عاصم باجوہ کو NRO دینے کی بجائے JIT تحقیقات کا مطالبہ


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ مسترد کر کے انہیں این آر او دیے جانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اپوزیشن قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف عائد سنگین الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے غلام مین سٹریم میڈیا نے اس مطالبے کا مکمل بلیک آؤٹ کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک حالیہ انٹرویو میں ملک میں آزاد صحافت کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس مین سٹریم میڈیا پرلیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بیرون ملک اربوں ڈالرز کے اثاثوں کے معاملے کا پاکستانی مین سٹریم میڈیا پر مسلسل بلیک آؤٹ جاری ہے. یاد رہے کہ 2 ستمبر کو الجزیرہ ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے اس تاثر کی سختی سے نفی کی تھی کہ آج کے پاکستان میں صحافت پر پابندیاں عائد ہیں اور صحافی شدید خطرے میں ہیں۔ تاہم سچ یہ ہے کہ باجکو گروپ کا بیرون ملک اربوں ڈالرز کے اثاثے نکلنے کا سکینڈل 27 اگست کو منظر عام پر آنے کے باوجود اگلے دس روز تک مین سٹریم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو اس بارے کسی بھی قسم کی کوئی خبر دینے یا تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر باجوہ لیکس کا ٹرینڈ زوروں پر تھا۔ اس حوالے سے مین سٹریم میڈیا پر پہلی خبر تین ستمبر کو تب منظر عام پر آئیں جب چیئرمین سلیم باجوہ نے ٹی وی پر آ کر اپنے عہدے سے استعفی دینے اور خود پر لگے الزامات کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس روز عاصم سلیم باجوہ خود پر لگے الزامات کا دفاع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ انٹرویو کے دوران اپنے خاندان کی منی ٹریل مانگے جانے پر جواب دینے کی بجائے کلین بولڈ ہوگئے۔ لیکن کیا بات ہے وزیراعظم عمران خان کی جنہوں نے کہ نہ صرف عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ مسترد کردیا بلکہ یہ بھی ڈکلئیر کیا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے اثاثوں کے بارے میں جو وضاحت دی ہے میں اس سے مکمل طور پر مطمئن ہوں۔ پاکستان کے تمام نیوز چینلز اور بڑے اخبارات نے عاصم سلیم باجوہ کے استعفے اور وزیر اعظم کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کی خبروں کو بھرپور کوریج دی۔ تاہم جب ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت نے وزیر اعظم کے اس فیصلے کی مذمت شروع کی تو پاکستانی مین سٹریم میڈیا کو دوبارہ سے سانپ سونگھ گیا اور اب پھر سے یوں لگتا ہے جیسے عاصم سلیم باجوہ کا کبھی کوئی اسکینڈل مارکیٹ ہوا ہی نہیں تھا۔
بلاول بھٹو سے لے کر مریم نواز تک پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت نے عاصم باجوہ پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے لیکن ان مطالبات کو مین سٹریم میڈیا پر جگہ نہیں مل سکی۔ مریم نواز نے عمران خان کی جانب سے عاصم باجوہ کا استعفیٰ قبول نہ کیے جانے پر کہا ہے کہ اگر عمران یہ استعفیٰ منظور کر لیتے تو پھر انھیں خود بھی مستعفی ہونا پڑتا۔ مریم نواز نے لکھا کہ: ‘احتساب کا بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا۔ عمران اگر یہ استعفیٰ منظور کر لیتے تو خود بھی مستعفی ہونا پڑ جاتا۔ مریم نے کہا کہ آج پتہ چلا کہ این آر او کیوں اور کیسے دیا جاتا ہے، کس کو دیا جاتا ہے، ایک دوسرے کو دیا جاتا ہے، قوم کو سمجھانے کا شکریہ۔ لیکن آپ کو جواب تو پھر بھی دینا پڑے گا! اب لو گے احتساب کا نام؟’
دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ مسترد کیا ہے بلکہ ان کی اثاثوں بارے وضاحت پر اظہار اطمینان بھی کیا ہے۔ بلاول نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیراعظم فوری طور پر عاصم سلیم باجوہ سکینڈل کی تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بناتے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس ملک میں سیاست دانوں اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے لیے احتساب کے دوہرے معیار اپنائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹی وی چینل پر اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا تاہم انھوں نے کہا تھا کہ وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔ عاصم باجوہ نے یہ اقدام اپنے اوپر لگائے جانے والے اُن الزامات کے پس منظر اٹھایا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کے کاروبار کی تفصیلات بطور مشیرِ اطلاعات اپنے جاری کیے گئے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیں۔
اس سے پہلے سینئر صحافی احمد نورانی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عاصم باجوہ اور ان کے خاندان کے مالی وسائل میں اضافہ ان کے اہم عہدوں پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا اور اب ان کے خاندان کے بیرون ملک اثاثوں کی مالیت تقریبا ایک ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ عاصم باجوہ نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی لیکن تقریبا ہر الزام کو مانا اور موقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹوں کی کمپنیاں تو خسارے میں جا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی بیوی کے اثاثہ جات کو ڈکلیئر نہ کرنے کی وجہ تو بتا دی لیکن یہ نہیں بتایا کہ خاتون خانہ کے اربوں ڈالرز کے اثاثوں کی منی ٹریل کیا ہے؟ جمعرات کی شام انھوں نے تفصیلی پریس ریلیز میں اپنے پر لگائے گئے الزامات کا تفصیلی جواب دیا ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ ایک صارف عادل انجم نے سوال اٹھایا ہے کہ جنرل عاصم کی وضاحت کے مطابق ان کے بیٹوں کی کمپنیاں منافع کیوں نہیں دکھا رہیں اور کہیں وہ گھوسٹ کمپنیاں تو نہیں ہیں۔صارف سندھو نواز کا کہنا تھا تھا کہ کیا ایک ایسا شخص جس کی ساکھ کے بارے میں سنجیدہ سوال اٹھے ہیں، سی پیک اتھارٹی جیسے اہم اور حساس منصوبے کا سربراہ رہ سکتا ہے؟
یاد رہے کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ پاکستانی فوج میں ایک نہایت زیرک افسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ بریگیڈیئر کے طور پر ٹرپل ون بریگیڈ، منگلا کور میں چیف آف سٹاف، بطور میجر جنرل جی او سی ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر جنوبی وزیرستان میں تعینات رہے۔ وہ مئی 2012 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر تعینات ہوئے اور دسمبر 2016 تک اسی عہدے پر رہے۔آئی ایس پی آر میں وہ پہلے تھری سٹار افسر تھے جنھوں نے اس عہدے پر تقریباً سوا سال خدمات سرانجام دیں۔کچھ مدت کے لیے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انھیں آئی جی آرمز تعینات کیا جس کے بعد وہ بطور کور کمانڈر سدرن کمان کوئٹہ تعینات ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انھیں سی پیک اتھارٹی کا سربراہ مقرر کیا اور پھر انھیں معاون خصوصی برائے اطلاعات کا عہدہ بھی دے دیا۔
تاہم یہ حقیقت ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کا بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات تقرر اب تک موجودہ حکومت کے لئے نیک نامی کی بجائے بدنامی کا باعث ہی بن رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button