احمق عمران نے اپنے سینکڑوں اراکین اسمبلی کو بے وزن کیسے کیا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ حالیہ انتخابات نے عمران خان کے سامنے، تُند خوئی کی بجائے حکمت اور مصلحت کی کئی راہیں کھول دی تھیں۔ اُن کے چاہنے والوں نے اُنہیں مالا مال کردیا تھا۔ افسوس کہ یہ توشہ خانہ بھی انہوں نے کوڑیوں کے مول لٹادیا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے ہاتھ نہ ملانے کا اعلان کر کے عمران خان نے اپنے ارکان اسمبلی کی بھاری بھرکم تعداد کو بے وزن کردیا۔ اس اعلان سے اُن کے دونوں بڑے حریف ایک دوسرے کے قریب ہوگئے۔ اپنے ایک کالم میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف والوں کو یکایک سیاسی تنہائی کا احساس ہوا تو جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، وحدت المسلمین غرض ہر اُس کوچۂِ رقیب میں سر کے بل پہنچے جہاں سے اپنی بے چہرگی کو کوئی نام پانے کی ذرا سی بھی توقع ہوئی۔ بالآخر اَسّی کے لگ بھگ ارکان کا دریا، ایک رُکنی سُنّی اتحاد کونسل کی سوکھی نہر میں ضم ہوکر معدوم ہوگیا۔ اب قومی اسمبلی میں ’تحریک انصاف‘ کی شناخت رکھنے والا کوئی رُکن نہیں ہوگا۔ اسے پَرلے درجے کی بے ہُنری ہی کہاجاسکتا ہے۔ خیبرپختون خوا اسمبلی میں پچپن نئے چہرے آئے ہیں۔ ان میں کئی ایک معتدل، متوازن اور متحمل بھی ہوں گے۔ لیکن عمران خان کی نگاۂِ انتخاب علی امین گنڈا پور ہی پر جا ٹِکی جنہوں نے ابھی تک حلف بھی نہیں اٹھایا لیکن اعلان کیا ہے کہ ’’فضل الرحمن پاگل ہوگیا ہے۔ میں آتے ہی اُسے پاگل خانے میں ڈالوں گا۔‘‘ نرگسیت زدہ لیڈر کی انا بدستور پھَن پھیلائے کھڑی ہے اور پارلیمنٹ کے ایوان کو اوجڑی کیمپ بنانا منتہائے مقصود ٹھہرا ہے۔ عرفان صدیقی لکھتے ہیں کہ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا واقعی عمران خان نے اٹھائیس سالہ سیاسی زندگی میں حُبّ الوطنی کے تقاضوں کو اپنی سیاست اور ذات سے بالاتر رکھا ہے؟عوامی جلسوں میں حریفوں پر الزام ودشنام کی بارشِ ، معتبر قومی راہنمائوں کو بے ڈھنگے القابات سے نوازنا، نوجوان پود کی رگوں میں بارود بھرنا، سیاسی مخالفین کو چُن چُن کر نشانہ بنانا اور سیاست میں نفرت وعداوت کے بیج بونا وہ اقدامات ہیں جن کو سرِدست ایک طرف رکھ دیتے ہیں لیکن کیا واقعی آئی۔ایم۔ایف کے حضور تازہ عرضی گزارنے سے قبل عمران خان نے کبھی اس نوع کا کوئی قدم نہیں اٹھایا؟ کیا تحریکِ عدم اعتماد کی چاپ سُن کر انہوں نے جان بوجھ کر آئی۔ایم۔ایف سے طے شدہ شرائط کو پامال کرکے آنے والی حکومت کے لئے شدید مشکلات پیدا نہیں کردی تھیں؟ اگست 2022میں عمران ہی کی ہدایت پر سینیٹر شوکت ترین نے خیبرپختون خوا اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ سے کہا تھا کہ وہ آئی۔ایم۔ایف کو خط لکھ کر اپنی طرف سے بریت کا اظہار کردیں تاکہ متوقع پروگرام کا راستہ روکاجاسکے۔ عرفان صدیقی یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان ہی کے حکم پر فواد چوہدری نے دوٹوک بیان دیا تھا کہ اگر آئی۔ایم۔ایف نے پاکستان کو قرض دیا تو خیبرپختون خوا اور پنجاب ذمہ داری نہیں لیں گے۔ محض اپنی سیاست کے لئے قومی سلامتی سے متعلق ایک حساس خفیہ دستاویز سے کھیلنا قومی مفاد کے کس گوشۂِ خاص میں سجایاجائے؟ 2014کے چار ماہی دھرنے کے دوران انہوں نے جان بوجھ کر صرف اس لئے چینی صدر کے دورۂِ پاکستان کو سبوتاژ کیا کہ بھاری چینی سرمایہ کاری سے نوازحکومت کو تقویت نہ ملے۔ انہی دھرنوں میں عوام کو ٹیکس نہ دینے اور سول نافرمانی کی تلقین کی گئی۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں سے کہا گیا کہ وہ ہُنڈی کے ذریعے رقوم بھیجیں تاکہ پاکستان زرمبادلہ کے قحط کا شکار ہوجائے۔ ان کے وزراکے بے ڈھنگے بیانات نے سی پیک منصوبے کو شدید نقصان پہنچایا اور پائیلٹس کے بارے میں ایک احمقانہ بیان کے سبب پی۔آئی۔اے کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ ’’صدمۂِ جاریہ‘‘ جانے کب تک چلے گا۔ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اب کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا کوہ ہمالیہ کھڑا کردیاگیا ہے۔ 2013 کے 35 پنکچر اَب فارم 45 میں ڈھل چکے ہیں۔ پنڈی کمشنر کو گیارہ برس قبل کا افضل خان بنانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ تب بیلٹ پیپر کسی اردو بازار میں چھپ رہے تھے اب یہ کام لکشمی چوک کے کسی چھاپہ خانے میں ہورہا ہے۔ جھوٹ کا طومار ہے اور الزامات کا انبار۔ کوئی حقیقت کی کرید پر آمادہ نہیں۔ انتخابات سے ایک ماہ قبل معتبر ادارے ’’گیلپ پاکستان‘‘ کا ایک سروے تمام اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ اس سروے کے مطابق پنجاب میں پی۔ٹی۔آئی کی مقبولیت کی شرح 34 فی صد تھی۔ 8 فروری کو اُسے 35 فی صد ووٹ ملے۔ مسلم لیگ (ن) کی شرح 32 فی صد تھی۔ اُسے 34ی صد ووٹ ملے۔ پیپلزپارٹی کے بارے میں 6 فی صد کی پیش بینی کی گئی تھی۔ اُسے 6 فی صد ووٹ ہی ملے۔ خیبرپختون خوا کے حوالے سے سروے میں بتایا گیا تھا کہ پی۔ٹی۔آئی کو 45 فی صد ووٹ مل سکتے ہیں۔ اُسے 44 فی صد ملے۔ مسلم لیگ (ن) کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ 9 فی صد لے پائے گی۔ اُسے 9 فی صد ہی ملے۔ جمعیت علمائے اسلام کے بارے میں 15 فی صد کی پیشیں گوئی کی گئی تھی۔ اُسے 15 فی صد ہی ملے۔ ان ٹھوس حقائق کے باوجود ہاہا کار ہے کہ تھمنے میں نہیں آ رہی۔ دعویٰ یہ ہے کہ ہمارے 80 حلقے چھین لئے گئے۔ لیکن الیکشن کمیشن میں قومی اسمبلی کے صرف بائیس حلقے چیلنج کئے گئے ہیں جن میں سے دس کا تعلق خیبرپختون خوا سے ہے۔ پنجاب کے صرف سات حلقوں پر اعتراض اٹھایاگیا ہے۔ عرفان صدیقی کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ پتھر کو جونک نہیں لگائی جاسکتی۔ جو شخص آرمی چیف کی تقرری کو گلیوں، چوراہوں کا موضوع بنا سکتا، اس کا راستہ روکنے کیلئے اسلام آباد پر یلغار کرسکتا، اس کا تختہ الٹنے کیلئے فوج میں دراڑیں ڈالنے کی سازش کرسکتا، مذموم سیاسی مقاصد کیلئے دفاعی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا اور شہداء کی مقدس یادگاروں کو تاراج کرسکتا ہے، وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ جو لابنگ فرمز خرید کر اُنہیں پاکستان کے چہرے پر کالک تھوپنے کیلئے کروڑوں ڈالر لٹا سکتا ہے اور جو پاکستان کو انسانی حقوق کی قتل گاہ باور کرانے کیلئے دنیا بھر میں، بھارتی سفارت کاروں کے پہلو بہ پہلو متحرک ہوسکتا ہے اُس سے قومی سیاست کا مہذب کردار بننے کی توقع ریگزاروں میں لالہ وگل کھلانے کی سعیِٔ رائیگاں کے سوا کچھ نہیں۔

Back to top button