عمران خان کا عمرانڈوز کو دوبارہ سڑکوں پر لانے کا فیصلہ

عمران خان نے ایک بار پھر ملک میں شرپسندی پھیلانے کا عزم کرتے ہوئے عمرانڈوز کو سڑکوں پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان پر دس مئی کو مکنہ فرد جرم عائد کیے جانے سے پہلے سڑکوں پر بھر پور ہنگامہ آرائی کی پلاننگ مکمل کر لی ہے اور اپنےحامی وکلا گروپوں کو بھی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایات کر دی ہیں۔ جبکہ ردعمل دینے کیلئے کارکنان کو ایک مرتبہ پھر زمان پارک طلب کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب آئینی وقانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی شرپسندانہ اور جمہوریت دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے ملکی حالات پہلے ہی گھمسان کی جنگ جیسے تھے، اب تباہی کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے ہیں جس میں صرف ملک وقوم کا نقصان اور پاکستان مخالف عالمی قوتوں کو فائدہ پہنچے گا
واضح رہے کہ عمران خان کی طرف سے تو شہ خانہ کیس میں عدالت کے سماعت کے اختیار کے خلاف دائر کی جانے والی درخواستیں رد کر دی گئی ہیں اور انہیں دس مئی کو فرد جرم عائد کر نے کیلئے طلب کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ کیس فرد جرم عائد کیے جانے کی سطح پر رکا ہوا ہے جس میں عمران کے پیش نہ ہونے کے بعد سے پیچیدگیاں اور ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اس کیس کا جلد فیصلے سنانے اور عمران خان کو ممکنہ طور پر سزا سنائے جانے کے امکان کے پیش نظر پی ٹی آئی نے حکومت اور اداروں کے کیخلاف جاری مہم میں شدت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی کے الیکشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کیلئے سڑکوں پر مزاحمت پر غور کیا گیا اور ساتھ ہی سپریم کورٹ سے صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے الیکشن کی تاریخ مقرر کر وانے کیلئے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد میں اس فیصلے کا اعلان خود عمران خان نے اپنے مواصلاتی خطاب میں بھی کیا اور عوام سے اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہونے کی اپیل کی۔
اس حوالے سے قانونی ماہر احسن رانا کا کہنا تھا کہ، بادی النظر میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کو سزا سنائے جانے کے امکانات واضح ہیں۔ کیونکہ بنیادی شواہد الیکشن کمیشن کے ٹرائل اور فیصلے میں شامل ریکارڈ ہی سے دستیاب ہوں گے ۔ تاہم ملزم اور اس کے وکلائے صفائی اگر بہتر انداز میں کیس کا دفاع کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو صورتحال مختلف بھی ہوسکتی ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ الیکشن کمیشن کا کیس مضبوط ہے، جو پاکستان تحریک انصاف کو بھی دکھائی دے رہا ہے۔ اب پی ٹی آئی پر منحصر ہے کہ وہ اس کیس کو فوجداری مقدے کے طور پر لڑتی ہے یا صرف سیاسی مقدمے کے طور پر اپنا موقف پیش کرتی ہے۔ اگر اس نے صرف سیاسی بنیادوں پر کیس لڑنے کی کوشش کی تو قانونی نکات شاید انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں۔ ٹرائل کورٹ میں سیاسی بیانات سے زیادہ قانون اور شہادتوں پر کیس کا فیصلہ ہونا ہوتا ہے۔
آئینی و قانونی ماہر عامر سہیل کا کہنا تھا کہ تو شہ خانہ کیس میں ٹرائل کے بعد عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ یہ تو وقت بتائے گا اس وقت کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کا شاید یہی خیال ہے کہ عمران خان کو ہر صورت سزا ہی سنائی جائے گی۔ عدالتی و قانونی کارروائی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ، پاکستان میں عدالتی کارروائی کی ایک تاریخ ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک دیکھنا ہوگا کہ کتنے حکمرانوں اور لٹیریوں کو لوٹ مار یا اختیارات کے غلط استعمال پر سزا سنائی گئی ہے؟ مجھے عمران خان کے اس کیس میں بھی طوالت دکھائی دیتی ہے۔ اس طوالت کے کچھ اپنے تناظر دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے انا کا مسئلہ بنایا گیا ہے جس میں ریاست کے اہم ادارے بھی الگ دکھائی نہیں دیتے۔ اداروں میں گھمسان کا رن پڑ سکتا ہے اور یہ سبھی دیکھ رہے ہیں کہ ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی طرف سرگرم عمل ہیں۔ اب گھمسان کا رن ، ڈیزاسٹر کی جانب ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے جس میں کوئی ادارہ محفوط رہتا دکھائی نہیں دیتا۔ تمام سیاستدان عوام کے سامنے عیاں ہو چکے ہیں اور عوام سے کوئی چیز چھپی نہیں رہی۔ اس مکنہ انار کی کے دوران پاکستان کی مخالف قوتوں کی سازشوں کی تکمیل کی راہ ہموار ہو گی۔ جہاں تک مقدمات کا ےعلق ہے انھیں مقدمات کے طور پر ہی ڈیل کیا جانا چاہیے۔تصادم کا راستہ سبھی ترک کر دیں۔ مقدمہ درست ہو یا الزام غلط ہو، اس کا سامنا کرنا عقلمندی اور قانون کی بالا دستی پر یقین کی دلیل ہے۔
دوسری جانب عمران خان کی طرف سے کارکنان کو دوبارہ زمان پارک بلانے اور ریلیوں کے اعلان کے بعد نگران صوبائی حکومت کی طرف سے کوئی ر عمل اور حکمت عملی سامنے نہیں آئی تھی۔ تاہم پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یونین کونسل کی سطح پر اسکرینیں لگانے اور وہاں حکومت مخالف احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ حکومت کی ممکنہ سخت حکمت عملی سے کارکنوں کو ابتدائی طور پر بچانا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کے میڈیا سیل کی جانب سے کارکنوں کو پر امن رہنے کی تلقین کے حوالے سے کوئی ہدایت سامنے نہیں آئی اور نہ ہی خود عمران خان نے کارکنوں کو پر امن رہنے کے حوالے سے کوئی تلقین کی ہے، بلکہ انہیں بھرپور جواب دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق چند روز قبل لاہور میں نکلنے والی ریلی کے بعد عمران خان نے کچھ رہنماؤں پر شرکا کی تعداد کے حوالے سے ناراضی کا اظہار کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ زمان پارک میں اور ریلی میں بھی لوگوں کو کال کرنے کے بجائے اپنی یونین کونسل میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔
