عمران خان کا لالچ آئین اور جمہوریت کو کیسے لے ڈوبا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ عمران خان کو آئین کی الف کی بھی سمجھ نہیں، انہیں وفاق کی ’و‘ کا بھی فہم نہیں، وہ تو مرضی کا سپہ سالار لگانے اور اس کے توسط سے اگلی دہائی تک اقتدار میں رہنے کی حرص میں عساکر سے لڑ پڑے ، اور وہ بھی اس بودے انداز میں کہ سارا سفر ہی کھوٹا ہو گیا ۔ نو مئی کا ’انقلاب‘ اتنا احمقانہ تھا کہ کچھ گھنٹوں میں ا یک ایک انچ کر کے لی گئی سویلین اسپیس یک مشت لٹا دی گئی۔نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں آئینی جدوجہد کو زک پہنچی ہے۔
ایک شخص کی انا، اس کا تکبر اور منتقم المزاجی نے جمہوری عبا کے بخیے ادھیڑ دیے. اپنے ایک کالم میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ جب نواز شریف 1997 اور 99 کے دوران اپنی دوسری حکومت کر رہے تھے تو اُن کی کوئی موثر سیاسی مخالفت موجود نہیں تھی، پیپلز پارٹی پنجاب میں پسپا ہو چکی تھی اور کوئی تیسری بڑی جماعت سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ایسے میں ہم خواہش رکھتے تھے کہ ملک میں کوئی تیسری سیاسی قوت ہونی چاہیے تاکہ چیک اینڈ بیلنس کے ذریعے حکومت کو راہِ راست پر رکھا جا سکے۔اور بھی بہت سے دوست اس طرح سوچنے لگے تھے، مگر مارشل لا نے اس فطری سیاسی نُمو کا راستہ روک دیا۔ تقریباً ایک دہائی بعد آخرِ کار جب ایک تیسری سیاسی قوت نمودار ہوئی تو بہ وجوہ ہم اُس کا ساتھ نہ دے سکے، اندازہ لگائیے کہ ہم جیسے لوگ جو جمہوریت کے استحکام کیلئے تیسری قوت کو ضروری سمجھنے لگے تھے وہ عمران خان کا ساتھ نہیں دے سکے۔
حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ جب اسٹیٹس کو کی تمام مسلم علامتوں نے اکٹھے ہو کر ’تبدیلی‘ کا نعرہ لگایا تو اہلِ نظر مشکوک ہو گئے، تمام سجادہ نشین، الیکٹ ایبلز اور عساکر مل کر ’نیا پاکستان‘ بنانے نکلے تو بات صاف ہو گئی، وہ طبقات جو پرانے پاکستان میں سب سے زیادہ نوازے گئے تھے انہیں نئے نظام کی خواہش کیوں کر ہو سکتی تھی۔وہ ایک مضحکہ خیز کاروان تھا جس میں نسل در نسل گماشتے، جہانِ سیاست کے عادی مجرم اور سادہ لوح افراد خشوع و خضوع سے شامل ہوئے۔اور ہم جیسے جو تیسری قوت کو پنپتے دیکھنا چاہتے تھے، یہ منظر سائیڈ لائین سے دیکھتے رہے. اب آجائیے پاکستان کے حوالے سے ہم لوگوں کے مرغوب ترین خواب کی طرف، یعنی آئین کی بالا دستی کا خواب، وسائل کی منصفانہ تقسیم کا خواب، انصاف پر مبنی ایک مہذب معاشرے کا خواب۔اور آئین کے بالا دست ہونے کا معنیٰ ہوتا ہے عوام اور اس کے منتخب نمائندوں کی بالا دستی۔یہ خواب آج بھی خواب ہے۔ چراغِ خیر اور شرارِ شر 75 سال سے آپس میں لڑ رہے ہیں۔
حماد غزنوی کے مطابق عمران خان کا کردار اس ضمن میں بھی یادگار ہے۔ وہ راتوں رات آئین کی بالا دستی کی جنگ کے مجاہدِ اعظم ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں جب کہ وہ لوگ جو 75 سال سے یہ جنگ لڑ رہے ہیں، زندگیاں قربان کر رہے ہیں، جنہوں نے اپنے بچے اس یُدھ میں جھونک دیے، جیلیں کاٹیں، جلا وطنیاں سہیں، وہ یہ منظر سائیڈ لائین سے دیکھ رہے ہیں۔ کیوں؟ ان کے خیال میں عمران خان کو آئین کی الف کی بھی سمجھ نہیں، انہیں وفاق کی ’و‘ کا بھی فہم نہیں، وہ تو مرضی کا سپہ سالار لگانے اور اس کے توسط سے اگلی دہائی تک اقتدار میں رہنے کی حرص میں عساکر سے لڑ پڑے ، اور وہ بھی اس بودے انداز میں کہ سارا سفر ہی کھوٹا ہو گیا۔
نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں آئینی جدوجہد کو زک پہنچی ہے، انسانی حقوق کے محاذ پر ہم پچھڑ رہے ہیں اور فوجی عدالتوں کے حق میں دلائل دیے جا رہے ہیں، اورعمران خان کے فاش ازم سے گھبرائے ہوئے لوگ ان حرکات سے صرفِ نظر کر رہے ہیں، یہ اصحاب قائل ہیں کہ قاسم کا ابا فاشسٹ ہے، جمہوریت کیلئے خطرہ ہے، اور اس عفریت کا پھن انہی قوتوں کو کچلنا چاہیے جنہوں نے اسے دودھ پلایا ہے۔ بہر حال، اس صورتِ حال میں آئینی بالا دستی کا نعرہ پھیکا پڑ گیا ہے ‘۔یہ بہترین وقت تھا سیاسی قوتوں کے اتحاد کیلئے مگر ہوا اس کے یک سر برعکس، ایک شخص کی انا، اس کا تکبر اور منتقم المزاجی نے جمہوری عبا کے بخیے ادھیڑ دیے۔ سیاست نفرت کا بیوپار نہیں ہوا کرتی، سیاست مر جائو یا مار دو کا نام نہیں ہے، یوں تو سیاست دان آپس میں حریف ہوتے ہیں، لیکن در حقیقت صرف سیاست دان ہی سیاست دانوں کے حلیف ہوتے ہیں، اتنی سادہ سی بات عمران خان کو سمجھ ہی نہیں آ سکی۔بہرحال، کبھی مدھم پڑ جاتا ہے، کبھی چمک اٹھتا ہے، لیکن ہمارا خواب ایک ہی ہے، جمہور کی فتح کا خواب۔
