عاصم باجوہ کو اپنے کئے کا حساب دینا پڑے گا

مسلم لیگ ن کےصدر اورقائد حزب اختلاف شہباز شریف کاکہنا ہےکہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، ہم 36 سال سے احتساب کو بھگت رہے ہیں اب عاصم باجوہ کو اپنے کئے کا جواب دینا پڑے گا.
کراچی سے لاہور پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق الزام لگا کر زیادتی کی،اپوزیشن نے ایوان میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر سب سے زیادہ شور مچایا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزيشن اور مودی کو ایک پیج پر وہ شخص کہہ رہاہےکہ جوکہتا تھاکہ مودی کوفون کررہاہوں لیکن وہ فون نہیں اٹھارہا،مودی جیت گیا تو مسئلہ کشمیرحل ہوجائےگا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو ان کے باہر نکلنے پر اعتراض ہے اور وہ سوچ رہے ہیں کہ مجھے دوبارہ کیسے جیل میں ڈالیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ کراچی کےعوام بارش میں ڈوب گئے لیکن وفاق نے سندھ حکومت کے خلاف سیاست کے علاوہ کچھ نہ کیا اور وہ کراچی میں کہیں نظر نہیں آئی، تاہم ہم کراچی کے عوام کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مہنگائی کی بات کرے تو ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ اپوزیشن این آر او مانگتی ہے، اگر اپوزیشن چینی، آٹے، غربت، بے روزگاری کی بات کرے تو کہتے ہیں اپوزیشن این آر او مانگتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نیازی اپوزیشن کے ساتھ انتقام کے بجائے معیشت پر توجہ دیتے تو صورتحال مختلف ہوتی، ہمیں دیوار سے لگا کر جھوٹے الزامات کی بنیاد پر پابند سلاسل کیا گیا اور ظلم کا بازار گرم کیا گیا، جبکہ حمزہ شہباز کو اس لئے گرفتار کرکے جیل میں رکھا ہوا ہے کیونکہ وہ ان کا بیٹا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا سے واپس آئے تو عمران خان نے کہا کہ ورلڈ کپ جیت کر آئے، کنٹینر پر کھڑے ہو کر غداری کا طعنہ دیا گیا لیکن جب کشمیر پر مودی نے ناجائز قبضہ اور لاک ڈاؤن کیا تو سب سے زیادہ بات اپوزیشن نے کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب عمران خان کو میرے باہر نکلنے پر بہت اعتراض ہے، وہ سوچ رہے ہیں کہ اب شہباز شریف کو کیسے دوبارہ جیل میں ڈالیں، عمران خان بغض سے بھرے اور کینہ پرور ہیں اور ان میں انتقام کی آگ سلگ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے، میں نے، مریم اور حمزہ نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا تو حکومتی عہدیداروں کو بھی احتساب کے لیے پیش کرنا چاہیے، عمران خان کی کابینہ کے لوگ کرپشن میں مبتلا ہیں اور خود کو دودھ کا دھلا کہتے ہیں۔
شہباز شریف کاکہنا تھاکہ بارشوں نےکراچی میں خاصی تباہی مچائی ہے، وزیراعظم کاکام تھاکہ وہ اس وقت کراچی میں بیٹھتے اور سندھ حکومت کےساتھ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے، سندھ حکومت اپنے طورپرکوشش کررہی ہےلیکن وفاق کی جانب سے صرف لفاظی کی گئی،ہم کل کراچی میں سارا دن گھومتے رہے لیکن وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آئی۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم مہنگائی اورعوامی مسائل کی بات کرتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم این آر او مانگتے ہیں، اگر نواز شریف وزیراعظم ہوتے تو وہ کراچی میں ڈیرے لگائے ہوتے لیکن عمران خان ابھی تک کراچی نہیں گئے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے معاملے میں عدالت کا حکم سرآنکھوں پرلیکن ہم عدالتوں سے بھاگے کب ہیں، جب ڈاکٹر اجازت دیں گے تو وہ عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کابینہ کے لوگ کرپشن میں مبتلا ہیں اور خود کو دودھ کا دھلا کہتے ہیں،نواز شریف،میں، مریم اور حمزہ نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا تو حکومتی عہدیداروں کو بھی خود کو قانون کے سامنے پیش کرنا چاہیے. شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ حمزہ شہباز سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری کا مقصد اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگانا ہے لیکن عمران نیازی جان لے کہ کچھ بھی ہو جائے وہ اس کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے. شہباز شریف کا مزیدکہنا تھا کہ میں نے کراچی میں آصف زرداری کی عیادت کی اور وہاں کچھ سیاسی باتیں بھی ہوئی ہیں،آج رہبر کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں اے پی سی کا ایجنڈا طے کیا جائے گا،اس کے وقت کا تعین تمام جماعتیں کریں گی۔
