صدر کے بعد سپریم کورٹ بھی جلتی پر تیل ڈالنے لگی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ صدر نے اتوار کی صبح آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے بارے میں ٹویٹ کر دی جس کے بعد نیا بحران پیدا ہوگیا، صدر ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ ہوتا ہے اور اس عہدے سے اس قسم کی ٹویٹ کا صرف ایک ہی مطلب ہے صدر بھی جلتی ہوئی آگ پر پٹرول چھڑکنے والوں میں شامل ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان بھی دوبارہ ایکٹو ہو رہی ہے چناں چہ پھر ایک دو ماہ میں ملک کہاں کھڑا ہوگا؟ اپنے ایک کالم میں جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ ہم اگر اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں کچھ بنیادی فیصلے کرنا ہوں گے، ان فیصلوں میں پہلا فیصلہ ایکسٹینشن پر پابندی ہونی چاہیے، ملک میں کسی بھی عہدے دار کی مدت ملازمت میں اضافہ نہ کیا جائے خواہ ایٹمی جنگ ہی کیوں نہ چھڑ جائے، آپ یقین کریں ملک کے 90 فیصد بحرانوں کی جڑ ایکسٹینشن ہے۔ جاوید چودھری کا کہنا ھے کہ دوسرا فیصلہ مسلح افواج کے سربراہوں کا تعین سنیارٹی کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے ماڈل پر ہونا چاہیے، وزیراعظم کے پاس یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے، میرا چیف اور تیرا چیف نے ملک کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

تیسرا فیصلہ یہ ھونا چاہئے کہ آئین میں جتنی ترامیم کرنی ہیں ایک ہی بار کر لیں اور اس کے بعد آئین میں کوئی تبدیلی ہوگی اور نہ کوئی چھیڑ چھاڑ اور چپڑاسی سے لے کر صدر تک پورا ملک اس پر عمل کرے گا اور چوتھا فیصلہ عدلیہ میں ڈائریکٹ انڈکشن ختم کر دی جائے، فوج کی طرح عدلیہ میں بھی بھرتیاں ہوں اور جج فلٹر ہو کر سپریم کورٹ تک پہنچیں، اب ہر سیاسی جماعت اپنی مرضی کے وکلاء کو جج بنا دیتی ہے اور وہ آ کر ملک کی مزید مت مار دیتے ہیں یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے اور آخری فیصلہ خدا کے لیے ملک پر رحم کریں، یہ آپ کا اپنا ملک ہے، ایسا سلوک تو کرائے کی سائیکل سے بھی نہیں ہوتا جو ہم اس ملک سے کر رہے ہیں چناں چہ کھلے دل سے غلطیاں مانیں اور بڑے فیصلے کریں، یہ ملک اس صورت حال میں نہیں چل سکے گا۔

Back to top button