عراقی اوراتحادی افواج کی ایران کے حامی جنگجوؤں پر ایک اور حملے کی تردید

عراق میں ایران کے حامی جنگجوؤں پر ہونے والے ایک اور حملے میں 6 افراد جاں بحق اور 3 کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم امریکی اتحادی افواج اور عراقی فوج نے حملے کی تردید کی۔
ذرائع کے مطابق اس سے ایک روز قبل 3 جنوری کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی پیرا ملٹری کی اہم شخصیت ابو مہدی المہندس ہلاک ہوئے تھے۔
قتل کی یہ کارروائی امریکا اور ایران کے مابین پہلے سے جاری کشیدگی میں ڈرامائی اضافہ کرنے کا سبب بنی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود کہ وہ جنگ نہیں چاہتے امریکا نے مزید فوجی اہلکار عراق بھیجنے کا اعلان کردیا جبکہ عراقی شہریوں کو ڈر ہے کہ یہ لڑائی ان کی سرزمین پر لڑی جاسکتی ہے۔
دوسری طرف ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے عراقی پیرا ملٹری نیٹ ورک نے ایک بیان میں کہا کہ تقریباً 24 گھنٹوں بعد الحشد الشعبی سے تعلق رکھنے والے قافلے پر ایک اور فضائی حملہ کیا گیا۔اپنے بیان میں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ حملے کا ذمہ دار کون ہے البتہ عراق کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ امریکا کا فضائی حملہ تھا۔عراق کے عسکری گروہوں کے مرکزی گروپ پاپولر موبلائزیشن فورسز (حشد الشعبی) نے بتایا کہ بغداد میں کیمپ تاجی کے نزدیک ہونے والے حملے میں 6 افراد ہلاک جبکہ 3 شدید زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق عراق میں داعش کے خلاف امریکی سربراہی میں لڑنے والے فوجی اتحاد نے حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بغداد کے شمال میں کیمپ تاجی کے نزدیک کوئی فضائی حملہ نہیں کیا۔
دوسری جانب ایک بیان جاری کرتے ہوئے عراقی فوج نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ شمالی بغداد کے علاقے کیمپ تاجی میں کوئی فضائی حملہ نہیں ہوا۔
علاوہ ازیں گزشتہ روز امریکا کے فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی پیرا ملٹری فورس کے اہم کمانڈر ابو مہدی المہندس کے جنازے میں اہم شخصیات کے علاوہ ہزاروں افراد شریک ہوئے۔جنازے میں شریک افراد نے ایرانی کمانڈر کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور امریکا کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
