تبدیلی کی افواہیں مسترد، وزیراعظم کا عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہار

وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پورے اعتماد کے ساتھ کھل کر اور بے خوف ہو کر کام کرنے کی ہدایت کر دی ہے جس کے بعد عثمان بزدار کو عہدے سے ہٹائے جانے کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تبدیل کیے جانے سے متعلق افواہیں زیر گردش ہیں لیکن گزشتہ روز وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی ان افواہوں کی تردید کی تھی۔
وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے اور ایوانِ وزیراعلیٰ میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی۔وزیراعلیٰ نے آٹے، گندم کی صورت حال اور انسداد کورونا کے لیے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔وزیراعظم عمران خان نے عوامی ریلیف کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے انسداد کورونا کے لیے بہترین کام کیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے درمیان لاہور میں ملاقات ہوئی ہے جس میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کورونا کے خلاف پنجاب حکومت نے بہترین کام کیا، مشکل وقت سے نکل آئے ہیں، عوام کی فلاح و بہبود کےلئے پنجاب حکومت اپنے تمام وسائل برؤے کار لائے۔ مزید بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عوام کوایس اوپیز پر عملدآمد اور حکومت کاساتھ دیتے رہنا ہوگا، پنجاب حکومت نے اپنےاخراجات میں واضح کمی کی ہے۔
اس ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور کے شمال میں نئے شہر کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو بریف کیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے شمال میں جدید شہر بسانے کےلیے اتھارٹی قائم کی، اتھارٹی نی اشہر بسانے کےلیےکام کرے گی، نیاشہر دبئی کی طرز پر بسایا جائے گا، نیا شہر ایک لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر بسایا جائے گا، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر نجی شعبےکی طرف سے 5ہزارارب کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
تاہم اس ملاقات میں اہم بات یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پورے اعتماد کے ساتھ کھل کر کام کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل گردش کرنے والی خبروں میں کہا جا رہا تھا کہ عمران خان کو بھی اس اعتماد میں لے لیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو تبدیل کر دیا جائے، لیکن اب وزیراعظم عمران خان نے خود وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرکے ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان سے ارکان قومی اسمبلی نے بھی ملاقات کی اور اپنے حلقوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔وزیراعظم نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو ارکان اسمبلی کے جائز مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کے کام میرٹ پر کیے جائیں۔ وزیر اعظم نے اراکین اسمبلی کو بلدیاتی انتخابات کی تیاریإں شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی نے ملاقات کے دوران تحفظات کی بھر مار کردی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار صوبائی اسمبلی اراکین کو زیادہ قومی اسمبلی کی اراکین کو کم ملتے ہیں، ہمارے حلقوں کے مسائل حل نہ ہوئے، ترقیاتی اسکیموں سے محروم ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ کو ممبران اسمبلی کے تحفظات دور کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی الجھن ہے اسے فوری ختم کیا جائے،بزدار صاحب آئندہ کوئی گلہ شکوہ نہیں ہونا چاہے، ممبران اسمبلی کے تحفظات درست ہیں، ترقیاتی اسکیمیں جہاں ممکن ہیں وہ شروع کی جائیں گی، ممبران اس ضمن میں عوام الناس سے مستقل رابطے میں رہیں اور کسی بھی مسئلے کے حل کے حوالے سے درپیش انتظامی مشکل کی صورت مجھے فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
عمران خان پنجاب میں کرپشن ختم نہ ہونے پر بھی برس پڑے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن سے متعلق مجھے میانوالی ،لاہور اور دیگر اضلاع سے بہت کچھ پتہ چلا ہے، پنجاب میں نچلی سطح پر کرپشن ختم ابھی تک نہ ہو سکی، ادارے کیا کر رہے ہیں، پنجاب میں کرپشن ختم کرنے کےلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔بجلی سے محروم علاقوں کو بجلی مہیا کرنے کی درخواست پر عمران خان نے کہا کہ یہ بات درست ہے جن علاقوں میں بجلی نہیں وہاں ہونی چاہیے، بجلی کی فراہمی کےلئے وفاق و صوبے ملکر کام کریں، تاکہ بچے پڑھ سکیں۔وزیراعظم کو راوی روڈ اتھارٹی کے تحت لاہور میں نیا شہر بسانے سے متعلق بریف کیا گیا۔ عمران خان مون سون شجر کاری مہم کا آغاز بھی کرینگے، جس میں پودے لگانے کے لیے جاپانی ٹیکنالوجی کا استعمال متعارف کروایا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات کے بعد عثمان بزدار کی تبدیلی کی افواہیں زور پکڑ گئی تھیں۔
