عروسہ عالم کا بھارت چھوڑ کر پاکستان واپسی کا اعلان


بھارتی پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ کی محبت میں پچھلے 16 برس سے زیادہ تر انڈیا میں قیام پذیر پاکستانی صحافی عروسہ عالم نے ایک بڑے سیاسی تنازعے میں گھر جانے کے بعد پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی ریاست پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اور ان کی قریبی پاکستانی صحافی دوست عروسہ عالم کے حوالے سے آج کل گرما گرم سیاسی بحث جاری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ امریندر سنگھ کے سیاسی مخالفین نے عروسہ عالم کے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ رابطوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ امریندر سنگھ نے گزشتہ ماہ ہی وزارت اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور کانگریس چھوڑنے کے بعد ایک نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کر دیا گیا اور اس معاملے میں عروسہ عالم کو بھی گھسیٹ لیا گیا۔ اس سے پہلے امریندر سنگھ نے یہی الزام سابق کرکٹر اور کانگریس پنجاب کے صدر ناجوت سنگھ سدھو پر عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاکستانی آرمی چیف جنرل باجوا اور وزیراعظم عمران خان سے ذاتی مراسم ہیں اس لیے وہ ایک مشکوک شخص کو اپنی جگہ پنجاب کا وزیر اعلی نہیں بننے دیں گے۔ چنانچہ امریندر سنگھ نے تو استعفیٰ دے دیا لیکن وزارت اعلی سدھو کے ہاتھ بھی نہیں آئی۔ اب امریندر سنگھ کے سیاسی مخالفین ان کی دوست عروسہ عالم کے آئی ایس آئی کے ساتھ تعلقات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مطالبہ بھارت میں ایک ایشو بن جانے کے بعد اب عروسہ عالم نے بھارت میں اپنا 16 سالہ قیام ختم کرکے پاکستان واپس جانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اب وہ شاید کبھی بھارت واپس نہ آئیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت میں امریندر سنگھ کے ساتھ گزارے ہوئے حسین لمحات ان کی زندگی کا سرمایہ ہیں اور وہ خوش قسمت ہیں کہ امریندر نے ساری دنیا کی عورتوں کو چھوڑ کر ان سے دوستی کی۔ دوسری جانب امریندر سنگھ نے اپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگلے برس میں 80 سال کا ہو جاؤں گا جبکہ عروسہ عالم 70 برس کی ہو جائیں گی۔
یاد رہے کہ پاکستانی صحافی عروسہ عالم امریندر سنگھ کی خاص دوست ہیں اور وہ اکثر بھارت میں ہی رہتی رہی ہیں۔ لیکن اب امریندر سنگھ کے سیاسی مخالفین نے ایک نیا یہ الزام عائد کرنا شروع کیا ہے ک عروسہ عالم کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ ریاست پنجاب کے نائب وزیر اعلی سکھجندر سنگھ رندھاوا نے تو ان الزام کی تفتیش کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ جواباً امریندر سنگھ نے عروسہ عالم کی بہت سے ایسی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں، جس میں انہیں سونیا گاندھی اور سشما سوارج جیسے بڑے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ امریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ جو لوگ عروسہ پر خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہونے کا الزام لگا رہے ہیں وہ سب میری حکومت میں وزیر تھے اور تب انہوں نے ان سے متعلق کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عروسہ تو گزشتہ 16 برسوں سے بھارتی حکومت کی منظوری سے انڈيا آ رہی ہیں۔ امریندر سنگھ نے اپنے خلاف پنجاب سرکار کی تنقید پر کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ ریاستی سرکار اب ان کی دوست عروسہ عالم کا آئی ایس آئی سے بے بنیاد تعلق جوڑ رہی ہے۔ امریندر نے واضح کیا ہے کہ عروسہ حکومت ہند سے منظوری کے ساتھ گزشتہ 16 سال سے ہندوستان آرہی ہیں اور یہاں قیام کرتی ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے نائب وزیر اعلی سکھجندر رندھاوا پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ میری کابینہ میں وزیر تھے، تب آپ نے کبھی عروسہ عالم کے بارے میں شکایت نہیں سنی اور وہ 16 سال سے حکومت ہند کی منظوری کے ساتھ آرہی تھیں ۔ کیا آپ یہ الزام تو نہیں لگا رہے ہیں کہ اس دوران این ڈی اے اور کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومتیں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ ملی ہوئی تھیں؟
دوسری جانب عروسہ عالم نے اپنے خلاف بے بنیاد سیاسی بیان بازی پر سخت رد عمل دیتے ہوئے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور آئی ایس آئی سے تعلقات کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کانگریس کے سیاست دانوں سے وہ انتہائی مایوس اور بیزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت دکھی اور دل شکستہ ہوں اور پھر کبھی بھارت واپس نہیں آؤں گی۔
انڈین ایکسپریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں عروسہ عالم نے کہا کہ میں یقین نہیں کر سکتی کہ وہ اتنا نیچے گر سکتے ہیں۔ وہ کیپٹن امریندر کو شرمندہ کرنے کے لیے مجھے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں، کیا وہ اتنے دیوالیہ ہو چکے ہیں کہ انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مجھے بیچ میں لانے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں 16 برسوں سے، کیپٹن امریندر کی دعوت پر اور اس سے پہلے بطور ایک صحافی بھارت آتی رہی ہوں۔ کیا اب وہ اچانک میرے آئی ایس آئی کے روابط کے بارے میں جاگ گئے ہیں؟” انہوں نے کہا، "جب بھی کوئی پاکستان سے بھارت آتا ہے تو اسے کلیئرنس کے ایک بوجھل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ میرے معاملے میں بھی کبھی بھی کسی عمل کو نظر انداز نہیں کیا گیا اور تمام ضروری اسکریننگ کی گئی۔ بھارتی خفیہ ادارے راء، آئی بی، مرکزی وزارت داخلہ اور خارجہ، سب سے کلیئرنس لینی ہوتی تھی۔ وہ تو ویزہ فارم بھی آن لائن نہیں بھرنے دیتے۔ تو کیا ان کے خیال میں تمام بھارتی ایجنسیاں مجھے ایسے ہی بھارت آنے کیباجازت دے رہی تھیں؟”
عروسہ عالم نے امریندر سنگھ کی سیاست پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بہت اچھے دوست ہیں۔ میں ان کے لیے دعا کرتی ہوں۔ اتنی بڑی دنیا میں انہوں نے مجھے اپنا دوست منتخب کیا۔ مجھے اس پر بہت فخر ہے۔ میں نے ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔
عروسہ عالم نے ‘انڈیا ٹوڈے’ سے بات چیت میں کہا کہ ان کے امریندر سنگھ سے افیئر کے بارے میں جو باتیں ہو رہی ہیں وہ مکمل طور پر غلط ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ دونون روحانی ساتھی ہیں، محبت کرنے والے نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک مدت سے ساتھی رہے ہیں۔ جب میں پہلی بار ان سے ملی تھی تو میری عمر 56 برس کی تھی اور وہ تقریبا 66 کے تھے۔ اس عمر میں آپ کو عاشقوں کی تلاش نہیں ہوتی ہے۔ ہم دوست، ساتھی اور روحانی دوست رہے ہیں۔

Back to top button