کرچی والوں کیلئے اچھی خبر، پیپلز بس سروس کا آغاز کردیا گیا

پیپلز پارٹی کے چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے شہر قائد کے لیے پیپلزبس سروس منصوبے کا افتتاح کردیا،پیپلزبس سروس کی افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بھی شرکت کی۔

صوبائی حکومت کے منصوبے کے تحت کراچی میں 7 مختلف روٹس پر کُل 240 بسیں چلائی جائیں گی۔ اس سلسلے کے پہلے مرحلے میں آج ملیر ماڈل کالونی سے ٹاور کے لیے بس چلا کر منصوبے کا آغاز کردیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے بس سروس منصوبہ شروع کردیا گیا ہے۔ ترقی کا یہ سفر اب رکنے والا نہیں، سروس کے پہلے روٹ یعنی ملیر ماڈل کالونی سے براستہ، شارع فیصل، میٹروپول، آئی آئی چندریگر روڈ، ٹاور تک کل سفر 29 کلومیٹر پر مشتمل ہوگا اور اس پر صبح 7 تا رات 12 بجے تک 30 بسیں چلائی جائیں گی، صوبائی حکومت شہر اور شہریوں کی ترقی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے،شرجیل میمن نے اعلان کیا کہ اگلے ہفتے نارتھ کراچی سے کورنگی تک کے لیے بس سروس شروع کردی جائے گی اور 14 اگست سے قبل شہر کے تمام ساتوں روٹس پر کُل 240 بسیں رواں دواں ہوں گی، انہوں نے بتایا کہ رواں ہفتے مزید 130 بسیں کراچی بندر گاہ پر پہنچ جائیں گی۔

صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل میمن کا کہنا تھابس کا کم سے کم کرایہ ے 25 روپے، زیادہ سے زیادہ 50 روپے رکھا گیا ہے،اس امپورٹڈ ایئر کنڈیشنڈ بس میں کیمرے نصب ہیں اور وائی فائی کی سہولت بھی موجود ہیں، ن ک مزید کہنا تھا کہ ایک بس میں بیک وقت 90 افراد سفر کرسکتے ہیں جب کہ اس میں خصوصی لوگوں کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی ہے۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا مزید بسیں بھی لائیں گے اور بسوں کی تعداد ہزاروں تک جائے گی، یہ عوام کی اپنی بس سروس ہے جو ان کی سہولت اور آسانی کے لیے شروع کی گئی،ان کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی منصوبے پر پیش رفت جاری ہے اور کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک میں شامل کرنے کے حوالے بھی بات کی جارہی ہے، کراچی کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات کے حوالے سے خود کفیل بنانے کے لیے تمام وسائل فراہم کیے جائیں گے، جن روٹس پر بسیں چلائی جا رہی ہیں ان پر سے پرانی بسیں ہٹا دیں گے،یہ عوام کی بسیں ہیں، ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے دوران ان بسوں کو نقصان پہنچایا گیا تو حکومت اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث لوگوں کے ساتھ سختی سے نمٹے گی۔

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نےایک بیان میں کہا تھا کہ بس سروس ماڈل کالونی سے ٹاور تک روٹ ون پر اپنا کام شروع کرے گی، اس 29.5 کلومیٹر کے روٹ پر 38 اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔

دیگر6 روٹس میں نارتھ کراچی سے انڈس ہسپتال (کورنگی) کا فاصلہ 32.9 کلومیٹر، ناگن چورنگی سے سنگر چورنگی (کورنگی انڈسٹریل ایریا) 33 کلومیٹر، نارتھ کراچی تا ڈاکیارڈ 30.4 کلومیٹر، سرجانی ٹاؤن سے پی اے ایف مسرور 28.2 کلومیٹر، گلشن بہار (اورنگی ٹاؤن) سے سنگر چورنگی 29 کلومیٹر اور موسمیات سے بلدیہ ٹاؤن 28.9 کلومیٹر شامل ہیں۔

افتتاح کے موقع پربلاول بھٹو نے بسوں میں سوار ہو کران کا معائنہ بھی کیا ،سواری کے دوران شرمیلا فاروقی اور بلاول بھٹونے’پیپلز بس سروس’ میں پہلی بارسواری کرتےہوئے سیلفی بھی لی، شرمیلا فاروقی نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹرپراپنی نئی سیلفی شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ میں لکھا کہ ‘وعدہ پورا ہوگیا ہے، سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ میں اس منصوبے کے تحت کراچی میں چلائی جانے والی مزید بسوں کی خریداری کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

Back to top button