مونس الہیٰ کے چپڑاسی کے نام پر 32 بینک اکاؤنٹس نکل آئے

عمران خان کے اتحادی بن جانے والے چوہدری مونس الٰہی کے خلاف منی لانڈرنگ کیسز کی تحقیقات میں ایف آئی اے حکام نے محمد نواز بھٹی نامی چپڑاسی کے 32 بینک اکاؤنٹس سامنے آنے کا انکشاف کیا ہے۔ ایف آئی اے نے مونس الہٰی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں ان سے تحریری طور پر ان 32 بینک اکائونٹس بارے سوالات کیے جن کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اعلیٰ حکام کا دعویٰ ہے کہ محمد نواز بھٹی نامی چپڑاسی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کا رشتہ دار ہے اور اس کے نام پر کھولے گئے 32 بینک اکاؤنٹس بھی وہی آپریٹ کر رہے ہیں جن کے ذریعے چند ماہ پہلے تک بیرون ملک منی لانڈرنگ کا دھندہ جاری تھا۔

جان کو خطرہ لاحق ہے،واپس جیل بھیجنے کا مطالبہ کر دیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے نواز بھٹی چپڑاسی سے متعلق سوالات پر حسب توقع مونس الہیٰ نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس نام کے کسی شخص کو نہیں جانتے جب کہ نواز بھٹی کے شیئرز سے متعلق سوال پر بھی جواب نفی میں آیا ہے۔ مونس الہیٰ نے کہا ہے کہ انہیں نواز بھٹی چپڑاسی کے اکاؤنٹس بارے کچھ معلوم نہیں، انکا کہنا تھا کہ ایف آئی اے جن شیئرز بارے مجھ سے پوچھ رہی ہے وہ دراصل مجھے میرے بھائی راسخ الٰہی نے تحفہ دیے تھے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے مونس الہٰی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف 24 ارب روپے کی منی لانڈرگ کی تحقیقات جاری ہیں، ایف آئی اے نے مونس الٰہی سے 33 سوالات کے جوابات مانگے تھے۔ مونس نے منی لانڈرنگ کیس میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے نواز بھٹی اور مظہر عباس کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے جن پر غیرقانونی فنڈ سے رحیم یار خان شوگر مل قائم کرنے کے لیے مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔ ایف آئی اے نے مونس الہٰی اور دیگر 7 افراد پر شوگر اسکینڈل میں منی لانڈرنگ الزامات کے تحت 14 جون کو مقدمہ درج کیا، جس میں حکومت پنجاب کے دو ملازمین محمد نواز بھٹی اور مظہر عباس کے نام بھی شامل ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے پوچھے جانے والے 33 سوالات کے جمع کروائے گئے جوابات میں مونس الہٰی نے کہا کہ وہ نواز بھٹی اور مظہر عباس کو نہیں جانتے یا اس حقیقت سے واقف ہیں کہ وہ سرکاری ملازم ہیں۔ مونس الہٰی نے ان دونوں افراد سے متعلق دیگر سوالات کے جوابات بھی نفی میں دیے ہیں، جیسا کہ کیا وہ اور ان کی فیملی نے مظہر عباس کو ملازمت کے لیے مدد فراہم کی، یا وہ جانتے ہیں کہ ان دونوں افراد کے رحیم یار خان اور الائنس شوگر ملز میں حصص ہیں، یا مونس الہٰی نے ان کی کوئی مالی مدد کی تھی، یا وہ یہ جانتے ہیں کہ نواز بھٹی کے 32 اکاؤنٹس ہیں جس کا ٹرن اوور 24 ارب روپے ہے۔

مونس الٰہی نے اس بات کی بھی تردید کی کہ رحیم یار خان شوگر ملز کو قائم کرنے کی ‘این او سی’ لینے کے لیے ان کے والد سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کا اثر و رسوخ استعمال کیا تھا۔ اس سوال پر کہ کیا شوگر ملز سے فائدہ اٹھانے والوں کو چھپانے کے لیے ‘کارپوریٹ لیئرنگ’ کا استعمال کیا گیا مونس الہٰی کا کہنا تھا کہ یہ الزام غلط ہے کیونکہ ان کے تمام حصص ڈکلیئرڈ ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق شوگر ملز کو قائم کرنے کا این او سی جون 2007 میں جاری کیا گیا جب پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب تھے لہٰذا اس کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ شوگر ملز کی جاری تحقیقات میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ‘لو پروفائل افراد’ جن میں سے ایک اس وقت بہت ہی ‘لو پروفائل’ تھا، نے مشترکہ طور پر 2007/2008 میں رحیم یار خان میں ‘آر وائی کے’ شوگر ملز قائم کی تھی۔ ان افراد کی شناخت محمد نواز بھٹی اور مظہر عباس کے نام سے ہوئی ہے۔ ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا کہ بظاہر شوگر ملزنامعلوم ذرائع سے لانڈرنگ کے فنڈز سے قائم کی گئی ہے جو کہ مالیاتی جرائم میں شامل ہے۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ مونس الٰہی کے خلاف منی لانڈرنگ اور بیرون ملک جائیدادیں بنانے کے الزامات کے علاوہ پنڈورا پیپرز کی بنیاد پر بھی تحقیقات شروع کی جارہی ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پنڈورہ پیپرز مونس الہٰی کی بیرون ملک ایک آف شور کمپنی اور اثاثوں کے دستاویزی ثبوت سامنے لایا تھا۔ یاد رہے کہ پینڈورا پیپرز نے کچھ عرصہ پہلے پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں اور انکے بیرون ملک اثاثوں کے بارے جو پینڈورا باکس کھولا تھا اس میں مونس الٰہی کا نام آیا تھا لیکن انہوں نے تمام تر الزامات کی تردید کر دی تھی۔

Back to top button