عمران بزنس کرنے والی فوج کا احتساب کیوں نہیں چاہتے؟


سپریم کورٹ میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کی سماعت کے دوران تب دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ سوال پوچھ ڈالا کی فوج کے ناقد پی ٹی آئی چیئرمین نے قومی احتساب آرڈیننس کے دائرہ کار سے فوج کو نکالے جانے پر کوئی اعتراض کیوں نہیں کیا جب کہ ملک کے سب سے بڑے کاروباری ادارے فوج ہی چلا رہی ہے۔ جج نے عمران خان کے وکیل سے پوچھا کہ جب فوج بڑے بڑے کاروبار چلا رہی ہے اور سب سے بڑی بیلنس شیٹس بھی فوج کی ہیں تو اسے نیب کے دائرہ اختیار سے کیوں باہر رکھا گیا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے فوج کو نیب کے دائرہ اختیار سے باہر رکھنے کے امتیازی سلوک پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟۔

20 اکتوبر کو ‏سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کی سماعت عمرانڈو ‏چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ‏جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جب ایک حاضر سروس فوجی افسر کوئی کاروبار چلا رہا ہے تو کسی بھی غلط کام کی صورت میں اس کے خلاف بھی نیب قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم، درخواست گزار عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے ترمیم شدہ نیب قوانین کا حوالہ دیا جو تجویز کرتا ہے کہ قانون کے تحت ان فوجی افسران کو کوئی رعایت نہیں دی گئی جو کسی بھی عوامی کارپوریشن جیسا کہ بینک، مالیاتی اداروں، وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کے ماتحت یا زیر انتظام کسی بھی محکمے میں کسی بھی عہدے پر تعینات ہوں یا جو مسلح افواج میں سویلین ملازم ہو۔ بینچ کے سربراہ چیف جسٹس بندیال نے شہریوں کے بنیادی حقوق اور مفاد عامہ کے درمیان توازن کی ضرورت کو اجاگر کیا، انہوں نے کہا کہ جب وہ بعض کیسز کو دیکھتے تو محسوس کرتے ہیں کہ جب کسی فرد یا ملزم کو کرپشن الزامات سے بری کیا جاتا ہے تو پورا معاشرہ نقصان اٹھاتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لیکن عدالت کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نیب قوانین میں ترامیم کے بعد استغاثہ کے لیے کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلانا کس قدر مشکل ہو گیا ہے اور یہ ترامیم کس طرح سے لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بنیں گی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کسی شخص کا نام لیے بغیر ایک کیس کا بھی حوالہ دیا جس میں ملزم کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا لیکن مالی فوائد بے نامی داروں کے ذریعے حاصل کیے گئے جو وراثت میں ملی تھیں، اس لیے عدالت نیب ترامیم میں ٹھوس خامیوں کی نشاندہی کرنے کا کہہ رہی ہے۔ درخواست کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے خلاف انکوائریوں اور کرپشن ریفرنسز کی تیاری پر خطیر عوامی رقم خرچ کی گئی جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ کیا سپریم کورٹ اس غیر معقول قانون کو برقرار رکھ سکتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 50 کروڑ سے کم کی کرپشن نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی جب کہ اگر معاملہ 50 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ مالیت کا ہو تو اسے ثابت کرنا بہت مشکل ہو گا۔

اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ تو کیا ہمیں غیر معقولیت کی بنا پر قانون ختم کرنا چاہیے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نئی ترامیم کے بعد نیب قانون سے بچ نکلنے پر ملزم کسی دوسرے قانون میں پھنس جائے گا، آپ کے دلائل سے ایسا لگتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ احتساب صرف نیب کر سکتا ہے جب کہ ملک میں احتساب کے لیے دیگر ادارے بھی موجود ہیں لیکن اب تک نیب کا کردار قابل تحسین نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاستدانوں کا احتساب تو ہوتا ہے لیکن سب سے بڑے بزنس چلانے والی مسلح افواج کو احتساب سے استثنیٰ حاصل ہے۔

Back to top button