شہباز شریف بطور وزیر اعظم ناکام کیوں ثابت ہو رہے ہیں؟

وزیر اعظم شہباز شریف کو اقتدار میں آنے کے بعد سے جن دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں پہلا ملکی معیشت کو بہتر بنانا اور دوسرا عمران خان کے امپورٹڈ حکومت کے سازشی بیانیے کو کاؤنٹر کرنا ہے۔ تاہم ابھی تک شہباز ان دونوں محاذوں پر ناکام ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ معیشت بہتر بنانے کی بجائے اب تک اتوار بازاروں کے دورے کرنے اور چینی اور آٹے کی قیمتیں چیک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ عمران کی اقتدار سے رخصتی اور شہباز شریف کو وزیر اعظم بنے ایک مہینہ ہو چکا لیکن فیصلہ سازی کے فقدان اور بگڑتی ہوئی معیشت سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ن لیگ سخت معاشی فیصلے کرنے سے گھبرا رہی ہے جس کے نتیجے میں ڈالر پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو سو روپے کی قدر کراس کر گیا ہے۔ چنانچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلی پنجاب جو عزت کمائی تھی وہ بطور وزیراعظم گنوانے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی جانب سے فوری نئے الیکشن کے مطالبے کی حمایت کرتی نظر آتی ہے لیکن اتحادی حکومت ایسا کرنے سے انکاری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فوری الیکشن کروانے کا مطلب یہ ہو گا کہ نیا آرمی چیف اگلی حکومت لگائے گی لہذا شہباز حکومت یہ رسک لینے کے موڈ میں نظر نہیں آتی کہ عمران اگلا الیکشن جیت کر فیض حمید کو آرمی چیف بنا دے۔
عمران مخالف عدم اعتماد کی تحریک سے پہلے شہباز شریف، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن ملک کو گمبھیر مسائل سے نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے دعوے کرتے تھے۔ لیکن ایک ماہ گزر چکا ہے اور ابھی تک اتحادی حکومت اس بات کا فیصلہ نہیں کر پائی کہ حکومت کتنا عرصہ چلانی ہے اور عمران خان کی جانب سے دی گئی پیٹرول سبسڈی ختم کرنے کا غیرمقبول لیکن ناگزیر فیصلہ کرنا ہے یا نہیں۔ معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عادل شاہ زیب کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات تب تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں۔ دوست ممالک سعودی عرب اور یواے ای تب تک معاشی مدد نہیں کریں گے جب تک ہمارے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے نہ پا جائیں۔
دوسری جانب سیاسی عدم استحکام دیمک کی طرح معیشت کو چاٹ رہا ہے۔ تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ روپے کی قدر انہی حالات کی وجہ سے گر رہی ہے، لیکن فیصلہ سازی میں ہچکچاہٹ جوں کی توں موجود ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سمیت اہم وفاقی وزرا کی تین دن لندن میں نواز شریف کی سربراہی میں بیٹھک ہوئی اور توقع کی جا رہی تھی کہ وطن واپسی پر شہباز شریف فوری طور پر حکومت کی مدت اور پیٹرولیم سبسڈی سے متعلق ابہام ختم کر دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ ان کی واپسی پر اس وقت نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ کیوں نہ اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔ لیکن بعض اتحادی جماعتیں فوری طور پر الیکشن کے حق میں نہیں۔ یہ تمام صورت حال معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ عادل شاہ زیب کے مطابق ن لیگ کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معیشت کو سنبھالنے اور سخت فیصلے کیے بغیر انتخابات میں جانا حکومت کرنے میں ناکامی کے بعد راہ فرار اختیار کرنے کے مترادف ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے عدم اعتماد سے پہلے پیٹرولیم سبسڈی دی تھی اور ن لیگ سمیت تمام اتحادی جماعتوں کو معلوم تھا کہ حکومت میں آتے ہی پہلا کام سبسڈی کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ اگر آپ ایسے فیصلوں کے لیے تیار نہیں تھے تو پھر حکومت بنانے کا فیصلہ ہی کیوں کیا؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کے فوراً بعد ہی انتخابات کا اعلان کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے۔ اس وقت ملکی معیشت واقعی وینٹی لیٹر پر ہے، اگر اس کی حالت مزید بگڑتی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت وقت پر ہی عائد کی جائے گی۔ لہٰذا حکومت وقت کو تیل پر فوراً سبسڈی ختم کر کے آئی ایم ایف پروگرام میں جانا چاہیے تاکہ مارکیٹ میں اعتماد واپس آئے۔ روپے کو سہارا مل سکے اور بجٹ پیش کیا جائے۔ اس کے بعد بے شک انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔ لیکن دوسری جانب عادل شاہ زیب کے مطابق شہباز حکومت سمجھتی یے کہ موجودہ حالات میں فوری انتخابات کا اعلان سیاسی اور معاشی عدم استحکام کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے۔ شہباز شریف کے لیے چیلنج اس وقت صرف معیشت سنبھالنا نہیں بلکہ عمران کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے مقابلے میں ایک متبادل بیانیہ بھی دینا ہے جس میں اب تک ان کے ترجمان ناکام نظر آئے ہیں۔
عمران خان کا نام نہاد امریکی سازش کا بیانیہ درست ہے یا غلط اس سے قطع نظر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ نہ صرف بڑے جلسے کر رہے ہیں بلکہ عوام میں ان کا بیانیہ جڑیں پکڑ رہا ہے حالانکہ آج پاکستان کو جس سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ پچھلی حکومت کی ناکامی ہے۔ اس وقت حکومتی جماعتوں کی قیادت میں کسی نے عمران خان کو سنجیدگی سے چیلنج کیا ہے تو وہ مریم نواز ہیں۔ دوسری جانب عمران مسلسل اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کر رہے ہیں اور اسے اپنے دباؤ میں لانے اور فوری الیکشن کروانے کے ایجنڈے پر ساتھ ملانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اگرچہ فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے اپنے ادارے کا پروفیشنل انداز میں دفاع تو کیا ہے لیکن یہ کام حکومت وقت کا ہے، جو ابھی تک عمران کے مقابلے میں کوئی بیانیہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اتحادی حکومت اسی طرح سخت اور ناگزیر فیصلے کرنے سے گھبراتی رہی تو عمران خان کو کسی اور بیانیے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ تحریک انصاف اتحادی حکومت کی معیشت سنبھالنے میں ناکامی کی ذمہ داری بھی اسٹیبلشمنٹ پر یہ کہہ کر ڈالے گی کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کا نقصان ملکی معیشت کو پہنچا۔ اس وقت شہباز شریف کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ان کا ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر ہونے کے تاثر کو قائم رکھنا ہے۔ ان کی طرز حکمرانی کی پنجاب میں مثالیں دی جاتی ہیں، لیکن یہ چند ہفتوں میں اندازہ ہو جائے گا کہ کیا وہ اسلام آباد میں اپنی حکمرانی کی دھاک بٹھا پائیں گے۔
اگر وہ اس تاثر کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ابہام سے نکل کر انہیں فوری سخت فیصلے کرنے پڑیں گے جس کی یقینی طور پر ان کی جماعت کو سیاسی قیمت تو چکانی پڑے گی، لیکن اگر وہ ان مشکل حالات میں ڈیلیور کرگئے تو یہ ان کے سیاسی کریئر کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
عادل شاہ زیب کے مطابق دن میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے اور حکومتی منصوبہ بندی کے ماہر شہباز شریف میں یقیناً ڈیلیور کرنے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن انہیں پہلے اپنی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر اٹھنے والے سوالات کا جلد جواب دینا ہوگا۔ حالات یقینا ان کے پنجاب میں حکمرانی والے نہیں ہیں یہاں ان کے ہاتھ کچھ بندھے بھی ہوئے ہیں۔
