عثمان بزدار 5سال میں لکھ پتی سے ارب پتی بن گئے

سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی عجب کرپشن کی غضب کہانی،5سال کے دوران لکھ پتی سے ڈائریکٹ ارب پتی بن گئے۔

سردار عثمان بزدار کے کاغذات  نامزدگی میں جمع کرائے ریکارڈ کے مطابق 2018میں عثمان بزدار کے پاس 7لاکھ 62ہزار کے اثاثے تھے ۔عثمان بزدار نے 2024میں اثاثوں کی مالیت 55کروڑروپے ظاہر کی۔3سال میں عثمان بزدار کے اثاثوں میں 4500کنال اراضی کااضافہ ہوا۔

دستاویزات کے مطابق عثمان بزدار کی ہزاروں کنال اراضی کی مارکیٹ ویلیو 4ارب روپے کے قریب ہے ۔سابق وزیراعلیٰ نے 2224کنال زمین صرف 62لاکھ روپے میں حاصل کی۔1698کنال صرف 13ہزارروپے فی کنال کے حساب سے خریدی۔سیکڑوں کنال اراضی موضع گزلی لکھری ڈ ی جی خان میں ظاہرکی۔203کنال زمین کوہ سلیمان،35کنال خانیوال،1کنال پلاٹ ڈی جی خان میں موجودہے۔

دستاویزات کے مطابق 2کروڑ روپے مالیت کی گاڑیاں بھی عثمان بزدار کے نام پر ہیں۔پراپرٹی ،سونا اورمویشیوں کی مالیت ساڑھے 3کروڑ روپے ہے۔2سال میں 3900کنال اراضی،15پلاٹس گاڑیاں،بینک بیلنس بڑھا۔2019میں عثمان بزدار کے پاس اڑھائی کروڑ کے اثاثے تھے۔2019میں عثمان بزدار کی ملکیتی اراضی میں 163کنال کا اضافہ ہوا۔2020میں عثمان بزدارکےاثاثوں کی مالیت ساڑھے3کروڑ روپے تھی۔2020میں 199کنال زمین اورمالیت میں 1کروڑ روپے اضافہ ہوا۔

نیب ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر اربوں روپے خردبردکا بھی الزام ہے۔

عثمان بزدار کے بھائی جعفربزدارکے مطابق عثمان بزدار نے اثاثے جائز ذرائع سے حاصل کئے۔

ذرائع کے مطابق عثمان بزدارنے فرح گوگی اور طاہرخورشید کے ذریعے گھپلے کئے۔بطوروزیراعلیٰ فرح گوگی اورطاہرخورشید کے ذریعے خودبرد کی۔آئی جیزاور ڈی سیز کے تبادلوں کیلئے بھی رشوت لینے کا انکشاف ہوا۔

Back to top button