عثمان مرزا جوڑا ہراسانی کیس میں گھناؤنے انکشافات

https://youtu.be/Pp6zKjAdCeI

اسلام آباد میں ایک لڑکے اور لڑکی کو گن پوائنٹ پر ننگا کر کے انکی ویڈیو بنانے کے کیس میں یہ گھناونے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ملزموں نے درندگی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے جوڑے کو برہنہ کر کے تشدد کیا اور پھر انہیں جنسی عمل کرنے پر مجبور کیا جسکی ویڈیو بھی بنائی گئی۔ یہ انکشافات کیس کی پولیس چالان رپورٹ میں سامنے آئے ہیں جس کے بعد مرکزی ملزم عثمان مرزا کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون کے فلیٹ میں لڑکا اور لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے، ان کی برہنہ ویڈیو بنانے اور انھیں جنسی عمل پر مجبور کرنے کے مقدمے میں پولیس نے تفتیش مکمل کر کے مقامی عدالت میں چالان جمع کروا دیا ہے۔ مقدمے کی تفتیش میں بھی عثمان مرزا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔مقامی عدالت میں جمع کروائے گئے چالان میں بتایا گیا کہ عثمان مرزا نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اسلحہ کے زور پر نہ صرف جوڑے کو برہنہ کیا بلکہ اس حالت میں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ چالان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان نے جوڑے کو زبردستی جنسی عمل پر مجبور کیا اور اسکی برہنہ حالت میں ویڈیو بھی بنائی جوکہ بعد ازاں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی گئی۔

مقدمے کا چالان جمع کروانے کے بعد عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 28 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن عطا الرحمان کی سربراہی میں قائم ہونے والی پولیس کی ٹیم نے اپنے تفتیشی چالان میں بتایا کہ عثمان مرزا نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے نہ صرف انھیں حبس بےجا میں رکھا بلکہ ان کو زنا کرنے پر بھی مجبور کیا۔پولیس کی تفتیشی ٹیم نے اس چالان میں متاثرہ لڑکی اور لڑکے کے بیانات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے جو انھوں نے مقامی مجسٹریٹ کے سامنے دیئے تھے۔

مجسٹریٹ کے سامنے متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم عثمان نے اسے اپنے منگیتر کے ساتھ جنسی عمل کرنے کا کہا اور ایسا نہ کرنے پر اجتماعی زیادتی کرنے کی دھمکی دی۔متاثرہ لڑکی کے بیان کے مطابق ملزم عثمان کے دوست بھی یہی دھمکی دے رہے تھے۔ واضح رہے کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم عثمان مرزا، محب بنگش، ادریس قیوم بٹ، فرحان شاہین اور عطا الرحمن اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ عمر ، بلال اور مروت ضمانت پر ہیں۔ اس چالان میں پولیس نے لڑکی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمرے میں موجود زیادہ تر افراد نے اس کے منگیتر پر تشدد کیا اور اسے برہنہ ہونے پر مجبور کیا جس کے بعد ملزمان نے انھیں آپس میں جنسی عمل کرنے پر بھی مجبور کیا۔

لڑکی نے بیان میں یہ بھی کہا کہ کمرے میں موجود افراد اسکے جسم کے مختلف حصوں کو چھوتے رہے اور اس کے ساتھ ویڈیو بھی بناتے رہے، پولیس نے مرکزی ملزم عثمان مرزا کے بیان کو بھی چالان کا حصہ بنایا ہے جس میں انھوں نے دوران تفتیش پولیس کے سامنے انکشاف کیا کہ 18 اور 19 نومبر 2020 کی درمیانی رات میں یہ ویڈیو بنائی گئی تھی۔ پولیس کی جانب سے اس مقدمے کی تفتیش کے بعد جو چالان عدالت میں پیش کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کی نشاندہی پر ویڈیو بنانے والا موبائل فون اور ڈرانے کے لیے استعمال کیا گیا پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔اس چالان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم پستول کا لائسنس پیش نہیں کر سکا جس پر الگ سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

چالان میں یہ بھی کہا گیا کہ دوران تفتیش ملزم عمر بلال نے انکشاف کیا کہ عثمان مرزا کے کہنے پر متاثرہ لڑکے اور لڑکی سے 11 لاکھ 25 ہزار روپے لیے جس میں سے چھ لاکھ روپے عثمان کو دیئے گئے جبکہ باقی رقم دیگر ساتھیوں میں تقسیم کی گئی۔ اس چالان میں یہ بھی کہا گیا کہ رواں برس چھ جولائی کو سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے اپنی مدعیت میں تھانہ گولڑہ میں ایف آئی آر درج کر کے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن عطا الرحمان کے مطابق اس جوڑے نے سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شادی کر لی ہے۔پولیس کے مطابق وقوعہ سے پہلے ان دونوں کی منگنی ہو چکی تھی اور لڑکی نوکری کے لیے انٹرویو دینے کے سلسلے میں لاہور سے اسلام آباد آئی تھی۔

پولیس کے مطابق لڑکی نے اپنے منگیتر سے کہا تھا کہ وہ اس کی رہائش کا بندوبست کرے جس کے بعد متاثرہ لڑکے نے اپنے دوست سے کہہ کر کچھ دیر کے لیے فلیٹ کی چابی لی جو کہ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ فلیٹ ملزم عثمان مرزا کی ملکیت ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اس واقعے کا نوٹس لیا تھا اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو طلب کر کے انھیں ہدایت کی تھی کہ وہ خود اس مقدمے کی تفتیش کی نگرانی کریں ، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس واقعے میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

Back to top button