پی ٹی آئی اور ن لیگ آرمی ایکٹ بل میں پارلیمانی قواعد نظرانداز کرنا چاہتی تھیں

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ آرمی ایکٹ بل میں پارلیمانی قواعد نظرانداز کرنا چاہتی تھیں۔دونوں جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا بل نہ تو اراکین اسمبلی کو دیا جائے گا اور نہ ہی کمیٹی میں بھیجا جائیگا
بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹر پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جب میں اسلام آباد پہنچا تو ن لیگ اور پی ٹی آئی آرمی ایکٹ کی غیرمشروط حمایت کرکے ایوانوں سے منظوری کا فیصلہ کرچکی تھیں، دونوں جماعتیں فیصلہ کرچکی تھیں کہ پارلیمانی قواعد و ضوابط کو نظرانداز کردیا جائے گا اور بل کو نہ تو تمام اراکین اسمبلی کو دیا جائے گا اور نہ ہی اسے کمیٹی کو دیکھنے کیلئے بھیجا جائیگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ تمام پارٹیاں بل کو واپس قومی اسمبلی کی کمیٹی میں بھیجنے پر متفق ہوئیں، دونوں ایوانوں کے قواعد و ضوابط کی پاسداری کے ساتھ یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھی نظرثانی کے لئے بھیجا گیا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پارلیمان سے اختیارات لینے والے تمام ادارے پارلیمانی بالادستی کو قبول کرکے ہم سے قانون سازی کا کہہ رہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ یہ مثبت اقدام ہے کہ ایک سال سے زائد عرصہ غیرفعال رکھی جانے والی پارلیمان قانون سازی کے لئے تیار ہے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ یہ ان کے لئے اہم کامیابیاں ہیں کہ جو پارلیمانی بالادستی اور جمہوریت کے لئے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button