عمران خان کا ریاست مدینہ سے ہوشربا ٹوٹوں تک کا سفر

پاکستانی سوشل میڈیا پر ہر جانب خان صاحب کی گندی گفتگو پر مبنی آڈیوز اور جلد ریلیز ہونے والی اس سے بھی گندی ویڈیوز کا تذکرہ چل رہا ہے، چنانچہ آپ سوشل میڈیا پر جائیں گے تو ہر جانب ٹوٹے ہی ٹوٹے پائیں گے۔ معروف لکھاری اور کئی کتابوں کے مصنف محمد حنیف بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر گندی آڈیوز اور ویڈیوز کا تذکرہ دیکھ کر پہلے دل باغ باغ ہوا کہ جن ٹوٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے مون لائٹ جیسے گندے اور بدبودار سنیما میں جانا پڑتا تھا، وہ اب آپ کے فون پر دستیاب ہیں اور پولیس کے چھاپے کا بھی کوئی ڈر نہیں۔
محمد حنیف بتاتے ہیں کہ لاہور کے مون لائٹ سنیما میں ایک بار ٹوٹے دیکھنے والوں ہر چھاپا پڑا تھا تو سینما کے باہر گنڈیریاں بیچنے والے کو بھی کوڑے پڑ گئے تھے لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے گنڈیریاں بیچنے اور چوپنے والے دونوں بے خوف ہو چکے ہیں کیونکہ کوڑوں کا زمانہ جا چکا ہے اور کوڑے کچرے کا زمانہ آ چکا ہے جو ہر موبائل میں ہر وقت دستیاب ہے۔ ایسے میں آج کل ہر دل سے ایک ہی آواز نکل رہی ہے کہ خان صاحب کی آڈیوز سنوانے کے بعد اب ویڈیو کب دکھاؤ گے۔
محمد حنیف بتاتے ہیں کہ انہوں نے ٹوٹوں پر تجزیہ نگاروں کے تجزیے سنے تو وہ کانوں کو ہاتھ لگا لگا کر کہہ رہے تھے کہ ایسی پرسنل اور پرائیویٹ گفتگو ریکارڈ کرنا بھی گناہ، اور اسے نشر کرنا بھی گناہ، لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں نا کہ ایسی واحیات گفتگو کرنے والوں نے بھی کوئی حیا نہیں کی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ شیطان صالح لوگوں کو ہی بہکاتا ہے۔ وہ خونی لبرلوں پر اپنا وقت کیوں برباد کرے کیونکہ ان کے دل تو وہ پہلے ہی جیت چکا ہے، لہذا شیطان ریاست مدینہ بنانے کے دعوے داروں کو بہکاتا ہے اور گندی گفتگو کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ حنیف کہتے ہیں کہ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آپ نے جتنا نیک بننے کی کوشش کی ہے کیا آپ کے دل میں اتنے ہی زیادہ شیطانی خیالات نہیں آتے۔ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو تراویح پڑھتے حساب کرتے ہیں کہ میٹرک کے امتحان میں زیادہ سے زیادہ کتنے اور کم از کم کتنے نمبر آئیں گے۔ لیخن جب تھوڑے بڑے ہو جائیں تو سجدے میں جا کر بھی گلی کی نکڑ والی لڑکی یا لڑکے کا خیال آجاتا ہے۔
میں نے تو عمرہ کرنے والوں اور حاجیوں سے بھی سنا ہے کہ حرمین میں بھی شیطان اپنے کام سے باز نہیں آتے۔ بھولے بسرے معشوق اور ان کی اچھی گندی باتیں یاد آنے لگتی ہیں۔ ایک دوست نے تو یہ بھی بتایا کہ میں شیطان کو کنکریاں مار رہا تھا اور دل میں گنگنا رہا تھا کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو۔حنیف کہتے ہیں کہ میں خود بھی جمعہ کا خطبہ سن رہا تھا، کہ مولانا طارق جمیل کی یاد آ گئی۔ اللہ ان کو صحت دے کیونکہ ہماری آنے والی نسلوں کی آخرت کی جنسی تعلیم انہی کے ذمے ہے۔ میرا پاک دل ستر گز لمبی حوروں کو سیاسی تجزیہ سنا رہا تھا پھر شیطان نے بہکایا اور میں جمعہ کی نماز کے دوران بھی یہی سوچتا رہا کہ پتہ نہیں جنت میں ایک صدی تک جاری رہنے والے احتلام کے بعد سگریٹ پینے کی اجازت ہو گی یا اس کے لیے جہنم جانا پڑے گا۔ تو بھائیو اور بہنو اگر مجھ جیسے گناہگار کے جمعہ کو شیطان اتنا خراب کر سکتا ہے تو سوچو دور حاضر کے صلاح الدین ایوبی کے لیے وہ کیسے جال بچھاتا ہوگا جس اب لوگ دور حاضر کا سب سے بڑا پورن سٹار قرار دے رہے ہیں۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ ابھی ٹوٹوں بھرے اس سال سے اپنے ذہن کو صاف کرنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے گھر کی صفائی کے احوال پڑھے۔ اردگرد دیکھا اپنا گھر مجھے تو صاف ہی لگا مگر بتایا گیا کہ ہمارے گھر کے فرش صاف کرنے والا پوچا پرانا ہو گیا ہے نیا لا دیں۔ میں باجوہ صاحب کے گھر کی صفائی کے ذکر سے حیران تھا اور سوچتا تھا کہ شاید اب ریٹائرمنٹ کے بعد گھر کے پوچے کی ذمہ داری انھوں نے خود سنبھال لی ہے، جیسے سپہ سالار ہوتے ہوئے انھوں نے پاکستان کے وہ کام بھی سنبھال رکھے تھے جو ان کے ذمے نہ تھے۔ جب میں پوچا خریدنے کے لیے پہنچا تو دکاندار نے پوچھا کہ پوچا کیسا چاہیے، ڈنڈے والا یا بغیر ڈنڈے والا۔ مجھے یقین ہے باجوہ صاحب کا ڈنڈا چھن گیا مگر گھر میں پوچا تو ڈنڈے والا ہی لگاتے ہوں گے۔ میں نے بھی ڈنڈے والا چنا۔ اسکی قیمت 595 روپے دے کر میرے چہرے پر جو تاثرات آئے وہ دکاندار نے پڑھ لیے اور مجھے 550 روپے کا دے دیا۔
