طالبان حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے والی پراکسی بن چکی ہے، پاکستانی مندوب کا الزام
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، عالمی برادری کابل پر سفارتی اور معاشی دباؤ بڑھائے

نیویارک (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر عالمی دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتا جارہا ہے اور طالبان حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے والی ایک ’پراکسی‘ کا کردار ادا کررہی ہے۔
کابل میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طالبان انتظامیہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے اس کی مبینہ پشت پناہی کررہی ہے۔
پاکستانی مندوب نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے فروری میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ’کھلی جنگ‘ سے متعلق دیے گئے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی حالات اور مجموعی سکیورٹی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہوچکی ہے۔

عالمی برادری کی تین شرائط پر پیش رفت نہ ہوسکی
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد عالمی برادری نے تین بنیادی مطالبات سامنے رکھے تھے، جن میں تمام گروہوں کی نمائندگی پر مشتمل جامع حکومت، خواتین اور بچیوں کے حقوق کا تحفظ اور افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا شامل تھا۔
ان کے مطابق پانچ برس گزرنے کے باوجود ان معاملات میں خاطر خواہ بہتری کے بجائے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر تعلیم اور روزگار سے متعلق پابندیاں برقرار ہیں جبکہ جامع حکومت کے قیام کے وعدے بھی پورے نہیں کیے گئے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں 5 ہزار 200 سے زائد دہشت گردی کے واقعات پیش آئے جن میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2026 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران صورتحال مزید سنگین ہوگئی اور 3 ہزار سے زائد حملوں میں 830 سے زیادہ پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔
عاصم افتخار احمد نے ان حملوں کی بڑی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ پر عائد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان تنظیموں کو افغان سرزمین سے معاونت حاصل ہورہی ہے۔
’صرف صلاحیت کی کمی نہیں، فعال تعاون بھی ہے‘
اس سوال پر کہ آیا طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی یا جان بوجھ کر اسے پناہ دے رہی ہے، پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس اور پاکستانی انٹیلی جنس کے مطابق معاملہ محض صلاحیت کی کمی تک محدود نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کابل انتظامیہ ٹی ٹی پی کو محفوظ ٹھکانے، غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ، مالی معاونت اور سرحد پار کارروائیوں کے لیے سہولیات فراہم کررہی ہے۔
عاصم افتخار احمد کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ، چین اور قطر سمیت پاکستان کے دوست ممالک کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے باوجود طالبان قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایسے عملی اقدامات نہیں کیے جن کی آزادانہ تصدیق کی جاسکے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنانے کے لیے کابل حکومت پر سفارتی اور معاشی دباؤ بڑھایا جائے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام قائم ہوسکے۔
