کیا سابق صحافی ساجد گوندل بھائی لوگوں کی زیر حراست ہے؟


اسلام آباد سے پراسرار حالات میں اغوا ہونے والے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ساجد گوندل کے وکلاء اور گھر والوں نے کہا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں اور انہیں یقینا حسب روایت نامعلوم افراد نے ہی لاپتہ کیا ہے اور وہ بھائی لوگوں کی زیر حراست ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ساجد گوندل کو ایک ریٹائرڈ جرنیل کے اثاثوں کے بارے میں سینیئر صحافی احمد نورانی کو مبینہ طور پر معلومات فراہم کرنے کی پاداش میں اغوا کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ساجد گوندل ماضی میں شعبہ صحافت سے وابستہ تھے اور ڈان اخبار کے لیے کام کرتے تھے۔ 3 ستمبر کو وہ کسی کام کے لئے گھر سے باہر نکلے لیکن شام کو ان کی گاڑی اسلام آباد کے شہزاد ٹاؤن میں واقع محکمہ زراعت کے تحقیقاتی مرکز کے قریب کھڑی ملی۔ تاہم پولیس ابھی تک انھیں بازیاب کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ساجد گوندل کی بوڑھی اور دکھیاری ماں نے بیٹے کی بازیابی کے لیے سینئر وکیل جہانگیر خان جدون ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور حبس بے جا کی درخواست دائر کی۔ 5 ستمبر کو اس کیس کی ہنگامی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ پیر 7 ستمبر کی صبح تک ساجد گوندل کو بازیاب کر کے عدالت میں پیش کریں ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت سے آئے دن کبھی صحافی اور کبھی سرکاری ملازم اغوا ہو رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس طرح معاملہ نہیں چل سکتا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو بھی اسلام آباد سے اغوا کر لیا گیا تھا جس کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پولیس حکام کو سینئر صحافی کی فوری بازیابی کے احکامات جاری کیے تھے۔ تاہم نامعلوم افراد نے مطیع اللہ جان کو اسی رات رہا تو کر دیا تھا لیکن ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک پولیس اس بات کا تعین نہیں کرسکی کی اغوا کار کون تھے؟ دوسری جانب سوشل میڈیا پر سیاسی اور صحافتی حلقے ساجد گوندل کی فوری رہائی کا فوری مطالبہ کر ر ہے ہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان کا اصرار ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے اگر کوئی صحافی چند گھنٹے کے لئے غائب ہوتا ہے تو اس کی وجہ وہ نہیں جانتے کہ اسکی وجہ کیا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئےایک انٹرویو میں جب وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ عالمی اور مقامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق انکے دور حکومت میں پاکستانی میڈیا شدید پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور صحافیوں کو اغواء اور ہراساں کیا جا رہا ہے تو وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت میں صحافیوں کو سب سے زیادہ آذادیاں حاصل ہیں۔ انہیں نے یہ بھونڈا دعوی بھی کیا کہ پاکستان میں میڈیا پر کوئی قدغن نہیں ہے اور انکی حکومت اظہار آزادی رائے پر یقین رکھتی ہے، انہوں نے ایک اور لطیفہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بد قسمتی سے آج انکی حکومت اور وزرا خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں نا کہ میڈیا۔ مطیع اللہ جان کا نام لئے بغیر عمران خان نے کہا کہ ممکنہ طور پر ایک صحافی کو کچھ گھنٹوں کیلئے اٹھایا گیا تھا لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صحافی احمد نوارانی کو انکی عاصم باجوہ سے متعلق خبر پر دھمکی آمیز کالز کا سامنا ہے۔ سابق صحافی ساجد گوندل کے اغوا کے حوالے سے اسلام آباد کے باخبر حلقے خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ اس کارروائی کے پیچھے بھی بھائی لوگ ہی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ فیکٹ فوکس میں باجکو گروپ کے بارے میں چھپنے والی تہلکہ خیز سٹوری کے لئے احمد نورانی کو اہم معلومات ساجد گوندل نے فراہم کی ہوں گی۔ تاہم فیکٹ فوکس اور نورانی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ایس ای سی پی میں ان کا سورس ساجد گوندل ہرگز نہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق پاکستان میں مالیاتی اور کاروباری اداروں کے نگران ادارے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق صحافی ساجد گوندل کے 3 ستمبر کی شام کولاپتہ ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ادھر ساجد گوندل کی والدہ عصمت بی بی نے اپنے بیٹے کی ‘نامعلوم’ اغوا کاروں کے چنگل سے بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جہانگیر خان جدون کے ذریعے پٹیشن دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا بیٹا 3 ستمبر کو شام ساڑھے 7 بجے اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں واقع اپنے گھر سے اپنی سرکاری گاڑی میں روانہ ہوا جس کا رجسٹریشن نمبر جی اے ای-496 ہے لیکن پھر گھر واپس نہیں آیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی کار محکمہ زراعت کے تحقیقاتی مرکز کے نزدیک سڑک پر پارک ہوئی ملی۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ 2 روز گزرنے کے باوجود ساجد گوندل کا کچھ اتا پتا نہیں چلا، درخواست گزار ایک غریب فرد ہوتے ہوئے اپنے بیٹے کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہی ہیں لیکن پولیس حکام ان کے لاپتہ بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات دینے سے گریزاں تھے۔ عدالت میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ اپنے بیٹے کی تلاش میں ناکامی پر درخواست گزار کو سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کیا کرے اور بے بس ہے اور درخواست گزار یہ معاملہ اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت کے علم میں لانا چاہتی ہیں۔ درخواست گزار نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شاید ان کے بیٹے کو شاید ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہو کیوںکہ ان کا ابھی تک کوئی اتا پتا نہیں اور ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ پٹیشن کے مطابق ساجد گوندل ایک سرکاری ملازم ہیں اور امکان ہے کہ انہیں ان کے فرائض کی انجام دہی کے سلسلسے میں اٹھایا گیا۔
عدالت کو دی گئی درخواست میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ پولیس اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام ہوگئی اور محسوس ہوتا ہے کہ ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنے سے گریزاں ہے۔پٹیشن میں کہا گیا کہ ‘اغوا درخواست گزار کے آئین کی دفعہ 4، 9 اور 10 اے میں دئیے گے بنیادی حقوق کے خلاف ہے’۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کہ گئی کہ فریقین کو طلب کیا جائے جس میں وزارت دفاع اور داخلہ کے سیکریٹریز، انسپکٹر جنرل پولیس اور شہزاد ٹاؤن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر شامل ہیں، اور انہیں ساجد گوندل کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔علاوہ ازیں ساجد گوندل کی والدہ نے سیکریٹری داخلہ کو ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کی بھی استدعا کی جو شہریوں کی زندگی اورعزت کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے۔
ساجد گوندل کے لاپتہ ہو جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ‘صحافیوں کے تحفظ’ کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔ خیال رہے کہ ساجد گوندل ماضی میں ڈان سے وابستہ رہ چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ٹوئٹر صارفین حال ہی میں صحافی مطیع اللہ جان کی گمشدگی کے واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے ساجد گوندل کی جلد بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری بطور حکومت یہ ذمہ داری ہے کہ ان کی جلد بازیابی یقینی بنائیں۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ہر شہری کا تحفظ ہمارے آئین کا حصہ ہے۔ قانون کی بالادستی ضروری ہے۔وسیم عباسی نامی ٹوئٹر صارف نے اپنے ٹویٹ میں ساجد گوندل کے چار بچوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ایس ای سی پی کے اسلام آباد سے اغوا ہونے والے افسر ساجد گوندل کے بچے ابھی تک ناشتہ نہیں کر رہے بابا کے بغیر امید ہے وزیراعظم عمران خان ایک حکومتی افسر اور شہری کے بچوں کو باپ سے ملوانے کے لیے اقدامات کریں گے۔محمد عاصم خان نامی صارف نے لکھا کہ ‘ساجد گوندل ایک انتہائی نفیس انسان، اعلی پیشہ ورانہ خوبیوں کا حامل فرض شناس افسر ہے، اس نے بطور رپورٹر بھی انتہائی غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے اپنے فرائض ادا کیے۔ اس کا اغواء نہایت ہی افسوسناک اور ہمارے قومی کردار پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اللہ اس کی حفاظت فرمائے،آمین۔’
عمر فاروق عباسی نے ویراعظم عمران خان کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے طنز کیا کہ ‘ساجد گوندل بھی آزاد صحافت زندہ مثال ہیں۔ایک اور صارف عمران خانزادہ نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ‘عمران خان کہتے ہیں کہ ان کی دو سال کی حکومت میں کوئی اغوا نہیں ہوا۔ ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق رپورٹر ساجد گوندل کو اغوا کر لیا گیا۔ ایک اور صارف عمران اشنا نے لکھا کہ ‘ہمارے دوست صحافی کہتے ہیں کہ ساجد گوندل کو جہاں سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا وہاں سے تھانہ بنی گالہ محض 100، 150 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ کیا پولیس کو اس واقعے کا ابھی تک علم بھی ہے یا نہیں؟ سوشل میڈیا پر تو ٹرینڈ تک بن گیا۔ مصنف عائشہ صدیقہ نے ٹویٹ کیا کہ ساجد گوندل کے اغوا سے واضح ہوتا ہے کہ فوج نے اپنے ہی عوام پر مسلط جنگ مزید تیز کردی ہے۔ یہ کس قدر شرمناک بات ہے کہ جنہیں عوام کی حفاظت کے لئے تنخواہ دی جاتی ہے وہی لوگ اپنے چند سرکردہ افراد کے مالی فائدے کے لئے عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان حالات میں سب کے ذہنوں میں یہی سوال ابھر رہا ہے کہ ساجد گوندل آخر کب آزاد ہوگا اور کون اسے بازیاب کروائے گا؟؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button