پاکستان نے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کردیا

پاکستان نے افغانستان میں مشترکہ حکومت کے قیام کے لیے طالبان سے مذاکرات کا اعلان کر دیا ہے جس میں تاجک ، ازبک اور ہزارہ برادری کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا

وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کے رہنماؤں اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمن سے تفصیلی ملاقاتیں اور گفتگو کی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان حکومت میں تاجک، ازبک اور ہزارہ برادری کی شمولیت کے لیے میں نے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے، 40 سالہ تنازع کے بعد تمام اقوام پر مشتمل حکومت افغانستان میں امن و استحکام لائے گی، یہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہوگا۔

اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ‘دوشنبے میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں خصوصاً تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن سے طویل بات چیت کے بعد میں نے ایک شمولیتی حکومت کی خاطر تاجک، ہزارہ اور ازبک برادری کی افغان حکومت میں شمولیت کے لیے طالبان سے مذاکرات کی ابتدا کر دی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ’40 برس کی لڑائی کے بعد ان دھڑوں کی اقتدار میں شمولیت ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی ضامن ہوگی جو محض افغانستان ہی نہیں بلکہ خطے کے بھی مفاد میں ہے’۔پاکستان، طالبان کے قبضے اور عبوری حکومت کے اعلان کے بعد سے افغانستان میں شمولیتی حکومت کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔
وزیر اعظم نے اس بات پر ایس سی او اجلاس سے خطاب میں بھی زور دیا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان کو افغانستان میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے اور شمولیتی سیاسی ڈھانچہ بنانا چاہیے جس میں تمام نسلی گروپوں کی نمائندگی ہو کیونکہ یہ افغانستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے’۔افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران نے کہا کہ طالبان کے قبضے اور غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں ایک ‘نئی حقیقت’ سامنے آئی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ سب کچھ خونریزی، خانہ جنگی اور پناہ گزینوں کے بڑے پیمانے پر ہجرت کے بغیر ہوا’۔انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی برادری کے اجتماعی مفاد میں ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغانستان میں دوبارہ کوئی تنازع نہ ہو اور سیکیورٹی کی صورتحال مستحکم ہو۔

Back to top button