طوفان نے سندھ کی بھٹکی ہوئی بلائنڈ ڈولفنز کو کیسے بچایا؟

https://youtu.be/GvUPvXm8WQ4
حال ہی میں گلاب نامی طوفان آنے کے بعد دریائے سندھ سے بھٹک کر مخلتف نہروں میں آ جانے والی کئی انڈس بلائنڈ ڈولفنز کو محکمہ وائلڈ لائف سندھ نے واپس دریائے سندھ میں پہنچا دیا ہے جبکہ مزید کئی ڈولفنز ابھی مختلف نہروں میں موجود ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف سندھ کے ذرائع کے مطابق حال ہی میں گلاب نامی طوفان کے باعث سندھ کے کئی شہروں میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں۔ بارش کے بعد سندھ کی اکثر نہریں بند کردی جاتی ہیں۔ تازہ بارشوں کے دوران بھی کچھ نہریں پہلے اور کچھ بعد میں بند کر دی گئیں۔ چنانچہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بند کی گئی نہروں میں بلائنڈ سندھ ڈولفنز کی تلاش کا کام شروع کیا گیا اور کئی ڈولفنز کو ڈھونڈ کر واپس دریائے سندھ میں ڈال دیا گیا۔
سکھر ڈویژن میں تعنیات ڈپٹی کنزرویٹر محکمہ وائلڈ لائف سندھ عدنان حمید خان کے مطابق اس وقت دریائے سندھ سے ملحق نہروں میں پانی کافی ذیادہ ہے دریا کے بہاؤ کے برابر بہہ رہا ہے اس لیے بلائنڈ ڈولفنز کا راستہ بھٹک کر نہروں میں چلے جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلائنڈ ڈولفنز کے راستہ بھٹک کر نہروں میں جانے کی اطلاعات محکمے کو ان ڈولفنز کی نگرانی کے وضع کردہ نظام کی بدولت ملی تھیں جس کے بعد ہی بلائنڈ ڈولفنز کو تلاش کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔
ڈولفنز کی نگرانی کے نظام کے تحت سندھ کے مختلف مقامات پر ڈیوٹی کے لیے تعنیات اہلکار، مقامی لوگ اور مچھیرے شامل ہیں۔ عدنان خان کا کہنا تھا کہ ’جس بہاؤ سے دریا سے نہروں میں پانی چھوڑا جا رہا تھا اسے دیکھ کر ہمارا پہلا اندازہ تو یہی تھا کہ کسی بھی ڈولفن کی مدد کرنا جنوری 2022 سے پہلے ممکن نہیں ہوگا مگر سندھ میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے نہروں میں ایک دو روز پانی نہ چھوڑے جانے کی وجہ سے ہمیں آپریشن کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ میں دریائے سندھ کے ساتھ ملحق ایک لاکھ آٹھ ہزار کلومیٹر پر محیط نہری نظام ہے۔ ہمیں اپنے نگرانی کے نظام کے تحت پتا چلا کہ معدومیت کے خطرے سے دوچار درجن بھر بلائنڈ ڈولفنز کون کون سی نہروں میں کہاں کہاں موجود ہیں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت نہروں میں پانی اپنی پوری مقدار میں چھوڑا جا رہا تھا۔ کئی مقامات پر یہ نہریں سو فٹ تک گہری ہیں۔ ان میں درخت اور پتھر پڑے ہوئے ہیں جہاں آپریشن کرنا کسی بھی طور ممکن نہیں ہے کیونکہ اس سے غوطہ خور اور تیراک کی زندگی خطرے میں پڑسکتی ہیں، لیکن اس کے باوجود محکمہ وائلڈ لائف سندھ کے اعلی حکام نے فیصلہ کیا کہ ان کی ٹیم بھٹکی ہوئی ڈولفنز کی کڑی نگرانی کرے گی اور جب بھی موقع ملا ان کو مدد فراہم کی جائے گئی۔ اس دوران طوفان گلاب کے اثرات پاکستان اور سندھ تک پہنچ گئے۔ چنانچہ ہم نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور نہروں کو فی الفور بند کرتے ہوئے ڈولفن کو ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا۔
وائلڈ لائف کے افسر عدنان حمید خان کا کہنا تھا کہ کئی بلائنڈ ڈولفنز نہر میں پچاس کلو میٹر نیچے کی طرف موجود تھیں۔ ہمارے اہلکار ڈولفنز کو نگاہ میں رکھ کر دس بارہ کلومیٹر پیدل چلے کیونکہ یہ انھیں واپس دریا میں لانے کا اچھا موقع تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ڈولفن ریسیکو ٹیم کے اہلکار موجود تھے۔ ڈولفن کو مدد فراہم کرنے کے لیے زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں تیراک اور غوطہ خور درکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہنگامی بنیادوں پر مقامی لوگوں اور مچھیروں سے مدد طلب کی گئی۔ پھر ڈولفن کو مدد فراہم کرنے والے تمام آلات یعنی سٹریچر اور گاڑیوں وغیرہ کو موقع پر پہنچایا گیا، جال لگائے گئے۔
عدنان حمید خان کہتے ہیں کہ ڈولفن کو مدد فراہم کرنے کا آپریشن بہت حساس ہوتا ہے۔ ڈولفن پانچ سے آٹھ منٹ کے درمیان ایک مرتبہ پانی کی سطح پر سانس لیتی اور چھوڑتی ہے۔ جب یہ دوڑ رہی ہو، تناؤ یا کشیدہ صورتحال کا شکار ہو تو یہ دورانیہ دو سے اڑھائی منٹ پر محیط ہوجاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس دوران اگر وہ پانی کے نیچے جال میں پھنس جائے تو دو منٹ میں اس کی موت واقع ہوسکتی ہے۔ چنانچہ جب ڈولفنز جال میں پھنسیں تو ریسکیو ٹیم نے 15 سیکنڈز کے اندر انہیں کھینچ کر پانی سے باہر نکال لیا تھا۔ اسطرح ڈولفنز کو مرنے کے خطرے سے بچا لیا گیا۔ لیکن اسکے بعد ڈولفنز کو خشکی پر محفوظ رکھ کر دریا میں پہنچانے کا مرحلہ درپیش تھا جس کے لیے خصوصی طور پر پانی کی ٹینکی کا انتظام کیا گیا جس میں دریائی پانی کے علاوہ کوئی دوسرا پانی استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ پانی کی ٹینکی کے اندر گدا بچھایا جاتا ہے۔ اس پر فوم لگایا جاتا ہے پھر اس پر ڈولفن کو لٹا کر تولیے میں لپیٹا جاتا ہے تاکہ دھوپ سے اس کی موت نہ ہو۔ تولیے میں لپٹی ڈوکفن پر متواتر پانی ڈالا جاتا ہے۔ چنانچہ کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد ڈولفنز کو دریا کے سپرد کردیا گیا اور یوں انکی جانیں بچا لی گئی۔ یاد رہے کہ بلائنڈ ڈولفنز زیادہ عرصہ نہر میں زندہ نہیں رہ پاتیں۔
سندھ وائلڈ لائف حکام کے مطابق 2019 میں دریائے سندھ میں انڈس ڈولفنز کی تعداد 1420 تھی جب کہ 2009 میں یہ تعداد 900 کے لگ بھگ تھی۔ مگر نئے سروے کے مطابق اس وقت انکی کی تعداد 1900 کے لگ بھگ ہو سکتی ہیں۔ تاریخی طور پر انڈس ڈولفن دریائے ستلج، جہلم، راوی اور چناب میں بھی پائی جاتی تھیں۔ گڈو اور سکھر بیراج تک دریائے سندھ کا علاقہ انڈس ڈولفن کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ جہاں ڈولفن کا شکار مکمل ممنوع ہے اور محکمہ اس حوالے سے انتہائی سخت کارروائی کرتا ہے۔
