صوبے سے نکلنے والی گیس پر ملک کے تمام شہریوں کا حق ہے

وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر سندھ کا دعوی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک صوبے سے نکلنے والی گیس پر صرف صوبے کا نہیں بلکہ پاکستان کے تمام عوام کا حق ہے کہ وہ قدرتی گیس استعمال کریں۔
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے کیے جانے والے دعوے کے صوبے کو گیس کا اس کا حصہ نہیں دیا جارہا کے جواب میں وزارت توانائی (پیٹرولیم) ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ ’پہلا حقِ استعمال (کسی ایک صوبے نہیں) پاکستان کے شہریوں کا ہے کیوں کہ وسائل کے اصل مالکان شہری ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا تا کہ گھریلو صارفین کے علاوہ گیس کا کوئی بھی استعمال آئین کی دفعہ 158 کے تحت وفاق اور صوبے کے درمیان خوش اسلوبی سے طے کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ ’حکومت تمام اشیا مثلاً پیٹرل، بجلی، گیس اور گندم کے حوالے سے یکساں خریداری اور اجرا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے‘۔
پیٹرولیم ڈویژن کا مزید کہنا تھا کہ ’سندھ کی جانب سے صوبے کو درپیش گیس کی ضرورت پورا کرنے کے مطالبے کو مسترد نہیں کیا گیا اس سے قبل اس طرح کی کوئی تجویز زیرغور نہیں آئی‘۔
اس کے ساتھ ہی جواب میں دعویٰ بھی کیا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے 23 دسمبر کو ہوئے اجلاس میں معاون خصوصی برائے پیٹرولیم اور وزیراعلیٰ سندھ نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کو قدرتی گیس کے زمرے میں لانے اور اس کے نتیجے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو اس کی قیمت مقرر کرنے کے اختیار پر اتفاق کیا تھا۔
پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا تھا کہ موجودہ دور حکومت میں سندھ میں پیدا ہونے والی کوئی بھی گیس سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کو تفویض کی جاتی ہے اور معاون خصوصی کی آئین کی دفعہ 158 کی تشریح کا غلط مطلب لیا گیا۔
جواب میں بتایا گیا کہ سندھ اس وقت تقریباً 2 ہزار 2 سو 43 ملین کیوبک فیٹ روزانہ (یم ایم سی ایف ڈی) گیس پیدا کررہا ہے جس میں سے 12 سے 13 سو ایم ایم سی ایف ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میں دی جاتی ہے جبکہ 7 سو ایم ایم سی ایف ڈی براہ راست صوبے کے کھاد اور توانائی سیکٹر کو فراہم کی جاتی ہے۔
ایس ایس جی سی کی جانب سے بلوچستان کو فراہم کی جانے والی گیس نکالنے کے بعد بقیہ 4 سو سے 5 سو ایم ایم سی ایف ڈی گیس سندھ کو دی جاتی ہے اور اگر آرٹیکل 158 کی اس تشریح کو اطلاق کیا جائے جو سندھ کرتا ہے تو صوبہ 2 سال میں گیس سے محروم ہو جائے گا‘۔
