اسٹیبلشمنٹ نے سیاست میں نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے قومی سیاست میں غیر جانبداری اس لیے برتی جا رہی ہے کہ ہائیبرڈ فارمولے کے تحت لائی گئی سابقہ کپتان سرکار نے پاکستانی معیشت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا تھا۔ پاکستان اسوقت جس معاشی عذاب سے گزر رہا ہے اس کے ہوتے کوئی نئی مہم جوئی یا نیا تجربہ مسائل کی اوجھڑی اپنے ہی گلے میں ڈالنے جیسا ہے۔ ویسے بھی تجربے بازی بھرے پیٹ پر ہی سجتی ہے۔ لہذا بد ترین معاشی بحران کے اس دور میں ناکام تجربے کرنے والی عسکری قوتوں کے لیے سیاسی حکومتیں ہی بہترین ڈھال ثابت ہوتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ مخلوط حکومت کے ساتھ ہے۔

بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اگر گجرات کے چوہدری برادران بھی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ’گل زیادہ ہی ودھ گئی اے مختاریا۔‘ اگر سابق لاٹھی ٹیک جرنیل بھی اپنے اپنے ڈرائنگ رومز سے باہر آ کر حاضر سروس جرنیلی حکمتِ عملی پر تھڑے بازی کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سب اچھا نہیں ہے۔ مگر محض باتوں یا بیانات کے بل پر تو خلیج کی ٹھیک ٹھیک گہرائی نہیں ماپی جا سکتی۔وہ پوچھتے ہیں کہ عمران خان غیر ملکی سازش، امپورٹڈ حکومت اور نیوٹرل کو جانور بنانے والا جو منجن پچھلے کئی ماہ سے بیچ رہے ہیں اس کے گاہک دراصل کتنے ووٹر ہیں؟ یا شہباز حکومت نے معیشت کی طویل المیعاد بہتری کے نام پر آئی ایم ایف کا تیار کردہ جو جمال گھوٹا عام آدمی کو پلایا ہے، اس سے کس قدر اقتصادی افاقہ ہو گا؟ یا پھر چار سے چھ ماہ بعد قرضئی مارفین کے ایک اور امپورٹڈ انجکشن کی ضرورت پڑے گی؟ اس سب کا جزوی اندازہ اگلے ڈیڑھ ماہ میں ہو جانا چاہیے جب پنجاب اسمبلی کی 20 خالی سیٹوں پر ضمنی انتخاب کے نتائج سامنے آئیں گے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بلدیاتی نتائج واضح ہونے کے بعد سندھ اور پھر پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج واضح ہوں گے۔

وسعت کہتے ہیں کہ یہ الگ بات کہ بلدیاتی اداروں کو سیاسی جماعتیں ہمیشہ اپنی سوکن سمجھتی آئی ہیں اور تب تک نچلی سطح پر روکھی سوکھی جمہوریت بانٹنے سے بھی کتراتی ہیں جب تک اعلیٰ عدلیہ سر پر جوتا نہ لہرانے لگے۔ چونکہ صوبائی اسمبلیوں پر سیاسی تنظیموں کا ہی غلبہ ہوتا ہے لہٰذا صوبائی اسمبلیاں پورا زور لگا دیتی ہیں کہ بلدیاتی سوکنیں اختیاراتی پلاؤ میں شریک کی ضد پر قائم رہنے کے بجائے پھینکی ہوئی چند ہڈیوں پر راضی ہو جائیں۔
اس دوران عمران خان کو کسی نے صحیح مشورہ دیا ہے کہ مون سون گزرنے کے بعد جب مطلع قدرے صاف ہو جائے اور موجودہ ملی جلی سرکار کی معاشی پالیسیوں کے پھوڑے عوام کی کھال پر ابھرنے شروع ہوں، تب تک ایکسیلریٹر پر پاؤں ہلکا رکھیں۔ چنانچہ عمران کا احتجاجی ٹرک فی الحال 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کے ابتدائی جوش سے گزر کے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ پر آ گیا ہے۔میچ کے شروع میں پورا زور لگا کے تھکنے کے بجائے آخری 10 اوورز میں پاور پلے کتنا مفید ہوتا ہے؟ یہ بات عمران خان کو عمران خان سے بہتر کون بتا سکتا ہے۔

رہی بات کہ نیوٹرلز اب کیا سوچ رہے ہیں۔ اس حوالے سے وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اس کا اندازہ بھی ستمبر سے ہونا شروع ہو جائے گا۔ بہت سے وہمی تجزیہ باز اب بھی سمجھ رہے ہیں کہ شیر اگر اپنا نام خرگوش رکھ لے تب بھی جنگل کے دیگر جانور اس سے بے تکلفی برتنے کا رسک نہیں لیتے۔ ممکن ہے قومی سیاست میں اب غیر جانبداری اس لیے برتی جا رہی ہے کہ پاکستان اس وقت جس معاشی عذاب سے گزر رہا ہے اس کے ہوتے کوئی مہم جوئی یا نیا تجربہ مسائل کی اوجھڑی اپنے ہی گلے میں ڈالنے جیسا ہے۔ انکاکہنا ہے کہ تجربے بازی بھرے پیٹ پر ہی سجتی ہے۔ ایسے مواقع پر سیاسی حکومتیں ہی بہترین ڈھال ثابت ہوتی ہیں اور بادشاہ گروں کے لیے کسی نڈھال حکومت سے بہتر ڈھال ممکن نہیں۔ مگر یہ نیوٹریلٹی یکطرفہ خیرسگالی نہیں۔ اس کے بدلے سیاسی حکومتیں بھی ان معاملات میں مسلسل نیوٹرل رہتی ہیں جن کا تعلق براہِ راست سکیورٹی آپریٹس کی دکھتی رگ سے ہو۔ مثلاً حالیہ دنوں میں جبری لاپتگی کی تازہ لہر ابھری ہے۔ جن گستاخیوں پر عام لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے اگر اسے معیار مان لیا جائے تب تو تحریکِ انصاف سالم اور آدھی مسلم لیگ (ن) اب تک لاپتہ ہو جانی چاہیے تھی۔ مگر کمہار پر بس نہ چلنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ گدھے کے کان بھی نہ اینٹھے جائیں۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ کوئی بھی پالیسی مسلسل اپنانے کے باوجود خاطر خوا ہ نتائج نہ نکلیں تو پھر عوام الناس بھی اس پالیسی کو زندگی کے دیگر تلخ معمولات کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ یہی کچھ جبری لاپتگی کی پالیسی کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ اس کا مسلسل اور بے مہار استعمال چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ عدلیہ کے موثر ہونے پر صرف عوام ہی سوالیہ نشان نہیں بلکہ ریاستی و حساس اداروں نے بھی نظامِ انصاف کو جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ یعنی مملکت کا ایک ستون دوسرے ستون کو بے توقیر کر کے سمجھ رہا ہے گویا وہ کوئی بہت بڑی قومی خدمت کر رہا ہے۔ عدم تحفظ سے احساسِ تحفظ پیدا کرنے کی متواتر کوششیں سوائے جھنجھلاہٹ دو چند کرنے کے کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔ مگر یہ دلیل وہاں کون سنے گا جہاں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ چھاپنے کے جملہ حقوق بھی سکیورٹی پرنٹنگ پریس کے پاس ہوں۔

Back to top button