عظمی کاردار نے مریم کو جپھی ڈالنے کی غلطی تسلیم کر لی

پی ٹی آئی چھوڑ کر نون لیگ کا پٹکا پہن کر مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی رکن پنجاب اسمبلی عظمٰی کاردار نے نو منتخب وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کو فرط جذبات میں گندے ہاتھوں کے ساتھ جپھی ڈالنے کی کوشش کرنے کی اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے۔ وضاحتی بیان کے باوجود سوشل میڈیا پر ان کی عزت کا جلوس نکالنے کا سلسلہ تاحال زوروشور سے جاری ہے۔
خیال رہے کہ نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حلف برداری کی تقریب کے بعد ایک ویڈیو کلپ تیزی کے ساتھ وائرل ہوا جس میں سوشل میڈیا کے صارفین نے غیر معمولی طور پر دلچسپی اور پسندیدگی کا مظاہرہ کیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے کے بعد جب مریم نواز ایوان میں آئیں تو ارکان اسمبلی نے انیں مبارک باد دی، مبارک باد وصول کرتے ہوئے مریم نواز کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ کلپ کے اس منظر میں نو منتخب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جب اپنی جماعت کی رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار کی نشست کے پاس سے گزر رہیں تھی تو انہوں نے مریم نواز سے بغلگیر ہونے کی کوشش کی وہ اپنے بازو ان کے گرد حمائل کرنا چاہ رہی تھیں لیکن اس سے پہلے وہ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو تیں مریم نواز ان کا ہاتھ ہٹا کر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ چند سیکنڈ کا کلپ آتے ہی ہر سو اس کے چرچے ہونے لگے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وائرل ویڈیو پر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔صحافی اکبر علی خان نے مریم نواز کی یہ ویڈیو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مبارکباد قبول، لیکن چل پرے ڈریس خراب نہ کر‘ایک اور ایکس صارف نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ ہم شاہی خاندان کے افراد ہیں، پلیز! ہاتھ مت لگائیں‘معین خان نامی ایکس صارف نے اپنی پوسٹ میں سابق پی ٹی آئی رکن اور ممبر قومی اسمبلی عظمٰی کاردار کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ پتہ چلا بھارت کیوں چاند پہ جا پہنچا ہے؟‘
آمنہ زبیر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ عظمٰی کاردار کا موئے موئے ہو گیا‘عبید بھٹی نامی ایکس صارف نے لکھا کہ ’ کسی انسان میں رتی برابر خودداری اور عزت نفس کی رمق باقی ہو تو ڈوب مرے۔ لیکن عظمیٰ کاردار ان جذبات سے قطعی عاری محسوس ہوتی ہیں اس لیے بار بار ایسی بے عزتی کے باوجود چپکی پڑی ہیں۔ ہائے مجبوریاں‘
صحافی مغیث علی لکھتے ہیں کہ ’فاصلہ رکھیں ،کپڑے خراب نہ کریں‘۔
دوسری جانب چونکہ یہ منظر وہاں موجود دیگر شرکاء نے بھی دیکھا تھا اور سوشل میڈیا پر اس کلپ کہ دھوم مچ گئی جس پر عظمیٰ کاردار نے فوری طور پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہامیرے ہاتھ گندے تھے اس لئے مریم نواز نے میرا ہاتھ پیچھے کردیا تھا اور مجھے بھی فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔
عظمیٰ کاردار نے گاڑی میں بیٹھے ہوئے اپنی ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ابھی ایک ویڈیو کلپ دیکھا ہے، جھوٹ کی فیکٹریاں چلانے والے اسے وائرل کر رہے ہیں۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں صبح وہاں بیٹھ کر ناشتہ کر رہی تھی، حلوہ پوری کھا رہی تھی، پیچھے سے مریم صاحبہ آئیں، انہوں نے سلام کیا تو جذبات میں آ کر مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ میرے ہاتھ آئل سے تر ہیں۔میں اٹھ کر ان سے گلے ملی۔ پھر اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرے ہاتھوں میں تو تیل لگا ہوا ہے۔ پھر میں نے خود ہی اپنا ہاتھ نیچے کر لیا اورخود ہی پیچھے ہٹ گئی، مگر کچھ جھوٹ کی فیکٹری چلانے والے پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ مجھے زیادہ محتاط ہونا چاہیے تھا۔
عظمیٰ کاردار نے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کی فضول حرکتیں کرنا اب بند کر دیں۔ باز آ جائیں۔ مجھے جتنی عزت اور پیار مریم نواز صاحبہ سے ملا ہے، میں آپ کو بتا نہیں سکتی۔یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جا رہے تھے، تاہم بعد ازاں عظمیٰ کاردار کی وضاحت کے بعد تبصروں کا نیا طوفان آ گیا ہے۔محمد شفقت ایڈووکیٹ نامی ایکس صارف نے لکھا کہ ہم بھی تنقید کی بندوقیں لے کر میدان میں داخل ہوئے ہی تھے کہ آپ نے وضاحت کر دی۔ ہم ہر اچھے کام پر مریم نواز شریف کا حوصلہ بڑھاتے رہیں گے لیکن اگر ایک فیصد بھی کہیں غلط کام ہوا تو ہم پہلے تنقید کریں گے۔یاسمین ناز نے عظمیٰ کاردار پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ پیسے کے لیے یہ بڑھیا جوتے بھی چاٹے گی۔اسامہ گل وڑائچ لکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی والوں کو صرف پنکی اور گوگی خوش کر سکتی ہیں۔
