عمران خان ملک کے سب سے بے اختیار وزیر اعظم ہیں

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم گھر جا چکے ہیں ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن )کے مرکزی راہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جلسوں میں کورونا کی بات پر ہم سب متفق ہیں لیکن کیا بازاروں، اسکولوں، مارکیٹوں اور دیگر جگہوں پر کورونا نہیں ہوتا؟۔
انہوں نے کہا کہ جلسے کا تو ایک دن ہوتا ہے اور وہاں بھی ہم ایس او پیز پر عمل درآمد کریں گے جب کہ اگر حکومت ماسک کو لازمی قرار دے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا ٹیسٹنگ کی تعداد تو آہی نہیں رہی، حکومت ماسک کی بات نہیں کر رہی اور کورونا کورونا کر رہی ہے حکومت کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ پرسنٹیج وائز تھی حکومت خود کو دھوکہ نہ دے معیشت تو تباہ کر ہی دی ہے اب مسائل کا حل صرف ملک کو آئین کے مطابق چلانے میں ہے۔ مسلم لیگ( ن) کے راہنما نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے آج کورونا پر اجلاس طلب کیا ہے اور اجلاس میں ہمیشہ دو افراد ہی نہیں ہوتے، ایک لیڈر آف دی ہاﺅس اور دوسرا لیڈر آف دی اپوزیشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم گھر جا چکے ہیں، پالیسی ہے نہ ہی اختیارات یہاں صرف کرسی پر بیٹھنا نہیں ہوتا حکومت ناکام اور عوام پریشان ہے تاہم مٹی کی دیواریں جلد گر جائیں گی۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے راہنما شاہد خاقان عباسی نے دو روز قبل کہا تھا کہ پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) جلسہ شیڈول کے مطابق ہوگا، اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومتی ٹولے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے ان کا کہنا تھا افواہیں پھیلانے سے جلسے کی تاریخ، مقام اور وقت تبدیل نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں نے پشاور میں جلسہ 22 نومبر کو کروانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد13دسمبر کو لاہور میں حزب اختلاف نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جلسہ کروانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک اپوزیشن نے جو جلسے کیئے ہیں ان میں سے صرف ایک جلسہ ہی کراچی جیسے بڑے شہر میں منعقد ہوا اب لاہور کا جلسہ اپوزیشن جماعتوں کےلیے بڑا چیلنج ہوگا، لاہور میں حکومت نے اپوزیشن کو گرینڈ اقبال پارک(منٹوپارک) میں جلسہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس جگہ پر بیس، پچیس ہزار لوگ نظر بھی نہیں آئیں گے یہ مسلم لیگ نون کےلیے بھی بڑا چیلنج ہے کیوں کہ لاہور کو نون لیگ کا مرکز سمجھا جاتا ہے اگر نون لیگ لاہور میں دو، چار لاکھ لوگوں کو نکالنے میں کامیاب نہ رہی تو ان کا سیاسی مستقبل داﺅ پر لگ جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button