عبدالقدوس بزنجو کے بلامقابلہ وزیر اعلیٰ بننے کا امکان


جام کمال کے مرکزی حریف اور سابق سپیکر عبدالقدوس بزنجو کے بلامقابلہ وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہونے کا واضح امکان پیدا ہو گیا ہے جسکی بنیادی وجہ تحریک انصاف کے وزارت اعلی کے امیدوار یار محمد رند کی جانب سے ان کی حمایت کا اعلان ہے جبکہ دوسری طرف سابق سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کے مد مقابل کسی بھی رکن اسمبلی نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے جس کے بعد عبدالقدوس بزنجو کے 29 اکتوبر کو بلامقابلہ قائد ایوان منتخب ہونے کا روشن امکان ہے. تاہم وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کیلئے قدوس بزنجو کو کم از کم 33 اراکین اسمبلی حمایت حاصل کرنا ہو گی.
یاد رہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے یار محمد رند نے وزارت اعلیٰ کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک نے اعلان کیا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو اس عہدے کے لیے پی ٹی آئی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے مشترکہ اُمیدوار ہوں گے۔
گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے نئے قائد ایوان اور اسپیکر کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 29 اکتوبر کو طلب کرلیا۔
65 اراکین پر مشتمل ایوان میں بی اے پی کے 24 رکن صوبائی اسمبلی ہیں جس نے عبدالقدوس کو وزیراعلیٰ بلوچستان جبکہ میر جان محمد خان جمالی کو اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کردیا ہے۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے سردار یار محمد رند کو وزیراعلیٰ جبکہ بابر خان موسیٰ خیل کو اسپیکر کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ تاہم سردار یار محمد رند، سینیٹر سعید احمد ہاشمی، بی اے پی کے قائم مقام صدر میر ظہور احمد بلیدی اور عبدالقدوس بزنجو کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی قائد ایوان کے عہدے کے لیے بی اے پی امیدوار کی بھرپور حمایت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بلوچستان عوامی پارٹی کی اتحادی ہے اور 2018 کے انتخابات کے بعد جب بلوچستان میں مخلوط حکومت بنی تھی تو اس نے اس کی حمایت کی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بی اے پی اور پی ٹی آئی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی اتحادی ہیں اور بی اے پی وفاقی سطح پر مشترکہ حکومت میں شراکت دار بھی ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ وہ خود پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ برداشت نہیں کریں گے کہ اس کی بلوچستان قیادت کو پالیسی معاملات میں نظرانداز کیا جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اُمید ہے کہ پی ٹی آئی کو مستقبل میں بی اے پی کے اتحادی کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جائے گا جیسا کہ پچھلی حکومت نے کیا تھا اور اُمید ہے کہ اسے وہ عزت اور احترام دیا جائے گا جس کی وہ بطور اتحادی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئی حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کرتی تو صوبائی رہنما سردار یار محمد رند کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہوں گے لیکن ہمیں اُمید ہے کہ نئی حکومت اپنے امور مشاورت اور اتفاق رائے سے چلائے گی۔
پرویز خٹک نے قائد ایوان اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے لیے حمایت کرنے کی درخواست قبول کرنے پر یار محمد رند کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ گزشتہ غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی اور بلوچستان کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک اچھی حکومت قائم کی جائے گی۔
علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی نے بھی میر عبدالقدوس بزنجو اور میر محمد خان جمالی کی حمایت کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔
دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی نئی حکومت میں شامل نہیں ہو گی۔ یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کے 11 اور سردار اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی کے 10 ارکان اسمبلی ہیں۔ دونوں جماعتیں اگرچہ حزب اختلاف کا حصہ ہیں تاہم انہوں نے جام کمال کے خلاف عبدالقدوس بزنجو کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے نئی حکومت میں شامل ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ابھی تک کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔ جام حکومت میں شامل ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی بھی اپنا موقف بدلتے ہوئے عبدالقدوس بزنجو کے کیمپ میں چلی گئی ہیں اور ان کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ سابق اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی جام کمال کی حمایتی تھی۔
بی اے پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت علماء اسلام نے اے این پی کی نئی حکومت میں شمولیت کی مخالفت کی ہے۔
تاہم عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ وہ این پی کو اپنی حکومت کا لازمی حصہ بنائیں گے۔

Back to top button