نواز شریف علاج مکمل کروا کر ہی وطن واپس آئیں گے

مسلم لیگ ن کے قائدین نے نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق پارٹی مؤقف کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نواز شریف علاج مکمل کروا کر ملک واپس آئیں گے۔
لاہور میں پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹری جنرل احسن اقبال، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ سمیت دیگر رہنماوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف کو درخواست کی جائے گی کہ معالجین کی اجازت ملنے تک وہ اپنا علاج جاری رکھیں اور علاج مکمل کروانے کے بعد ہی واپس آئیں ۔
مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف بیرون ملک گئے تو کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں علاج کی سہولتیں معطل رہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ نواز شریف کی صحت پر عدلیہ بھی ان چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھے گی ۔نواز شریف نے اپنی بیمار اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑا کر قانون کی عملدرای کے لئے وطن واپس آئے تھے ۔ جوں ہی ڈاکٹروں نے ان کے مکمل علاج کا سرٹیفکیٹ دیا تو وہ فورا واپس آ جائیں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کی غیرموجودگی میں ان کے مقدمات کی قانونی پیروی جاری رہ سکتی ہے۔پارٹی کی متفقہ رائے سے یہ فیصلہ کر کے نواز شریف کو اپنا علاج مکمل کروانے کی درخواست کی جا رہی ہے۔نواز شریف کی صحت و زندگی کا فیصلہ ٹی وی شوز میں نہیں ہو سکتا۔ نواز شریف کے علاج کی رپورٹس عدالت میں جمع کروا دی گئی ہیں اور آئندہ بھی کرا دی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت علاج کے لئے ملی تھی ۔جب معالجین صحت یابی کا فیصلہ کریں گے تو ہی وہ واپس آئیں گے ۔عدالتی معاملات پر ہماری قانونی ٹیم ہی فیصلہ کرے گی۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ میاں نوازشریف ملک کا اثاثہ ہیں،ان کی صحت پرسیاست ہوسکتی ہے نہ سمجھوتہ۔۔انہیں عدالت نےعلاج کرانےکی اجازت دی۔نوازشریف کےمعالجین اجازت دینگےانہیں کب واپس آناچاہیے.
اے پی سی کے حوالے سے رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں مسلم لیگ ن کی تجاویز پر دوبارہ اجلاس ہو گا ۔ہم اس حکومت کو اتنا موقع دینا چاہتے ہیں کہ عوام ان حکمرانوں کی اصلیت دیکھ لیں ۔آج عوام کو حکومت کی اصلیت پتہ چل گئی ہے۔انڈہ مرغی سے شروع ہونے والی معیشت اب بھنگ معیشت تک پہنچ گئی ہے۔عمران خان کی کابینہ میں جو لوگ بیٹھے ہیں، ان کے بارے میں دونوں آپس میں کیا کہتے رہے ہیں وہ دیکھ لیں۔ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) چٹان کی طرح متحد ہے،پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں. انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کی صحت اور علاج کے حوالے سے موجودہ صورتحال پر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی ہیں اور تمام تر تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔’عدالت نے ان کو اجازت کسی کانفرنس یا سیاحتی دورے کے لیے نہیں دی تھی، خصوصی اجازت حکومت کی طرف سے تمام تسلی کرنے کے بعد دی گئی تھی کہ انہیں سنگین جان لیوا صوتحال کا سامنا ہے اور اس پر اجازت ملی تھی جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ جیسے ہی ان کے معالجین سرٹیفکیٹ دیں گے کہ علاج مکمل ہو گیا ہے، تو وہ واپس آ جائیں گے’۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم ان کو اتنا موقع دینا چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی حقیقت اور اصلیت جانتے ہیں، یہ لوگوں کو خواب دکھا کر لائے تھے کہ 200ارب ڈالر یہاں سے آئے گا، 3ہزار ارب ڈالر کی کرپشن بند ہو کر یہاں سے آئے گا، ایک کروڑ نوکری اور 50لاکھ گھر آئے گا تو لوگوں کو ان کی اصلیت پتہ چل جائے اور اب لوگوں کو ان کی اصلیت پتہ لگ گئی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ جو جماعت ایک نکاتی ہو وہ مسلم لیگ ن کی طاقت کا اندازہ نہیں لگا سکتی، پاکستان مسلم لیگ ن کا ایک قائد ہے جس کا نام نواز شریف ہے اور ان کی قیادت میں گلگت سے گوادر تک مسلم لیگ(ن) ایک چٹان کی طرح متحد ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست پر نواز شریف کو 10 ستمبر کو اگلی سماعت سے قبل سرنڈر کرنے حکم دیا ہے بصورت دیگر کے ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
