طالبان کو معافی ریاست پاکستان کی شکست تسلیم کرنا ہو گا

https://youtu.be/uTISCQmre0s
ریاست پاکستان کی جانب سے انتہا پسندی کے خاتمے کی خاطر بنایا جانے والا نیشنل ایکشن پلان بھلاتے ہوئے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہزاروں پاکستانیوں کی قاتل اس کالعدم تنظیم کا موجودہ امیر مفتی نور ولی محسود جنگجووں کے درجن بھر دھڑوں کو ٹی ٹی پی میں شامل کر کے یہ اعلان کر چکا ہے کہ ان کا اگلا مشن قبائلی علاقوں کو پاکستانی فوج سے آزاد کروانا ہے۔ ایسے میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا واضح مطلب ریاست پاکستان کی جانب سے انتہا پسندوں کے خلاف اپنی شکست تسلیم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ اس برس جولائی میں مفتی نور ولی محسود نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو اپنا پہلا ویڈیو انٹرویو دیتے ہوئے افغان طالبان کی پیش قدمی کو سراہا تھا۔ افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد مفتی نور ولی نے انھیں مبارک باد دی تھی اور امیرالمومنین کہلانے والے افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی بیعت کی تجدید کا اعلان کیا تھا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد جب پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آئی تو پاکستانی عسکری حکام نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تاہم جواب میں یہ بتایا گیا کہ پاکستانی طالبان افغان حکومت کے کہنے میں نہیں ہیں، ہاں اگر انہیں دہشت گردی سے روکنا ہے تو اسکا ایک راستہ حکومت پاکستان کی جانب سے عام معافی دینے کا ہو سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے افغان طالبان نے بطور ضامن اپنی خدمات بھی پیش کر دیں اور یوں ریاست پاکستان نے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے بنایا گیا نیشنل ایکشن پلان بھلاتے ہوئے ٹی پی پی کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا۔

تاہم ایسا کرتے ہوئے پاکستانی ریاست نے نہ صرف 80 ہزار شہریوں کی شہادتیں بھلا دیں بلکہ یہ بھی بھلا دیا کہ تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان دونوں بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں قرار دی جا چکی ہیں اور انکے ساتھ مذاکرات پاکستان کے لیے عالمی سطح پر مسائل پیدا کر سکتے ہیں خصوصاً جب امریکہ پہلے ہی یہ سمجھتا ہے کہ افغان طالبان کی جیت اور اس کی شکست قسط کے پیچھے پاکستانی ریاست کا ہاتھ ہے۔ دوسری جانب عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد صورتحال بدل گئی تھی اور پاکستان کے پاس سب سے مناسب رابطہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا ہی تھا۔ انکا کہنا یے کہ تحریک طالبان پاکستان کے اراکین کے افغان طالبان کے ساتھ بہت پرانے، بہت قریبی تعلقات ہیں جو کہ نظریاتی، نسلی اور قبائلی بنیادوں پر قائم ہیں۔ ویسے بھی جب نائن الیون حملوں کے بعد افغان طالبان مشکل میں تھے تو انھیں ٹی ٹی پی نے اپنے قبائلی علاقوں میں تحفظ دیا تھا۔ اس کے بعد پاکستانی قبائلی علاقوں میں 2014 کا فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد ذیادہ تر پاکستانی طالبان افغانستان چلے گے جہاں افغان طالبان نے انہیں اب تک پناہ دے رکھی تھی اور وہ افغان جنگ میں ان کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔

چنانچہ یہ تقریباً ناممکن سی بات تھی کہ برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان کے مطالبے پر افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی قدم اٹھاتے۔ اسی لئے پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے مطالبے پر افغان طالبان نے صلح کا مشورہ دیا اور امن مذاکرات پر آمادہ کرلیا۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ 80 ہزار پاکستانیوں کی قاتل تنظیم کو عام معافی دینے کیلئے مذاکرات ریاست پاکستان کی رٹ کو ختم کر کے رکھ دیں گے۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ پاکستانی پارلیمنٹ جس نے انتہا پسندی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی تھی، اسے بھی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ لہازا ایک ایسے وقت میں کہ جب پاکستانی طالبان بھی یہ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں کہ وہ بھی افغان طالبان کی طرح پاکستانی ریاست کو شکست دے سکتے ہیں،ان سے مذاکرات یا کوئی سمجھوتہ دنیا کو بہت غلط اشارہ دے گا۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹی ٹی پی نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف پاک افغان سرحدی علاقوں میں حملے تیز کر دیئے ہیں۔ اسلام آباد کے تحقیقی ادارے پاکستان انسٹیٹوٹ فار پیس سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس صرف اگست میں تحریک طالبان نے ہماری سیکیورٹی فورسز پر کم از کم 20 حملے کیے۔ گذشتہ برسوں میں تحریک طالبان کے خلاف پاکستانی فوج کی جانب سے کیے گئے متعدد آپریشنز کے نتیجے میں اس تنظیم کو شدید نقصان پہنچا تھا اور اس طرح کے واقعات میں کافی کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ تاہم اگست 2020 کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان کے نئے امیر نور ولی محسود نے شدت پسند تنظیموں کے نو مختلف دھڑوں کو ٹی ٹی پی میں ضم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور اس کے نتائج اگلے چند ماہ میں نظر آنے لگے۔

اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس پاکستان بھر میں ٹی ٹی پی نے 95 حملے کیے جس کے نتیجے میں کم از کم 140 افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں سے 79 صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں کیے گئے۔ مگر سال 2021 شروع ہونے کے بعد حالات میں تبدیلی ہوتی نظر آئی۔ بالخصوص افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کے آغاز اور پھر حکومت میں آنے کے بعد سے پاکستان میں ایسے پرتشدد واقعات میں بہت تیزی دیکھی جا رہی ہے جن میں سے اکثریت کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق 2021 کے ابتدائی چھ مہینوں میں جہاں تحریک طالبان نے 44 حملوں کا دعویٰ کیا تھا، وہیں یکم جولائی سے لے کر 15 ستمبر یعنی ڈھائی ماہ میں ایسے حملوں کی تعداد 53 ہے جن میں ٹی ٹی پی نے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کو شدید جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ صرف اگست 2021 میں تحریک طالبان کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کو شمار کریں تو ان کے مطابق اگست میں 32 حملے کیے گئے جن میں کل 52 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ کالعدم تنظیم کے دعوؤں کے مطابق مبینہ طور پر ستمبر کے مہینے کی 15 تاریخ تک کم از کم 19 حملوں میں کم از کم 53 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں 158 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک واضح اکثریت قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

ایسے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا مطلب ریاست پاکستان کی جانب سے اپنی شکست تسلیم کرنا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صدر عارف علوی کی جانب سے ہتھیار ڈال دینے پر معافی دینے کے بیان پر تحریک طالبان پاکستان نے بڑے دو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے اور ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی۔ ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں حکومت پاکستان کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے الٹا ریاست کو معافی دینے کی مشروط پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر پاکستان میں شرعی نظام نافذ کرنے کا وعدہ یا ارادہ کیا جائے تو ہم اپنے دشمن کے لیے معافی کا اعلان کر سکتے ہیں لہٰذا اس حقیقت میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، اور ٹی ٹی پی والے بھی افغان طالبان کی طرف پاکستان پر قبضہ جمانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ پاکستانی ریاست نے گذشتہ 20 سالوں میں کم از کم 10 مرتبہ اسلامی شدت پسند تنظیموں، بالخصوص ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدے کیے ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی مستقل امن کا راستے بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ لہٰذا تحریک طالبان کے ساتھ معاہدہ کر کے اسے ایک نئی زندگی دینے کی بجائے اس کا قلع قمع کرنا ہی اصل حل ہے جیسا کہ نیشنل ایکشن پلان میں طے کیا گیا تھا۔

Back to top button