صوفیہ مرزا کے سابقہ شوہر کے شہزاد اکبر پر سنگین الزامات


لائبیریا میں پاکستان کے سابق سفیر اور آجکل دبئی میں مقیم پاکستانی شہری عمر فاروق ظہور نے الزام عائد کیا ہے کہ انکی سابقہ اہلیہ اور اداکارہ صوفیہ مرزا نے سابق مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کے گٹھ جوڑ سے عمران دور حکومت میں انکے خلاف انتقامی مہم چلائی اور جھوٹے مقدمات درج کروائے۔ انکا کہنا ہے کہ میرے خلاف چلائی گئی جھوٹی مہم کا بھانڈا عدالتی دستاویزات نے پھوڑ دیا ہے اور تین ممالک کی عدالتوں نے مجھ پر لگائے گئے الزامات ثابت نہ ہونے پر کیسز خارج کردئیے ہیں۔.

لائبیریا میں پاکستان کے سفیر رہنے والے عمر فاروق ظہور کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے طاقتور وزیر شہزاد اکبر نے انکے خلاف انتقامی مہم چلانے کیلئے ایف آئی اے کو استعمال کیا۔انکا دعوی ٰہے کہ صوفیہ مرزا کے ایما پر شہزاد اکبر اور ایف آئی اے لاہور کے سابق سربراہ ڈاکٹر رضوان نے انکے خلاف کیسز بنانے کے لیے پوری قوت لگادی یہاں تک کہ ایف آئی اے نے عمر فاروق کے خلاف کارروائی کروانے کیلئے انٹرپول سے بھی جھوٹ بولا۔

بتای جاتا ہے کہ اداکارہ صوفیہ مرزا کا اصل نام خوش بخت مرزا ہے اور ان کا شمار شہزاد اکبر کے بہترین دوستوں میں ہوتا ہے،شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے ذریعے عمر فاروق کے خلاف کارروائی کرائی۔ صوفیہ مرزا نے ایف آئی اے لاہور کارپوریٹ سرکل میں اپنے شوہر کے خلاف بطور خوش بخت مرزا شکایت درج کرائی تھی۔ صوفیہ مرزا کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر مبینہ فراڈ اور 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے، الزام لگایا جاتا ہے کہ شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کو استعمال کرنے کیلئے صوفیہ مرزا کو شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا۔ شکایت وزارت داخلہ کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ تک پہنچی۔ کابینہ نے عمر فاروق ظہور کے خلاف 16 ارب روپیہ کے مبینہ فراڈ کی ایف آئی اے کو تحقیقات کے اجازت دی۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے تفتیش مکمل کرنے کے بعد عمر فاروق ظہور کے خلاف دو کیسز درج کئے تھے۔

عمر فاروق ظہور اور شریک ملزم پر ناروے اور سوئٹزر لینڈ میں فراڈ کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ اوسلو میں 2010 میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ اور برن میں 12 ملین ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا۔ لیکن ایف آئی اے کو شکایت میں خوش بخت مرزا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بطور اداکارہ صوفیہ مرزا کے نام سے معروف ہیں ۔ صوفیہ مرزا نے شکایت میں یہ بھی نہیں بتایا کہ عمر فاروق ظہور ان کے سابق شوہر ہیں۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور نے کئی ممالک میں فراڈ کیا اور ناروے میں سزایافتہ اور مطلوب ہے۔ عمر فاروق ظہور نے مبینہ طور پر 9.37 ملین ترک لیرا کا بھی فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کا مشکوک معاہدہ بھی کیا۔

عمر فاروق ظہور کے پاس کالے دھن کے کئی ملین ڈالرز اور پاکستان و دبئی میں کئی جائیدادوں کا الزام بھی لگایا گیا۔ صوفیہ مرزا نے سابق شوہر پر سونے کی اسمگلنگ، مہنگی گاڑیاں و گھڑیوں کی ملکیت اور سونا و رقم گھر میں رکھنے کا الزام بھی لگایا۔

صوفیہ مرزا نے ایف آئی اے سے استدعا کی کہ وہ ہاکستان کو بدنام کرنے والے شخص کے خلاف تحقیقات کرے۔ لیکن اب یہ تمام الزامات غلط ثابت ہوگئے ہیں اور عمر فاروق کو عدالتوں نے بری کر دیا ہے۔

جج غلام مرتضیٰ ورک نے عدالتی فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کو عمرفاروق ظہور کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے یہ نہیں بتایا گیا کہ خوش بخت مرزا ہی اصل میں صوفیہ مرزا ہیں۔ کابینہ کو عمر فاروق ظہور کے خوش بخت کا شوہر اور جڑواں بچیوں کی تحویل کی لڑائی سے بھی لا علم رکھا گیا۔ جوڑے کی 2008 میں طلاق کے بعد بچیاں اپنی مرضی سے والد کے ساتھ دبئی میں مقیم ہیں۔ کابینہ کو اس بات سے بھی لاعلم رکھا گیا کہ پاکستان یو اے ای کی اعلیٰ عدالتوں میں بچیوں کی تحویل کا معاملہ طے ہوچکا ہے۔ صوفیہ مرزا نے بدعنوانی کے دو مقدمات سے قبل شوہر پر بچیوں کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کرادیا۔

والدین پر اپنے بچوں کے اغوا کا مقدمہ نہ بننے کے قانون کے باوجود شہزاد اکبر کی ہدایت پر عمر فاروق ظہور کے خلاف مقدمہ بنایا گیا۔ کابینہ میں سمری کی منظوری کے بعد عمر فاروق ظہور کا نام ایگزٹ کنٹرول میں ڈال دیا گیا۔ قانونی کارروائی مکمل کئے بغیر ناقابل ضمانت وارنٹس کے اجرا کے علاوہ پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بلیک لسٹ کردئیے گئے۔انٹرپول کے ذریعے عمر فاروق ظہور کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹس بھی جاری کردئیے گئے۔

چنانچہ عمر فاروق ظہور نے لائبیریا کے سفیر کے طور پر ایف آئی اے کے اقدامات کو ختم کرانے کیلئے کارروائی شروع کی جس کے بعد ان کے ناقابل ضمانت وارنٹس اور ریڈ وارنٹس منسوخ ہو گئے۔ عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا اشتہاری قرار دینے سے قبل مجوزہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ 2019 سے لائبیریا کا سفیر ہونے کی حیثیت سے عمر فاروق ظہور کی قانونیُ کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ عمر فاروق ظہور کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس جاری کیا۔ عمر فاروق کو استثنیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود عمر فاروق کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کرائے گئے۔ عدالتی حکم نامہ کے مطابق ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس کی اجازت کے حوالے سے انٹرپول سے جھوٹ بولا۔ ایف آئی اے کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کیلئے عمر فاروق نے جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک سے رابطہ کیا۔ جج ورک کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ دونوں کیسز میں نہ تو ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کئے گئے اور نہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش کی گئی۔

یاد رہے کہ سوئس حکام نے 7 دسمبر 2020 کو شواہد کی کمی کے سبب عمر فاروق کے خلاف کیس خارج کردیا تھا۔ اس سے پہلے مئی 2020 میں ناروے حکام نے بینک فراڈ کیس میں عدم ثبوت پر عمر فاروق کے خلاف کیس بند کر دیا تھا۔ عمرفاروق ظہور نے مطالبہ کیا ہے کہ صوفیہ مرزا کی جانب سے ان پر لگائے گئے جھوٹے الزامات اور انکی بنیاد پر درج کردہ جھوٹے مقدمات ختم ہونے کے بعد ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Back to top button