صرف دیسی چکن کھاؤں گا، عمران کا برائلر چکن کھانے سے انکار

جیل کے باہر موجود عمرانڈوز کے واویلے کے برخلاف اٹک جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان نے شاہانہ طرز زندگی اختیار کر رکھا ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی نے جیل میں مہیا کیا جانے والا برائلر چکن کھانے سے صاف انکار کرتے ہوئے دیسی چکن فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دیسی چکن کی فراہمی کے مطالبے کے بعد عمران خان کے وکلاء نے جیل میں ان کے اکاؤنٹ میں مزید 50ہزار روپے جمع کروا دئیے ہیں تاکہ عمران خان کو دیسی چکن کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
جیل ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو اٹک جیل میں کھانے کے لئے دیسی چکن دینے کے لئے ان کے اکاؤنٹ میں 79ہزار روپے جمع کروائے جا چکے ہیں ۔جیل میں بطور قیدی عمران خان کے اکاؤنٹ میں پہلے 50ہزار اور دوسری مرتبہ 29ہزار روپے جمع کروائے گئے ہیں۔ یہ رقم چئیرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ جیل حکام نے کچھ روز قبل عمران خان کے ساتھ کھانے کا مینو طے کیا تھا۔چئیرمین پی ٹی آئی نے جیل حکام سے کہا تھا کہ انہیں صبح ناشتے میں دو انڈے ،روٹی اور ان کے ساتھ دہی لازمی دیا جائے۔ دوپہر اور رات کے وقت روٹی کے ساتھ مختلف دالیں اور سبزیاں دیں۔ذرائع نے بتایا عمران خان نے کہہ رکھا ہے کہ کھانے میں دیسی چکن انہیں اس دن دیا جائے جس دن وہ اسکا کہیں۔ذرائع نے بتایا کہ قیدیوں کے لئے جیل مینو میں ہفتے میں 4دن چکن ہوتا ہےلیکن پی ٹی آئی چئیرمین نے برائلر چکن دینے سے منع کر رکھا ہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان کو پچھلے 15روز میں کھانے میں دو مرتبہ دیسی چکن دیا گیا ہے جس پر 8 ہزار سے زائد خرچ ہوئے جو ان کے اکاؤنٹ سے کاٹے گئے ہیں۔
جیل حکام کی جانب سے عمران خان کو جیل میں دیسی گھی میں پکے مٹن اور دیسی چکن کی فراہمی سمیت تمام سہولیات بارے مصدقہ رپورٹس کے برخلاف عمرانڈو وکلاء کی جانب سے مسلسل پراپیگنڈا جاری ہے کہ عمران خان کو انتہائی مخدوش حالات میں اٹک جیل میں قید رکھا گیا ہے۔ یوتھیے وکلاء کے دعوؤں کے برعکس ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی سمیت دیگر لوگ جتنی باتیں عمران خان کے حوالے سے باہر پھیلا رہے ہیں۔ وہ تمام جھوٹ پر مبنی ہیں۔ جیل میں عمران خان کے ساتھ کوئی نا روا سلوک نہیں ہو رہا۔ انہیں جیل میں وہ تمام سہولیات میسر ہیں جو ان کا قانونی حق ہے۔ اب جیل حکام قانون سے ہٹ کر عمران خان کے ساتھ کوئی اسپیشل سلوک نہیں کر سکتے۔تحریک انصاف والے چاہتے ہیں کہ عمران خان جیل میں بھی وزیر اعظم بن کر رہیں تو یہ ممکن نہیں۔ صرف ہمدردی سمیٹنے کے لیے یہ کہہ دینا کہ انہیں جیل میں کھانا اچھا نہیں مل رہا یا پھر ان کا کمرہ اچھا نہیں ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں۔ البتہ جیل سے انہیں خطاب کا موقع نہیں دیا جا سکتا کہ ایسا جیل قوانین کے خلاف ہے۔
پی ٹی آئی کے سزا یافتہ سربراہ عمران خان کی بیگم صاحبہ کا یہ کہنا کہ انہیں جیل میں سہولیات نہیں دی جا رہیں، تو انہیں پہلے جیل کے قوانین پڑھنے چاہئیں۔ بلکہ انہوں نے تو ضرور یہ پڑھ رکھے ہوں گے۔ کیونکہ ان کے دور حکومت میں سابق وزیر اعظم اور سابق وزرا کو جیلوں کی ہوا کھانا پڑی تھی۔ اس وقت انہیں سب کچھ بتایا جاتا تھا کہ جیل میں کیا کیا سہولیات دی جا سکتی ہیں۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ عمران خان جیل میں وزیر اعظم کا پروٹوکول لیں یا انہیں جیل سے خطاب کا موقع دیا جائے۔ جیل میں آکر ہر کسی کا وزن کم ہوتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ جیل میں آنا ہی پریشانی کا سبب ہے۔ ڈپریشن اور پریشانی ہر قیدی کا وزن کم کر دیتی ہے۔
عمران خان کے ساتھ کوئی نیا کام نہیں ہوا۔ انہیں کھانا صاف ستھرا اور جیل مینوئل کے مطابق دیا جارہا ہے۔ ان کے لیے الگ سے باورچی مختص ہے اور ان کا کھانا پہلے جیل کا ڈی ایس پی کھاتا ہے۔ پھر عمران خان کو پیش کیا جاتا دوسری جانب یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ انہیں کھانا معیاری نہیں دیا جارہا۔،عدالت میں جو رپورٹ جمع کرائی گئی ہے اس کے مطابق عمران خان کو کھانا دیا جارہا ہے اور عمران خان دیسی مرغ سمیت مٹن سے بھی لطف اندوز ہورہے ہیں۔ جبکہ ان کی ملاقات بھی علیحدگی میں کرائی جارہی ہے۔ وہ اپنی اہلیہ سے الگ کمرے میں ملاقات کررہے ہیں۔ جیل حکام کے علاوہ ان سے اور کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ جو قانون کے مطابق جے آئی ٹی بنی اس کے اہلکاروں نے تفتیش کی غرض سے ضرور ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ سب کام آفیشلی ہورہا ہے۔ ہے۔ یہی باورچی ان کے تمام امور دیکھتا ہے۔
عمران کو واک کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرہ ڈیوڑھی میں لگا ہوا ہے۔ لیکن اندر سیلز میں کیمرے نہیں ہے۔ عمران خان کے سیل کے باہر جو کیمرہ ہے۔ وہ سیل کے اندر تک رسائی رکھتا ہے اور یہ کیمرہ خصوصی طور پر عمران خان کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ ہر قیدی کے لیے پہلے سے ہی نصب کیا گیا ہے۔ ان کا باتھ روم بھی الگ کر دیا گیا ہے۔ جہاں انگلش کموڈ لگایا گیا ہے۔
ان کے باتھ روم میں شیمپو، ٹوتھ پیسٹ، برش، صابن اور دیگر ضروریات کا تمام سامان رکھ دیا گیا ہے۔ شیونگ کٹ بھی دے دی گئی ہے۔ لیکن عمران خان ابھی شیو نہیں کر رہے ہیں۔ انہیں جو کتاب چاہیے ہوتی ہے۔ وہ بھی مہیا کر دی جاتی ہے۔ عمران خان کی اہلیہ کا یہ کہنا کہ جیل میں ان کی زندگی کو خطرہ ہے تو یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ بلکہ جیل میں صرف یہ واحد قیدی ہے۔ جس کی زندگی کی حفاظت کے لیے محکمہ جیل خانہ جات پنجاب زیادہ بجٹ صرف کر رہا ہے۔ انہیں دن میں کئی بار ڈاکٹر چیک کرنے آتے ہیں۔ ان کا بلڈ پریشر اور شوگر وغیرہ روٹین سے چیک ہوتی ہے۔
جیل میں کسی وقت بھی کسی عدالت کا جج وزٹ کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ عمران خان تو کجا کسی بھی قیدی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا سکے۔
