آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر اعلیٰ لیگی قیادت باہمی اختلافات کا شکار

آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر مرکزی لیگی قیادت میں بھی اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ نواز بیانیہ اپناتے ہوئے بل کی غیر مشروط حمایت پرشدید عوامی رد عمل سامنے آیا۔ مریم نواز نے بھی آرمی ایکٹ ترمیمی بل بارے پارٹی صدر کے فیصلے پر اپنے تحفظات میاں نواز شریف تک پہنچائے اور فیصلہ واپس نہ لینے پر پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کا بھی اشارہ دے دیا۔ پارٹی رہنماؤں کی طرف سے سخت ردعمل آنے کے بعد نواز شریف نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کرتے ہوئے پارٹی رہنماوں کو بل منظوری کے وقت کارروائی کا حصہ نہ بننے کی ہدایت کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق باہمی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر مریم نواز نے ایک ٹوئٹ کو لائک کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز کارکنان کا مان کبھی نہیں توڑیں گی مریم نواز شریف کا خیال ھے کہ سیاست چھوڑنا بہتر ھے اس بل کا حصہ بننے سے۔۔ وہ جمہوریت اور جمہور پسندوں کی امیدوں کا خون نہیں کریں گی۔ ٹوئٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مریم نواز سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ سو فیصد گارنٹی دے سکتا ہوں کہ مریم نوازشریف سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ سب پوچھتے ہیں مریم نوازشریف کیوں خاموش ہیں ۔ کسی کو نہیں معلوم کہ مریم نوازشریف اس وقت جو قید گزار رہی ہیں وہ اس قید سے زیادہ تکلیف دہ ہے جو قید انہوں نے جیل میں گزاری
مریم نواز نے اس ٹوئٹ کو لائک کرکے اپنا رد عمل دے دیا ہے کہ نہ تو ان سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے کوئی رائے لی گئی ہے اور نہ ہی وہ پارٹی کے اس فیصلے کی حمایت کرتی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت پر نہ صرف پارٹی کارکنان نالاں ہیں بلکہ شریف قیادت کے مابین بھی اس حوالے سے شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مریم نواز کی طرف سے بل بارے اعتماد میں نہ لئے جانے کی شکایت پر نواز شریف نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے بل کی حمایت پر یوٹرن لینے کے بعد ہی آج ہونے والا قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس ملتوی کیا گیا ہے۔
تاہم تاحال مسلم لیگ ن کی لندن میں موجود پارٹی قیادت کی طرف سے بل کے حوالے سے کوئی واضح رد عمل سامنے نہیں آیا حتیٰ کہ 3 جنوری کو میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد صحافیوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے سوالات پوچھے تو مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔ قائد ن لیگ نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ایک گھنٹے تک ملاقات جاری رہی۔ ملاقات کے بعد شہباز شریف نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔ صحافی نے سوال کیا کہ آرمی ایکٹ پر تنقید ہو رہی ہے، اپوزیشن لیڈر نے جواب میں کہا کہ آپ بھی تنقید کریں اور گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔
ایک طرف مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کا کہہ چکے ہیں جبکہ دوسری طرف میاں ناوز شریف کی طرف سے ترمیمی بل کی منظوری کا حصہ نہ بننے کی خبریں زیر گردش ہیں۔ اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کی آرمی ایکٹ ترمیمی بل کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
