عمران خان کا احتسابی بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا

وزیراعظم کی جانب سے عاصم سلیم باجوہ کا استعفٰی منظور نہ کیے جانے پرمسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا احتسابی بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا ہے.ان انھیں ان کے کفن دفن کا بندوبست کرنا چاہیے.
ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان چئیرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کی طرف سے دیا گیا استعفی منظور کر لیتے تو خود بھی مستعفی ہونا پڑ جاتا، تاہم جواب تو پھر بھی دینا پڑے گا ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے چئیرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے استعفے کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ این آر او کیوں اور کیسے دیا جاتا ہے، کس کو دیا جاتا ہے، ایک دوسرے کو دیا جاتا ہے، قوم کو سمجھانے کا شکریہ۔ جواب تو پھر بھی دینا پڑے گا ! اب لو گے احتساب کا نام ؟۔
mar
خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور چئیرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے اہلخانہ کے مبینہ اثاثوں کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات پر کہا تھا کہ عاصم باجوہ سکینڈل نے عمران کا احتسابی بیانیہ دفن کر دیا ہے. یہ ایک فرد کا معاملہ ہے’ جس پر الزمات لگے ہیں انہیں اس کا جواب دینا چاہیئے۔ اس میں ریاست، سی پیک یا کسی ادارے کو درمیان میں نہیں لانا چاہیے.مریم نواز نے مزید کہا کہ ان الزامات کا جواب سازش ہے نہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا کوئی بہانہ ہے اور نہ اس کے درمیان ریاست کو لانا چاہیئے۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سی پیک کے بانی نواز شریف جو 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں لے کر آئے انہیں اگر ایک اقامے پر نکالنے پر سی پیک کو کچھ نہیں ہوا تو ایک فرد کے آنے جانے سے یا احتساب کا سامنا کرنے سے بھی سی پیک کو کچھ نہیں ہوگا۔
مریم نواز نے مزید کہا تھا کہ ان کے خلاف جو ‘ثبوت’ سامنے آئے وہ وہ بہت بڑے ہیں انہیں چاہیئے کہ آ کر اس کا دفاع کریں اگر آپ ٹیکس دہندگان کے پیسے پر سرکاری عہدہ پر ہیں اور کوئی الزام لگتا ہے، اس کے ثبوت پیش کیے جاتے ہیں تو آپ کو قانون کا سامنا کرنے سے کترانا نہیں چاہیئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ‘عمران خان کہا کرتے تھے کہ چونکہ نواز شریف باہر چلے گئے ہیں اس لیے میرا احتساب کا بیانیہ بہت کمزور ہوگیا ہے پھر کہا کرتے تھے کہ فلاں فلاں کو ضمانت مل گئی اس لیے میرا احتساب کا بیانیہ کمزور ہوگیا’۔مریم نواز نے کہا کہ ‘اس پر میں عمران خان اور ان کی حکومت سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ آج جب عاصم سلیم باجوہ صاحب پر ثبوتوں کے ساتھ الزام لگے ہیں تو احتساب کا بیانیہ کس غار میں سو رہا ہے یا وہ کہاں چھپا ہوا ہے، آج احتساب کے بیانیے کو کوئی چیلنج نہیں ہے تو آگے بڑھیں اور عوام کو بتائیں کہ وہ اس میں بھی احتساب پر یقین رکھتے ہیں’۔ایک اور سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ اگر کوئی سرکاری عہدہ نہ رکھتے ہوئے میں ایک مرتبہ 5 ماہ اور دوسری مرتبہ 6 ماہ کی قید بھگت سکتی ہوں، کال کوٹھری میں رہ سکتی ہوں اور اگر نواز شریف جیل میں موت کے منہ میں پہنچنے کے باوجود قانون کے آگئے سرنڈر کرتے ہیں تو پھر چاہے وہ نواز شریف ہو، مریم نواز، شہباز شریف، عمران خان، عاصم سلیم باجوہ، میر شکیل الرحمٰن، قاضی فائز عیسیٰ یا چاہے سرینا عیسیٰ ہوں سب قانون کے سامنے برابر ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے موجودہ جج ہوتے ہوئے، نواز شریف 3 مرتبہ کے وزیراعظم ہوتے ہوئے، ان کی بیٹی مریم نواز کے علاوہ سرینا عیسیٰ کوئی عہدہ نہ رکھتے ہوئے قانون کے آگے پیش ہوسکتے ہیں تو پھر کسی کو استثنٰی نہیں ہے قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور برابر ہونا چاہیئے۔ مریم نواز نے کہا کہ اس کیس کے بعد عمران خان کو چاہیئے کہ احتساب کا بیانہ جو ارشد ملک کیس میں ایکسپوز ہوچکا ہے اس کے کفن دفن کا انتطام کرلیں۔مریم نواز نے کہا کہ اگر احمد نورانی کچھ نکال کر لائے ہیں تو انہیں دھمکیاں نہیں ملنی چاہئیے بلکہ الزامات کا جواب ملنا چاہئیے۔رسیدیں پیش کرنی چاہئیے اور جواب دینا چاہئیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک فرد کے آنے جانے سے یا احتساب کا سامنا کرنے سے سی پیک کو کچھ نہیں ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا احتساب کا بیانیہ بے نقاب ہو چکا اس کے کفن دفن کا انتظام کر لیں۔عمران خان احتساب کے بیانیے کو اب خیر باد کہہ دیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button