عثمان بزدار کے چاروں بھائیوں کی اینٹی کرپشن کورٹ سے عبوری ضمانت منظور

سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکے چار بھائیوں نے نو سو کنال اراضی کی غیر قانونی ایڈجسٹمنٹ کے دو مقدمات میں اینٹی کرپشن کورٹ لیہ سے عبوری ضمانت کروا لی ہے ۔

ملزمان نے ہائیکورٹ ملتان بینچ سے حفاظتی ضمانت حاصل کروا رکھی تھی جسکی آج آخری تاریخ تھی، مقررہ وقت کے خاتمے سے قبل چاروں ملزمان انٹی کرپشن جج نوید احمد کی عدالت میں پیش ہوئے، درخواستوں پر سماعت کے بعد انٹی کرپشن جج نے ایک ایک لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم صادر کرتے ہوئے تمام ملزمان کی دو جولائی تک ضمانت منظور کر لی اور کیس واپس ڈی جی خان کی انٹی کرپشن کورٹ میں منتقل کر دیا جبکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب 30 جولائی تک ہائیکورٹ بہاولپور بنچ سے حفاظتی ضمانت پر ہیں۔

ملزمان کیخلاف انٹی کرپشن تھانہ ہیڈ کوارٹر ڈیرہ غازیخان میں دو مقدمات درج ہیں جس میں سابق وزیراعلیٰ اور انکے چار بھائیوں سمیت ریونیو عملہ کیخلاف نو سو کنال اراضی کی 1982 میں ناجائز ایڈجسٹمنٹ کرانے کا الزام عائد ہے۔ مقدمات میں سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ہائیکورٹ بہاولپور بینچ سے حفاظتی ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعلی اور ان کے بھائیوں پر 888 کنال 6 مرلے اراضی کی ناجائز ایڈجسٹمنٹ کا الزام ہے، سابق وزیراعلیٰ اور ان کے چار بھائیوں پر اسسٹنٹ کمشنر تونسہ اسد چانڈیہ کی مدعیت میں مقدمات درج ہیں، ایف آئی آر کے مطابق پانچوں بھائیوں نے 1982 میں محکمہ ریونیو افسران کے ساتھ ملی بھگت کر کے اراضی کا فراڈ کیا ہے۔

Back to top button