات خان صاحب کی شخصیت کے علاوہ ان کی سیاست پر بھی پڑتے ہیں کیونکہ ان کا ذیادہ تر وقت سیاسی کارکنان کے ساتھ گزرتا ہے اور اسہ وجہ سے انکے اس رویے کی زد میں بھی وہی لوگ آتے ہیں۔ اے آر شہزاد عمران خان کی شخصیت کو ڈارک پرسنیلٹی ٹریٹز Dark Personality Traits والی شخصیت قرار دیتے ہیں جسے آپ آسان الفاظ میں کالے کرتوتوں والی شخصیت بھی کہہ سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق جنسی طور پر سیڈسٹ شخص کی سیاسی کامیابی نہایت خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک ہلاکت خیز کمبینیشن ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کے لیے قتل تک سے گریز نہی کرتے۔ ویسے بھی ان جیسوں کا آگے بڑھنا ہی دوسروں کے نقصان کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ یہ پہلو آپکو عمران خان کی سیاست میں بھی نظر آتا ہے جو قومی مفاد کو داؤ پر لگا کر اپنے ذاتی مفاد کی نگہبانی کرتے ہیں۔ اے آر شہزاد کے مطابق جنسی ہوس کا مارا ایسا سیاستدان اپنے ذاتی مفاد کے حصول کے لیے دوسروں کا نقصان کرنے، دھوکہ دینے، جھوٹ بولنے، اور نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرے گا اور یہ سب کچھ عمران کی ذاتی اور سیاسی زندگی میں بدرجہ اتم موجود نظر آتا یے۔ نفسیاتی ماہرین اسے لیڈر شپ نائٹ مئیر بھی کہتے ہیں اس لیے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان پاکستانی سیاست کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے ہیں۔

Back to top button