عمران اسمبلیاں توڑنے کے اعلان سے یوٹرن کیوں لے رہے ہیں؟

عمران خان کی جانب سے اسمبلیاں نہ توڑنے کے عوض حکومت کو کیجانے والی مذاکرات کی پیشکش مسترد ہونے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ سابق وزیراعظم اب اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں یا پھر یوٹرن لے کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ حکومتی سائیڈ نے عمران کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان صاحب کو چوروں اور ڈاکوؤں سے مذاکرات کرنا زیب نہیں دیتا۔ وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے عمران کے مذاکرات کی آفر ٹھکراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو دھمکیوں سے مذاکرات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے اور خان صاحب شوق سے اسمبلیاں توڑ یں تاکہ حکومت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نئے انتخابات کروا سکے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے رہنما آصف علی زرداری بھی عمران خان کو بھونکنے والا بدزبان قرار دے کر مذاکرات کی آفر مسترد کر چکے ہیں۔
ایسے میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کی دو صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی دھمکی ان کو الٹی پڑ گئی لگتی ہے اور اب انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ اس بھنور سے کیسے باہر نکلیں۔ شاید اسی لیے عمران نے لاہور میں پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کے دوران صوبائی اسمبلیوں کو توڑنے کے فیصلے کو موخر کرنے اعلان کرتے ہوئے حکومت کو مذاکرات کی آفر کی تھی۔ اس سے قبل عمران نے 26 نومبر کو راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے اس حوالے سے حتمی فیصلے کے لیے دو دسمبر کا دن مختص کیا تھا۔ تاہم اب انہوں نے اسمبلیاں توڑنے کے فیصلے کو موخر کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’وہ اس معاملے پر مذاکرات کرے۔ایسے میں یہ سوال شدت سے سر اٹھا رہا ہے کہ آخر عمران خان نے اعلان کے بعد اس میں تاخیر کا عندیہ کیوں دیا؟ وہ کیا مضمرات ہیں جن کی وجہ سے انہوں نے جارحانہ کی بجائے احتیاط سے چلنے کا فیصلہ کیا؟
ایک پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پنجاب سے استعفے دینا خودکشی کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی کی اکثریت یہ سمجھتی ہیں کہ اس وقت اسمبلی چھوڑنا مخالفین کے لیے میدان کھلا چھوڑنے کے مترادف ہے۔ اس وقت تمام حلقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام شروع ہو چکے ہیں۔ فنڈز کا اجرا بھی ہو چکا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت ہمارے ہاتھ سے چلی جاتی ہے تو کسی کو نہیں پتہ آگے کیا ہو گا۔ فرض کریں اگر صوبے میں اقتدار ن لیگ یا پیپلز پارٹی کے پاس چلا جاتا ہے تو ہمارے ہاتھ کیا آئے گا؟
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ اگر اسمبلی توڑ بھی دی جاتی ہے تو نگران حکومت ہماری مرضی کی تو نہیں ہوگی جبکہ الیکشن کے دوران ن لیگ کے پنجاب میں ایم این ایز متحرک ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو پہلے ہی قومی اسمبلی سے استعفے دے رکھے ہیں۔ ایم پی ایز نے اپنی یہ ساری گزارشات خان صاحب تک پہنچائی ہیں اور یہ استدلال دیا ہے کہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں، ایسا نہ ہو کہ اس فیصلے سے پارٹی کو مزید سیاسی نقصان اٹھانا پڑے۔‘ ایک اور ایم پی اے نے رازداری کی شرط پر بتایا کہ ’اصل فیصلہ تو پارٹی چیئرمین نے ہی کرنا ہے۔ لیکن کسی بھی سیاسی فیصلے کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں۔ پارٹی کے کچھ رہنما تھوڑی جلدی میں دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ اکثریت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی حامی ہے۔ اور یہ بات خوش آئندہ ہے کہ خان صاحب نے بڑے تدبر کا مظاہرہ کیا ہے اور معاملہ موخر کر دیا ہے۔
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ خان صاحب سے مرکزی قیادت نے یہ سوال کیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت مذاکرات نہیں کرتی اور پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑ دی جاتی ہیں تو دوبارہ الیکشن جیت کر بھی فرق کیا پڑے گا۔ ایسے میں الٹا یہ خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ اگلے الیکشن میں تحریک انصاف آصف کو مرضی کے نتائج حاصل نہ ہو پائیں۔ اسمبلیاں توڑنے کے مخالفین کا یہ موقف ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں کی صورت میں اس وقت تحریک انصاف پاکستان کے 65 فیصد رقبے کی حکمران ہے جس کا اسے فائدہ ہی فائدہ ہے اور اسمبلیاں توڑنے کی صورت میں نقصان ہی نقصان ہے۔ قاف لیگ کے ایک لیڈر کا کہنا تھا کہ عمران پچھلے دو ماہ سے بنی گالہ نہیں جا رہے چونکہ وہاں وفاقی حکومت پی ڈی ایم کی ہے۔ پھر وہ صبح و شام پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر، گاڑیوں، سکیورٹی اور پروٹوکول کے مزے بھی لے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ اپنی حکومتیں ختم کر دیتے ہیں تو یہ سارے مزے بھی ختم ہو جائیں اور خان صاحب زمان پارک لاہور میں بھی سونے کے قابل نہیں رہ جائیں گے۔ لہٰذا دانشمندی یہی ہے کہ اسمبلیاں توڑنے سے پرہیز کیا جائے۔
