جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس شہباز کو منانے کے لیے دیا گیا

نون لیگی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مزاحمتی دھڑے سے تعلق رکھنے والے ایم این اے جاوید لطیف کو مفاہمتی دھڑے کے خلاف بیان دینے پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا بنیادی مقصد شہباز شریف کو منانا ہے جنہیں کہ نواز شریف نے پہلے ایسا کوئی شوکاز نوٹس جاری کرنے سے منع کر دیا تھا۔ چنانچہ بتایا جا رہا ہے کہ رد عمل کے طور پر ناراض ہو کر شہباز شریف نے نون لیگ پنجاب کی ڈویژنل تنظیموں کے اجلاسوں میں شرکت سےانکار کر دیا تھا لہذا ان کو منانے کے لیے انکا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا اور جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ جاوید لطیف نے 14 ستمبر کو سما ٹی وی کو انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں چار سے پانچ رہنما ایک اسائنمنٹ پر ہیں جنہیں یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے بیانیے یعنی ووٹ کو عزت دو کو مسخ کریں، انکا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت کے خلاف مہم کسی فیصلہ کن مرحلے پر پہنچتی ہے، ان میں سے کوئی ایک اسے خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے، جاوید نے کہا تھا کہ اس اسائنمنٹ پر وہ لوگ ہیں جو ‘مفاہمت’ کی بات کر رہے ہیں، میں ان کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن جب خعد تجربہ کار لیڈر بیانیے کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ایسا کرنا اسٹیبلشمنٹ سے اسائنمنٹ لیے بغیر نا ممکن ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پارٹی کے ان لوگوں کو جو قانون اور آئین پر یقین نہیں رکھتے ہیں چوہدری نثار علی خان کا انجام یاد رکھنا چاہیے۔
مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہےکہ نون لیگ کے صدر شہباز شریف نے جاوید لطیف کے بیان کو خود پر تنقید سے تعبیر کیا تھا اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو ہدایت کی تھی کہ جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ پارتی قائد نواز شریف کی ہدایت پر احسن اقبال کو ایسا کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ چنانچہ شہباز نے پارٹی قیادت سے ناراض ہو کر مسلم لیگ نون کے پنجاب ڈویژن کے عہدے داروں کے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں 16 ستمبر کو نوازشریف نے چھوٹے بھائی کا بھرم رکھتے ہوئے جاوید لطیف کو نوٹس جاری کرنے کی اجازت دے دی۔
تاہم معاملہ تب مزید بگڑ گیا جب شوکاز نوٹس ملنے کے بعد جاوید لطیف نے یہ بیان داغ دیا کہ نواز شریف نے کس مجبوری میں مجھے شوکاز نوٹس بھجوایا ہے، اس کا مجھے بخوبی اندازہ ہے۔ خیال رہے کہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی جانب سے میاں جاوید لطیف کو جو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ انہیں یہ نوٹس نون لیگ کے قائد نواز شریف کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد احسن اقبال نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بھی جاوید لطیف کو پیغام پہنچایا جس کا متن کچھ یوں تھا کہ مسلم لیگ ن کے ہر مخلص کارکن کا فرض ہے کہ اسکی تنقید کا ہدف مخالفین ہوں۔ ایسی بیان بازی جس سے مخالفین کے بیانیہ کو تقویت ملے یا جس سے جماعت کے اندر انتشار کا تاثر ابھارا جائے قطعاً نواز شریف کا بیانیہ نہیں ہو سکتا۔کا ہر لیڈر اور کارکن نواز شریف کا سپاہی ہے۔ ہم پہ سب کا احترام لازم ہے۔
تاہم شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد جاوید لطیف خاموش نہیں بیٹھے اور کہا کہ ان کی جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نواز شریف کے بیانیے کے خلاف ہیں۔جاوید لطیف نے پارٹی نوٹس کے حوالے سے کہا کہ نواز شریف نے کس طرح مجبوری میں مجھے شوکاز نوٹس بھیجا یہ صرف مجھے اندازہ ہے، شاید کسی اور کو نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ نواز شریف کی قربانیوں کی وجہ سے یہ شوکاز بہت چھوٹی چیز ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے کچھ دن پہلے نواز شریف کی نومبر، دسمبر میں واپسی کی جو بات کی تھی میں اس پر آج بھی قائم ہوں۔ جماعت کے باہر تو اس بات سے تکلیف ہونی ہے، لیکن جماعت کے اندر بھی کسی کو پرابلم ہے تو اس نوٹس کے ذریعے شاید میں بہتر طریقے سے یہ بات پہنچا سکوں۔ جاوید لطیف نے کہا کہ جماعت کے اندر دو چار ایسے لوگ ہیں جو حالات کو نہیں سمجھتے اور شاید اپنی کچھ چیزوں کو بچانے کے لیے ایسی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن جو ایسی رائے رکھتے ہیں یا سوچ رکھتے ہیں وہ نہ جماعت کے مفاد میں ہے اور نہ وہ اپنے مفاد میں بات کر رہے ہیں۔اس کے باوجود جن لوگوں نے جماعت کے اندر نواز شریف کے بیانیے کے خلاف بات کی ہے۔ میں آج بھی اس حق میں نہیں کہ ان کو شوکاز نوٹس ملنا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون میں ایک عرصے سے جاری بیانیے کی جنگ میں لیگی صدر شہباز شریف نے پہلی دفعہ اپنا بیانیہ اپنائے جانے پر اصرار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو کو اس حوالے سے بھی تحفظات ہیں کہ نون لیگ کی ڈویژنل تنظیموں کے اجلاسوں کی صدارت خود نواز شریف کر رہے ہیں جبکہ مریم نواز بھی ان اجلاسوں میں باقاعدگی کیساتھ شریک ہو کر یہ تاثر دے رہی ہیں کہ پارٹی کی قیادت ان کے ہاتھ میں ہے۔ مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت کے قواعد کی خلاف ورزی پر سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کو پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے، وہ باعزت طریقے سے شوکاز نوٹس وصول کریں اور جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں گفتگو کے دوران باتیں آگے پیچھے ہوجاتی ہیں، جو بھی بات قواعد و ضوابط سے ہٹ کر کی ہے، اس پر جاوید لطیف کو اس کی وضاحت دینی چاہیے۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں کوئی بندہ اسائنمنٹ میں نہیں ہوسکتا اور اگر ہوتو وہ پارٹی میں رہ نہیں سکتا ہے، اس لیے یہ بالکل غلط بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جاوید لطیف کی وضاحت سے پہلے ان کے بیان پر بات کرنا مناسب نہیں، شوکاز جاری کرنے کا فیصلہ پارٹی کے صدر کو کرنا ہوتا ہے اور شہباز شریف فیصلہ کرنے سے قبل نواز شریف سے مشورہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر نوٹس جاری ہوا ہے تو نواز شریف سے مشاورت کے بعد ہوا ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر دو بیانیوں کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ مفاہمت اور مزاحمت کے درمیان نہ کوئی تصادم ہے اور نہ ہی اس طرح کا کوئی معاملہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مفاہمت اور مزاحمت اس لیے ہے کہ شفاف انتخابات ہوں، اگر مفاہمت سے یہ شفاف الیکشن کا حق دے دیتے ہیں تو مزاحمت کی ضرورت نہیں رہتی۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہ حق نہیں دیں گے تو مزاحمت بھی ہوگی اور لڑائی بھی ہوگی، صاف شفاف الیکشن ریاست کی ذمہ داری ہے یہ ہر قیمت پر حاصل کرنا ہے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ مفاہمت سے مراد کمپرومائز نہیں ہے اور مزاحمت سے مراد تشدد کرنا نہیں ہے۔
