عمران خان اور ان کے وزراء بولنے کے بعد کیوں تولتے ہیں؟


وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے اکثر وزراء کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ بولنے کے بعد تولتے ہیں اور اسی لیے اکثر اوقات ان کی کہی گئی باتوں کا سوشل میڈیا پر مذاق بن جاتا ہے۔
اپنے وزیراعظم کی طرح بونگیاں مارنے میں نام بنانے والے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر اور گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے حال ہی میں پاکستانی عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر ‘چائے میں چینی کم ڈالنے اور روٹی کم کھانے’ کا مشورہ دیا ہے جسکے بعد سے وہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں اور انہیں یہ مفت مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ بھی شہد کا استعمال کم کر دیں تاکہ ہوشمندی کی باتیں کر سکیں۔ گنداپور آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کر رہے تھے جب انھوں نے مہنگائی کے حوالے سے کی جانے والی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں چائے میں سو دانے چینی کے ڈالتا ہوں اور نو دانے کم ڈال دوں گا تو کیا وہ کم میٹھی ہو جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کیا ہم اپنے ملک کے لیے، اسکی خود مختاری کے لیے اتنی قربانی بھی نہیں دے سکتے کہ جہاں ایک بندہ روٹی کے سو نوالے کھاتا ہے وہاں وہ نو نوالے کم کھانا شروع کر دے۔ چنانچہ سوشل میڈیا پر صارفین ان کی تقریر کی یہ ویڈیو شیئر کر کے انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب وزرا یا عوامی نمائندگان نے عوام کو ایسے مشورے دیے ہیں۔ حال ہی میں تحریکِ انصاف ہی کے قومی اسمبلی کے ممبر قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے بھی بالکل ویسا ہی مشورہ دیا تھا جس کا ذکر علی امین گنڈاپور نے کیا۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان بھی مہنگائی کا شکوہ کرنے والے عوام کو اپنے خرچے کم کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر علی امین گنڈا پور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے میر بابر علی خان نامی صارف نے ملک میں کمر توڑ مہنگائی کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’عوام نے آپ کی نااہلی کی جہ سے چائے پینا ہی چھوڑدی ہے اور آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ چائے میں چینی کم ڈالا کریں۔‘ انہوں نے کہا ’ علی امین آپ اور آپکے کپتان بونگے بیان دینے سے پہلے کم از کم سوچا تو کریں‘۔
وحید خان نامی ٹوئٹر صارف نے بھی طنز کے نشتر برساتے ہوئے لکھا کہ ’گنڈاپور کی صحت دیکھ کر کیا لگتا ہے کہ موصوف نے خود بھی چینی اور روٹی کم کھانے کے اپنے قیمتی مشورے پر عمل کیا ہوگا؟ موصوف تو شہد سے لے کر گوشت تک کوئی چیز نہیں چھوڑتے اور پھر اپنے کپتان کو بھی اسی کام پر لگا رکھا ہے۔ ایک اور صارف محمد خان سیال نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ کی حکومت تین برس مکمل کرچکی ہے لیکن اب بھی اسکا یہی دعوی ہے کہ پاکستان میں نواز شریف اور زرداری کی وجہ سے مہنگائی ہے۔‘
ایسے میں سوال یہ یے کہ کیا کسی حکومت کے لیے عوام کو کفایت شعاری یا ’روٹی کم کھانے‘ کا مشورہ دینا موزوں ہے؟ ماہرِ معیشت ڈاکٹر ساجد امین سمجھتے ہیں کہ ایسا مشورہ غریب عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ان کے خیال میں کفایت شعاری کے مشورے یا مہمات نہ کبھی مہنگائی کا حل رہی ہیں اور نہ ہو سکتی ہیں۔ ’حکومت کا کام ہے کہ وہ عام آدمی کی قوتِ خرید کو بڑھائے یا اس کی حالت کو بہتر کرے۔‘ تاہم سوال یہ ہے کہ عالمی اور قومی سطح پر موجودہ حالات میں مہنگائی پر قابو پانا حکومت کے اختیار میں ہے؟ ڈاکٹر ساجد امین کہتے ہیں اس کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ بلند سطح پر ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ ساجد امین کے مطابق پاکستان میں مہنگائی میں حالیہ اضافے کی تین بنیادی وجوہات ہیں یعنی عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور حکومت کی ٹیکس لاگو کرنے کی حالیہ پالیسیاں۔ تیسرے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں حکومت ’ریوینیو یعنی آمدن کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پیداواری اجناس جیسے ایندھن وغیرہ پر ٹیکس بڑھاتی ہے جس سے ان کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔‘
اس طرح جن روزمرہ کے استعمال کی اشیا کی تیاری میں یہ ایندھن وغیرہ استعمال ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ نتیجتاً ان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان میں حال ہی میں ایندھن کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔
تو سوال یہ یے کہ کیا حکومت ان پر قابو نہیں پا سکتی؟ ساجد امین کہتے ہیں کہ ’حکومت کا ان عوامل پر کنٹرول نہیں ہے۔‘ اُن کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتیں توقع کے برعکس بڑھیں اور ان کے بڑھنے یا کم ہونے پر پاکستان حکومت کا کوئی اختیار نہیں۔ ساتھ ہی پاکستان کا درآمدی بل بہت بڑا رہا ہے۔ ساجد امین کے مطابق پاکستان نیٹ امپورٹر ہے یعنی اس کی کُل درآمدات اس کی کُل برآمدات سے زیادہ ہیں اور یہ کھانے پینے کی اشیا جیسے گندم، چینی وغیرہ بھی درآمد کر رہا ہے۔ اس لیے جب تک اس کا یہ بل چھوٹا نہیں ہوتا اور تجارتی خسارہ کم نہیں ہوتا، روپے کی قدر میں بہتری آنے کی امید بھی کم ہے۔اور آمدن بڑھانے کے لیے حکومت کو ایندھن، بجلی اور گیس وغیرہ پر ٹیکس بڑھانا پڑتا ہے۔ دوسرا پاکستان نے قرضے کی نئی قسط کے لیے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے۔ ’اور آئی ایم ایف بھی حکومت کو ان اجناس پر ٹیکس بڑھانے کا کہے گا۔‘
تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کچھ بھی نہیں کر سکتی؟ ڈاکٹر ساجد امین کے مطابق ایسا نہیں ہے بلکہ حکومت کئی اقدامات کر سکتی ہے۔ ان کے خیال میں سب سے بنیادی دو کام ہیں جو حکومت کو کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مہنگائی کے عوام پر اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ’سب سے پہلے مقامی سطح پر انتظامی ڈھانچے کو فعال کرنے کی ضرورت ہے جو اب تک نہیں کیا جا سکا۔‘ اس سے ان کی مراد پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا مؤثر طریقے سے استعمال ہے۔ ساجد امین سمجھتے ہیں کہ اس نوعیت کی کمیٹیاں قیمتوں کے مصنوعی اضافے کو کنٹرول کرنے میں انتہائی مؤثر ہوتی ہیں اگر انھیں صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے۔ دوسرا ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگائی ایندھن یا غذائی اجناس کے ارد گرد ہے۔ ’پاکستان میں کسان کے کھیت سے لے کر فروخت کے مقام تک پہنچنے میں اجناس کی قیمتوں میں کمیشن کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔‘ ’یہ براہِ راست مہنگائی کا سبب بنتا ہے اور یہ ایسا پہلو ہے جس پر قابو پانا حکومت کے اختیار میں ہے۔‘ ایک تیسرا راستہ یوٹیلیٹی سٹورز کے مؤثر استعمال کا بھی ہے جس کے ذریعے حکومت مہنگائی کے اثرات پر کسی حد تک قابو پا سکتی ہے۔
کیا مہنگائی کی سطح کو کم کیا جا سکتا ہے؟ڈاکٹر ساجد امین کے مطابق ’جب قیمتیں ایک مرتبہ بڑھ جائیں تو وہ نیچے نہیں آتیں یا ان کو نیچے لانا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘ان کے خیال میں موجود حکومت کے لیے اس بات کا اندازہ کرنے میں کافی تاخیر ہوئی کہ مہنگائی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کے بعد انھیں یہ پتا لگانے میں دیر لگی کہ مہنگائی کی وجہ کیا تھی۔

Back to top button