اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو نکالا ہے یا مسلسل پالا ہے؟


اس عمومی تائثر کے برعکس کہ عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی میں پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے، سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تو آج دن تک عمران کا تحفظ کر رہی ہے۔ سلیکٹر اور اسکے سلیکٹڈ کا حوالہ دیتے ہوئے حماد کہتے ہیں کہ دیو مالا کے کردار محیرالعقول ہوتے ہیں لیکن ان میں بھی ایسا کوئی خالق مذکور نہیں جو اپنی مخلوق کے سامنے سجدہ ریز ہو جائے، بلا شبہ ہماری سیاست میں اساطیر سے کہیں زیادہ پیچاک ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ہماری ایجنسیوں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ ہر نئے سویلین وزیرِ اعظم کی ’دل چسپیوں‘ کی فائل روزِ اول سے انتہائی لگن سے مرتب کی جاتی ہے اور بہ وقتِ ضرورت اس کے منتخب پارچے میڈیا یا نئی حکومت کے سپرد کر دیے جاتے ہیں، پھر بدنامیاں ہوتی ہیں، مقدمے بنتے ہیں اور عدالتوں کے چکر شروع ہو جاتے ہیں، اب ان حالات میں سیاست کسی نے خاک کرنی ہے، حکومت سے نکلنے والوں کو اپنی پڑ جاتی ہے، اور اس طرح نئی حکومت کو قدم جمانے کا بھرپور موقع دیا جاتا ہے۔

مگر حماد غزنوی کے بقول، اس بار تو سارا اسکرپٹ ہی بدلا ہوا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ فائلیں تو عمران کی بھی بنی ہوئی ہیں، کافی ضخیم فائلیں، مگران کی حفاظت لگ بھگ ایسے ہی کی جا رہی ہے جیسے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی کی گئی تھی، نئی حکومت کو اس کی ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی۔ عمران خان کی مبینہ کرپشن کی اگرکوئی جھلک باہر آئی بھی ہے تو وہ کسی رپورٹر کی تحقیق کا ثمر ہے یا سیدھے سادے حکومتی ریکارڈ کا حصہ، جیسے توشہ خانہ یا ایک ارب کے ہیلی کاپٹر کے خرچے کی کہانی، القادر یونی ورسٹی کی زمین و عطیات وغیرہ۔ فرح گوگی کی مبینہ کرپشن کی داستانِ ہوش ربا کی تفصیلات، راولپنڈی رنگ روڈ اور درجنوں ایسے اسکینڈلز سے عمران کو محفوظ رکھا جا رہا ہے۔

لہٰذا بقول حماد غزنوی، عمران خان کو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نہیں نکالا، یہ تو طے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ابھی لوگ ’تحفظِ عمران مہم ‘ کے منظر میں ہی الجھے ہوئے تھے کہ یکدم خبر آئی ہے کہ مقتدرہ موجودہ حکومت کو جلد الیکشن کا مشورہ دے رہی ہے، یعنی عمران کا دبائو بڑھانے کا نسخہ کام کر گیا اور ان کے فوری الیکشن کے بنیادی مطالبے کو طاقتور حلقوں نے تسلیم کر لیا۔ ویسے مقتدرہ پر دبائو کیا ہے؟ عمران نے کیا دبائو ڈالا ہے؟ جلسے عمران کر ر ہے ہیں تو مریم نواز بھی کر رہی ہیں، عمران خان سے بڑے جلسے نہیں کر رہیں تو ان سے چھوٹے بھی نہیں کر رہیں، کوئی یک طرفہ جلسے تو نہیں ہو رہے، پھر یہ کون سا دبائو ہے؟ اگر بات بگڑتی ہوئی معاشی حالت کے دبائو کی یے تو معاشی حالت تو بگڑنی ہی تب شروع ہوئی جب موجودہ اتحادی حکومت کو پیغام دیا گیا کہ آپ پٹرول پر آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق سبسڈی ختم کریں، اگلا بجٹ پیش کریں، اور الیکشن کا اعلان کر دیں۔ مگر نواز شریف نے اسے سیاسی خود سوزی قرار دیتے ہوئے صاف انکار کر دیا، اتحادیوں کا یہ موقف صائب نظر آتا ہے کہ یا تو ان تلخ فیصلوں کے بعد ایک سال حکومت چلے ورنہ یہ پڑی ہے آپ کی حکومت، خود ہی سنبھالیے۔ تو مقتدرہ نے اس بحران کی بنیاد کیوں رکھی؟

حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ کانسپریسی تھیوری کے۔مطابق یہ سارا کھیل رچایا ہی اس لیے گیا ہے کہ عمران کی کھوئی ہوئی مقبولیت بحال کی جائے اور اسے دو تہائی اکثریت سے حکومت تھما دی جائے۔ راقم تو اس سازشی تھیوری سے اتفاق نہیں کرنا چاہتا مگر شرط یہ ہے کہ اس سوال کا کوئی معقول جواب دیا جائے۔ وہ بھائی لوگوں سے پوچھتے ہیں سر، آپ پرآخر دبائو کیا ہے؟ ہاں یہ درست ہے کہ عمران خان نے فردِ واحد پر دبائو ڈالا ہے، پوری قوم کے سامنے ڈالا ہے، بلا خوفِ ردِعمل ڈالا ہے، جانور سے غدار تک، اور ہینڈلرز سے میر جعفر تک بہت سے حرفِ دشنام براہِ راست استعمال کئے، سوشل میڈیا پر فردِ واحد کے خلاف غلیظ مہم چلائی گئی، تو کیا یہ اس گالم گلوچ کا نتیجہ ہے کہ فردِ واحد دبائو میں آگیا ہے؟ یہ تو گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہ ہونے والی بات ہے۔ اچھا یہ بھی مان لیا کہ فوجی رینکس میں عمران کی حمایت موجود ہے اور اس کا اپنا ایک دبائو ہوتا ہے، تو پھر اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جائے؟ یہ حمایت و عقیدت تو اگر عمران خان آئندہ الیکشن ہار بھی جاتے ہیں تب بھی برقرار رہے گی، تو کیا پھر سے لانگ مارچ، پھر وہی دھرنے، اور پھر کوئی ظہیرالاسلام ثانی آئے گا؟

حماد غزنوی کے بقول، بچے تو وہی سیکھتے ہیں جو باپ کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، اور قرائن چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہے، منظر خوش نما نہیں ہے،پاکستان اور ایک نارمل ریاست کے درمیان فاصلہ بڑھتا نظر آ رہا ہے:

اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے حماد غزنوی کہتے ہیں کہ دیو مالا کے کردار محیرالعقول ہوتے ہیں لیکن ان میں بھی ایسا کوئی خالق مذکور نہیں جو اپنی مخلوق کے سامنے سجدہ ریز ہو جائے، بلا شبہ ہماری سیاست میں اساطیر سے کہیں زیادہ پیچاک ہیں۔

جنرل ضیاالحق نے جبذوالفقار علی بھٹو کو حکومت سے نکالا تو انہیں پھانسی گھاٹ تک پہنچانے کا بندوبست بھی کیا، جب پرویز مشرف نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت الٹائی تو ان کے لیے جیل اور جلاوطنی کا انتظام بھی کیا، اور جب مقتدرہ نے 2017 میں نواز شریف کو دوسری مرتبہ اقتدار سے نکالا تو پھر ان کے اور ان کی بیٹی کے لیے یہی اہتمام کیا گیا، یعنی جب طاقتور لوگ کسی منتخب وزیرِ اعظم کا تختہ الٹیں تو پھر مقدمے، عقوبت خانے یا پھانسی گھاٹ کا انصرام بھی انتہائی ذمہ داری سے فرماتے ہیں۔ اب پچھلے 40 دن کا احاطہ کیجیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا عمران کو اسٹیبلشمنٹ نے نکالا ہے؟ آپ صرف اس سے اندازہ لگائیے کہ ہماری تاریخ میں کسی سابق وزیرِ اعظم کو اتنی سکیورٹی نہیں دی گئی جتنی اس وقت عمران خان کو حاصل ہے۔ لہذا اگر یہ کہا جائے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران کو نکالا نہیں بلکہ مسلسل پالا ہے، تو بے جا نہ ہو گا۔

Back to top button