جسٹس عیسیٰ نے SC رجسٹرار کو ہٹانے کا مطالبہ کیوں کیا؟


پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کو فوری طور پر انکے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک خط میں لکھا ہے کہ ان کی جانب سے عوامی خرچے پر سابق ججوں کو گاڑیاں فراہم کرنے کی تجویز شرمناک ہے کیونکہ اس کا مطلب ہو گا کہ جج اپنے عہدے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے ایک خط میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کو نا مناسب فوائد دینے کے لیے عوامی وسائل کے استعمال کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے ایسے فیصلوں کو شرمناک اور سپریم جوڈیشل کونسل کے ضابطہ اخلاق اور ججوں کے حلف کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کو فوری طور پر ان کے عہدہ سے ہٹانے کی اپیل کی ہے۔ تاہم عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ رجسٹرار اس وقت چیف جسٹس کے کاسہ لیس کردار ادا کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ‏رجسٹرار سپریم کورٹ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے آفس میں کام کرتے رہے ہیں اور عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے انہیں سپریم کورٹ میں حکومت سے ادھار لے کر تعینات کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ رجسٹرار کو لانے کا مقصد حکومتی دلچسپی کے مقدمات فوری فکس کرنا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے ناپسندیدہ کیسز کو دبانا تھا۔

چیف جسٹس کے نام لکھے گئے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ کا آخری اجلاس 12 دسمبر 2019 کو منعقد ہوا تھا، جس میں انصاف کی فراہمی کے عمل کو موثر بنانے سے متعلق بہت سے حل طلب معاملات تھے۔ تاہم رجسٹرار جواد پال نے ان اہم ترین معاملات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی توجہ عوامی وسائل کے نامناسب استعمال کی جانب مرکوزکی اور فل کورٹ کی جانب سےʼʼ سپریم کورٹ ریٹائرڈ ججوں کو گاڑیاں فراہم کرنے ʼʼکی تجویز کی توثیق کے لیے مجھے بھی ایک سرکولیشن بھیجا۔ فاضل جج نے لکھا ہے کہ مجھے یہ شرمناک تجویز یکم جون 2022 کو موصول ہوئی تھی اور میں نے اسی روز ہی رجسٹرار سے کہا کہ وہ اس حوالے سے کسی قانون، اصول یا ضابطے کا حوالہ دیں جو کہ فل کورٹ کو ایسی تجویزپر عملدرآمد کے لئے بااختیار کرتا ہے ،بعد میں مجھے رجسٹرار کی جانب سے 19 پیراگرافس کا ایک لمبا چوڑا جواب موصول ہوا لیکن اس میں ʼʼقانون، اصول یا ضابطے ʼʼ سے متعلق میرے سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ رجسٹرار نے اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرلی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج اپنے حلف کے ایک لازمی جزوʼʼ کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری طرز عمل یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دوں گاʼʼ کی خلاف ورزی کریں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ ججوں کے لیے ایسے نامناسب فوائد کی تجویز ہمارے حلف کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ جو کچھ تجویز کیا گیا ہے اس کا براہ راست فائدہ ہمیں ریٹائرڈ ہونے پر ہوگاجبکہ ہمارا حلف ججوں سے سپریم جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور یہ تجویز کسی عہدہ یا حیثیت کے استعمال سے فائدہ حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے تشکیل دیا گیا ججوں کاضابطہ اخلاق بھی ،ہمیں اپنی حیثیت کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے غیر مناسب فائدے حاصل کرنے سے روکتا ہے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہʼʼمیں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ایک بیوروکریٹ جو ایگزیکٹو کا لازمی حصہ ہے، سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے عہدے پر نہیں رہ سکتا ہے، کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 175(3) کی خلاف ورزی کرتا ہے، اور اس کی تعیناتی اس وقت اور بھی بدتر ہوجاتی ہے جب وہ ایک متبادل ایجنڈے کے ساتھ کام کررہا ہو۔ اس کے ایسے اقدامات ہر گزرتے دن کے ساتھ سپریم کورٹ کی ساکھ، آزادی اور اختیار کو مجروح کرتے ہیں ،فاضل جج نے چیف جسٹس سے رجسٹرار کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹانے کی اپیل کی ہے تا کہ وہ ادارے کو مزید اور ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچا سکیں۔

Back to top button