عمران خان اپنی خالق فوج کے لیے خوفناک بلا کیسے بنا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ فوج کا تخلیق کردہ عمران خان اپنے خالق ادارے کے لیے ویسا ہی فرینکنسٹائن بن چکا ہے جس نے ایک کیمیا دان کے ہاتھوں وجود میں آنے کے بعد سب سے پہلے اسی کو ختم کیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کی لیب میں تیار کردہ عمران کی تخلیق کی کہانی بھی اسی فریکسٹائن کی کہانی سے ملتی جلتی ہے۔ فوج نے ایک مردہ عمران کے جسم میں سیاسی روح پھونک کر ایک نجات دہندہ اورمسیحا تخلیق کیا گیا۔ لیکن آج وہ عفریت بن کر اپنے خالق کا گلا دبوچ چکا ہے۔ چنانچہ فوج کا ادارہ آج شش و پنج میں کہ اپنی تخلیق سے کیسے نبٹا جائے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب پاکستان کو تاریخ کے بدترین سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا ہے، عمران خان ریاست کی چولیں ہلانے پر تلا یوا ہے۔ دودری جانب عمران سے نبٹنے کا کوئی واضح لائحہ عمل متعین کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی پیچیدہ اور مشکل ضرعر ہے۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ 2008 کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کے بعد عمران سیاسی طور پر ختم ہو چکا تھا۔ دوسری جانب مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے پہلے چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کیا اور پھر مخلوط حکومت بنائی تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کان کھڑے ہو گئے اور ملک کی دونوں مقبول سیاسی جماعتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے عمران کے مرد تن میں دوبارہ سے جان ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
26 جولائی2018 کا سورج فتحٔ مبین کے طور پر سامنے آیا جب اسٹیبلشمنٹ نے تاریخ کی بدترین انتخابی دھاندلی کرتے ہوئے عمران خان کو نہ صرف الیکشن جتوا دیا بلکہ ملک کا وزیراعظم بھی بنا دیا۔عمران کی صورت میں قوم کو نجات دہندہ فراہم کرنے پر اسٹیبلشمنٹ کااِترانا تو بنتا تھا۔ اسی لئے 2018 کے الیکشن نتائج مکمل ہو جانے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر انے قوم کو وتعزمن تشاء کی نوید سنائی تھی۔ لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن اُن کی اپنی تخلیق اُن کو بے دست و پا بنا دے گی۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران بھی ہٹلر، مسولینی، اور ٹرمپ سے مختلف آئیٹم نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پچھلی دہائی سے ایسے رہنمائوں کے جھوٹ اور فریب کی دھاک بٹھا رہا ہے اور معاشرے میں تقسیم در تقسیم اور باہمی ٹکرائو کو فروغ دے رہا ہے۔پاکستان کے اندر غریب، بے کس، اور بے آسرا لوگوں کی تکالیف سانجھی اور مسائل مشترک ہیں۔ دوسری طرف اشرافیہ کا لائف سٹائل اور ان کے قبضہ میں موجود وسائل بھی یکساں ہیں اور آسودگی عام ہے۔ عمران جس زور و شور سے لوگوں کو ان کے مسائل اور تکالیف بتارہے ہیں، وہ اسی جوش و خروش سے انہیں اشرافیہ کی سہولتوں، لائف سٹائل کو جھوٹ اور مبالغہ کی حد تک بڑھا چڑھا کر بتارہے ہیں۔
وہ عوام کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ غریب اور مفلوک الحال اس لئے ہہں کہ اشرافیہ نے ملکی دولت لوٹ کر اپنے بینک بھر رکھے ہیں۔ قطعٔ نظر اس کے کہ اس موقف میں کتنی حقیقت ہے، خان کا یہ بیانیہ جمہوریت کو کمزور کرنے میں مؤثر ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ اسلام آباد میں 600 کنال کے گھر میں رہنے والا عمران سیاستدانوں کے محلات اور دولت اُجاگر کر کے عوام کو جمہوری نظام کے خلاف اُکساتا پھرتا ہے۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اگرچہ عمران خان 45 سال پہلے اپنی کرشماتی شخصیت کے ڈنکے چار سُو بجوا چکا تھا، تاہم سیاست کو پُراثر اور جادوئی بنانے میں یکسر ناکام رہا۔ موصوف کا شروع سے یہی عقیدہ تھا کہ فوج کی مدد کے بغیر ان کا سیاسی ساکھ قد کاٹھ صفر بٹہ صفر رہنا ہے۔ چنانچہ اس نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظر بننے کے لیے ہر طرح کے پاپڑ بیلے پاپڑ بیلے اور اپنی عزت نفس سے لے کر اقدار اور اصول سب پامال کئے۔
بالآخر موصوف کو کامیابی ملی اور اسٹیبلشمنٹ نے عمران کو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ سے جان چھڑوانے کے لئے لیے وزیراعظم بنوا دیا۔ لیکن پروجیکٹ عمران خان کے خالقوں پر جلد ہی آشکار ہو گیا کہ انہوں نے نجات دہندہ اور مسیحا سمجھ کر جو بت تراشا تھا وہ در حقیقت ایک خوفناک بلا ہے اور ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی پوری صلاحیت اور خواہش رکھتا ہے۔ عمران کو اقتدار میں لانے کے لئےاسٹیبلشمنٹ نے مملکت کے آئین، قانون اور نظام کی اکھاڑ پچھاڑ کر دی۔
ماضی بعید اور قریب میں حکومتوں کے’’ بناؤ اور ہٹائو ‘‘میں ایک پردہ، شرم وحیا اور کچھ جھجک رہتی تھی، کہ کہیں غیر آئینی اور غیر قانونی سر گرمی نظر نہ آ جائے۔ لیکن پروجیکٹ عمران خان کو کامیاب بنانے کی خاطر اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور دیگر ادارے سب دھڑلے سے آئین کی دھجیاں اڑاتے نظر آئے۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران نے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستانی ریاست کو قریب المرگ کر دیا۔ جب اس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس نے اور بھی زیادہ گند ڈالا۔ آج عمران نے پارلیمان، عدلیہ، اور دیگر اداروں کو چاروں شانے چت کر دیا یے۔ اس نے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اپنے سیاسی مخالفین کو بے وقعت اور بے وقار کر رکھا ہے۔ اس کے ماننے والے عمران کے منہ سے نکلا ہر لفظ سچ اور اسٹیبلشمنٹ کی ہر بات جھوٹ سمجھتے ہیں۔ ہے۔ مختصر یہ کہ خان کا ظہور آج ایک ڈراؤنی کہانی بن چکا ہے جس کے ذمہ دار صرف اور صرف پروجیکٹ عمران کے خالق ہیں۔
