عدالت نے آئین کی تشریح کرنے کی بجائے ترمیم کیسے کردی؟

سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا 17 مئی کا فیصلہ تنقید کی زد میں ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ عدالت نے ایک پارلیمانی نظام میں منحرف رکن کا ووٹ کاؤنٹ نہ کرنے کی رولنگ دے کر آئین کی تشریح کرنے کے بجائے اس میں ترمیم کر دی ہے جس کا اسے اختیار نہیں تھا۔ اسکے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عدالت نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا راستہ بھی ہمیشہ کے لیے بند کر دیا یے جو کہ فہم سے بالا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنی متنازعہ رولنگ میں قرار دیا ہے کہ منحرف رکن تا حیات نا اہل نہیں ہو گا لیکن اس کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا۔ لیکن دو ججوں نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اختلافی نوٹ لکھا ہے۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ ’انحراف کرنے والے رکن کا ووٹ شمار ہو گا لیکن پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ اس پر قانون سازی کرے۔‘ اختلافی نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’آرٹیکل 63 اے میں ڈی سیٹ کے بعد رکن کے پاس سپریم کورٹ سے رجوع کا آپشن موجود ہے، آرٹیکل 63 اے کی اس سے زیادہ تشریح آئین دوبارہ لکھنے کے مترادف ہوگی اور صدر مملکت نے سپریم کورٹ سے دوبارہ آئین لکھنے سے متعلق رائے نہیں مانگی ہے۔‘
ان دو ججز کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ وہ اکثریتی فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے۔لکھا کہ ’آرٹیکل 63 اے انحراف اور اس کے نتائج پر مکمل ضابطہ ہے، کسی رکن کے انحراف پر الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کے ڈیکلریشن کے مطابق ڈی سیٹ کرتا ہے۔‘ناختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر کے ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات میں کوئی جان نہیں۔ ’لہذا ان سوالات کا جواب ناں میں دیا جاتا ہے، اگر پارلیمنٹ مناسب سمجھے تو منحرف ارکان پر مزید پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔‘ قانونی امور کی ماہر ریما عمر کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آئین کی تشریح کرنے کی بجائے اس میں ترمیم کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے میں جماعت کی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر رکن اپنی سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا لیکن یہ کہیں نہیں لکھا کہ ووٹ کا شمار نہیں ہو گا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ کی یہ تشریح آئین میں ترمیم کے مترادف ہے اور سپریم کورٹ کے پاس آئین کو ازسرنو لکھنے کا اختیار نہیں ہے۔
ریما عمر نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جماعت کی ہدایات کے برخلاف جماعت کے سربراہ کے خلاف ڈالا گیا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔ ’لیکن فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سربراہ کے حق میں ہونے والی ووٹنگ میں اگر کوئی ان کا اپنا رکن ہدایت کے برخلاف ووٹ ڈالنا ہی نہ چاہے اور احتراز کرے تو پھر قانون کیا کہتا ہے؟ کیا ووٹ نہ ڈالنا بھی انخراف تصور ہو گا؟‘ بظاہر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اب جماعت کا رکن صرف زبانی اختلاف کر سکتا ہے لیکن جماعت کے خلاف عدم اعتماد ووٹ میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ جماعت کے سربراہ کی پالیسی سے اختلاف ہے تو استعفی دے سکتا ہے۔ یو وزیراعظم یا وزیر اعلی کے خلاف ایک پارلیمانی نظام میں عدم اعتماد کا حق ختم کر دیا گیا۔
سابق وزیر داخلہ اور ماہر قانون اعتزازحسن کے مطابق اس فیصلے نے جماعت کے اندر رہتے ہوئے جماعت سے اختلاف کا حق ختم کر دیا ہے۔ یا تو استعفی یا پھر دوسری جماعت میں شمولیت ہی رکن کے لیے آپشن چھوڑا گیا ہے۔ لیکن سینیئر قانون دان سلمان اکرم راجہ اس حوالے سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔نانہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں اکثریت سے اقتدار میں آنے والی جماعت کے سربراہ کے خلاف عدم اعتماد کا پھر بھی ایک آپشن موجود ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ نے 63 اے کی تشریح میں معاملہ پارلیمانی پارٹی پر چھوڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پارلیمانی پارٹی اکثریت کے ساتھ اپنے منتخب وزیراعظم پر عدم اعتماد کرتی ہے تو اس صورت میں بھی وزیراعظم اکثریت کھو دیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کو انخراف کہا جائے گا یا نہیں؟ اور کیا ان کا ووٹ شمار ہو گا؟ تو سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی تشریح میں اقلیتی تعداد کے ووٹ کا شمار نہیں ہو گا۔ لیکن جب ایک جماعت ہے اور اس کے اکثریتی اراکین مطمئن نہیں اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اعتماد کا اظہار نہیں کرتے اور اسمبلی سیکرٹریٹ کو آگاہ کر دیں تو یہ ایک طریقہ پھر بھی موجود رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کو انخراف نہیں کہیں گے۔ کیونکہ جماعت کی اکثریت ہی جب سربراہ کے حق میں نہیں تو جماعت کے سربراہ کی اتھارٹی نہیں رہے گی۔
اس بارے میں سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلہ بالکل غلط ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’آرٹیکل 186 کہتا ہے کہ یہ فیصلہ ہے ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کی رائے ہے، جس پر اگر عمل درآمد نہیں بھی ہوتا تو توہین عدالت نہیں ہے۔ انہوں نے صرف تین ججوں کی اکثریت سے ایک رائے دی ہے’۔ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دینا جمہوری و آئینی طریقہ ہے یا اب جرم سمجھا جائے گا؟اس پر سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ جب آرٹیکل 95 موجود ہے تو وہ اراکین کو حق دیتا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ’صرف 63 اے کی قدغن شاید کافی نہ ہو۔‘
اس نکتے پر عرفان قادر نے کہا کہ اراکین اسمبلی کا یہ آئینی حق ہے کہ وہ اعتماد کے ووٹ میں احتراز کریں یا عدم اعتماد میں اپنا ووٹ سربراہ کے مخالف دیں۔ انکا۔کہنا یے کہ ووٹ کاسٹ ہونے اور نتائج کے بعد انحراف طے ہو گا تو پھر ووٹ سے پہلے منخرف ہونا طے کیسے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی طریقہ کار موجود رہے گا یہ بالکل جرم نہیں ہے۔
اسی طرح دوسرا نکتہ سپریم کورٹ کا اپنا فیصلہ ہے جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں تین رکنی بینچ نے سنایا تھا۔ بینچ میں شامل چیف جسٹس عمرعطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب بھی شامل تھے۔ اس کے تحریری فیصلے میں درج ہے کہ ’اگر کوئی پارٹی یا اس گا نامزد امیدوار بائیکاٹ کرتا ہے اور اس کے اراکین کسی اور کو ووٹ دیتے ہیں تو وہ انخراف تصور نہیں ہو گا۔
سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بھی جو حال ہی میں تحریک انصاف کے منخرف اراکین کے ریفرنس خارج کیے اور کہا کہ 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا 2018 کا اپنا فیصلہ واضح ہے کہ اگر جماعت پارلیمان میں کسی کارروائی یا انتخابی کارروائی کا بائیکاٹ کرتی ہے چاہے جماعت کے سربراہ نے کوئی ہدایات جاری کی ہوں یا نہیں، لیکن جب جماعت نے بائیکاٹ کر دیا یا جماعت کی جانب سے نامزد امیدوار بائیکاٹ کر دے تو اس کے بعد اگر کچھ اراکین اپنی مرضی سے ووٹ دے دیں تو اسے انخراف نہیں سمجھا جائے گا۔
