عمران خان کا 23 دسمبر کو پنجاب، کے پی کے اسمبلیاں توڑنے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے 23 دسمبر بروز جمعہ سے پنجاب اور کے پی کے اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ 90 روز کے اندار الیکشن کرائیں۔ لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں جلسوں سے مشترکہ لائیو خطاب کے دوران کہا کہ ہم نے 33 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کیں، ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا لیکن اس کے باوجود ہماری حکومت کو گرا کر سائیڈ لائن کر دیا گیا۔
جنرل باجوہ کے ماتحت افسران نے ہمارے رہنمائوں کو فون کو کڑے نتائج کی دھمکیاں دیں، آہستہ آہستہ ان کے چہرے ہمارے سامنے آیاں ہونے شروع ہوگئے، وزیراعلیٰ کے پی کے اور وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے ساتھ مشترکہ لائیو خطاب میں انھوں نے کہا کہ حکومت اکتوبر میں بھی الیکشن نہیں کرائے گی۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کو ملک کی فکر نہیں، ملکی معیشت گرتی ہے تو ان کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، اعظم سواتی اور شہباز گل نے کونسی غداری کی تھی کہ ان کو ننگا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ کونسی جمہوریت میں سچ کہنے پر لوگوں کو سزائیں دی جاتی ہیں، پاکستان میں اس وقت ڈاکو راج ہے، نواز شریف اور شہباز شریف ملک کا دیوالیہ نکال کر باہر گئے، ان کی چھوڑی ہوئی معیشت کو ہم نے سنبھالا دیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق پاکستان میں آئین میں تحریر ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہر وقت ملک میں تین ماہ کے اندر انتخابات کرانے کیلئے تیار رہنا چاہئے تو پھر الیکشن کمیشن اس سے معذرت کیوں کر رہا ہے، اپنے آپ کو بچانے کیلئے ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔
