عمران خان کی جلد گرفتاری متوقع ،تمام تیاریاں مکمل

باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک میں جاری معاشی بحران کے دوران عمران خان کی جاب سے جاری انتشاری سیاست کی وجہ سے مستقبل قریب میں عمران خان کی گرفتاری کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے زمان پارک اور بنی گالا کا سروے مکمل کر لیا ہے تا کہ جیسے ہی احکامات موصول ہوں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو گرفتار کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق عمران خان کی گرفتاری شام کے اوقات میں کی جا سکتی ہے اور اس پوری کارروائی میں 20؍ منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگے گا اور متعلقہ حکام نے ایسا طریقہ سوچ لیا ہے جس میں مزاحمت نہیں ہوگی۔ذرائع کے مطابق، گرفتاری سے پہلے وارنٹ حاصل کیا جائے گا۔ علاقے کی ریکی سے معلوم ہوا ہے کہ عمران خان کے پاس اپنی رہائش گاہ سے غائب ہونے کے راستے موجود ہیں تاہم، گرفتاری کیلئے کارروائی کی صورت میں انہیں بھاگنے نہیں دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی فی الحال انسانی ڈھال کو گرفتاری سے بچنے کیلئے تیار کر رہی ہے۔ زمان پارک میں موجود افراد کی تعداد400 سے 500 کے قریب ہو سکتی ہے۔ یہ تعداد ہفتے کے آخری دنوں میں زیادہ جبکہ دیگر دنوں میں کم رہتی ہے اس لئے پولیس کو گرفتاری کیلئے بھاری نفری کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ سکیورٹی حکام کی طرف سے عمران خان کی گرفتاری ان دنوں میں عمل میں لائی جائے گی جب زمان پارک کے اطراف میں رش کم ہو۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو گرفتار کرنے کے فوری بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق عمران کی گرفتاری میں دو سے زیادہ ٹیمیں حصہ لیں گی تاکہ مزاحمتی عناصر کو تقسیم کیا جا سکے اور فوری طور پر گرفتاری عمل میں لائی جا سکے۔ گرفتاری کے دوران سیکورٹی اہلکاروں سے مزاحمت کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر سے کسی قسم کی رعایت نہ برتنے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کی ٹانگ کا زخم اب ٹھیک ہو چکا ہے، اور گرفتاری کی صورت میں یہ بات میڈیکل بورڈ سے بھی ثابت ہو جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر گرفتاری بنی گالا سے ہوئی تو آسان ثابت ہوگی۔
سیاسی حلقوں میں عمران خان کی گرفتاری کی سوچ بلاوجہ پیدا نہیں ہو رہی بلکہ اسکا ایک قابل فہم اور منطقی تناظر بھی موجود ہے جن میں بالخصوص ان کیخلاف عدالتوں میں دائر بعض اہم مقدمات اور ریفرنس فیصلوں کے منتظر ہیں جن پر اہم پیشرفت کا آغاز ہوا ہے۔توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ایک عدالت نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر رکھا ہے جبکہ ممنوع فنڈنگ کیس میں وہ عبوری ضمانت پر ہیں گوکہ ضمانت میں چند دنوں کی توسیع تو کردی گئی ہے تاہم جج نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر 10 فروری کو عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے اور کوئی نئی درخواست لانے یا عدالتی حکم کو نظرانداز کرنے کے مترادف کوئی قدم اٹھایا گیا تو ضمانت خارج کردینگے۔
خیال رہے کہ عمران خان کے خلاف اس وقت ملک کی مختلف عدالتوں میں کئی مقدمات زیرسماعت ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان کے خلاف سب سے اہم توشہ خانہ کے تحائف اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے سے متعلق فوجداری مقدمہ ہے۔اسلام آباد کی سیشن عدالت الیکشن کمیشن کی درخواست پر عمران خان کا مبینہ طور پر کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہونے پر ٹرائل کر رہی ہے۔ اس کیس میں الیکشن کمیشن سابق وزیراعظم کو اثاثوں میں توشہ خانہ کے تحائف چھپانے پر ڈی سیٹ کر چکا ہے جبکہ فوجداری کارروائی کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کیا ہے۔الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 137 اور 170 کے تحت فوجداری مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس کیس میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں تین سال قید یا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ماہر قانون شاہ خاور کے مطابق فوجداری مقدمہ ثابت ہونے کی صورت میں نہ صرف سزا ہو گی بلکہ عمران خان پر نا اہلی کی تلوار بھی لٹک رہی ہے۔
عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ایک مقدمہ زیرسماعت ہے۔ جس میں ایک شہری نے سابق وزیراعظم کی جانب سے مبینہ بیٹی چھپانے کے خلاف کارروائی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔شہری کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں مبینہ بیٹی کو چھپایا ہے اس لیے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عمران خان پر اس کیس میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں بھی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔شاہ خاور کے مطابق یہ کیس ثابت ہونے پر سابق وزیراعظم صادق اور امین نہ ہونے پر نااہل ہو جائیں گے کیونکہ درخواست گزار نے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا ہے اور وہ کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنا تاحیات نااہلی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے بینکنگ کورٹ میں دائر ایک مقدمہ زیرسماعت ہے۔2022 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیا گیا تھا جس میں پی ٹی آئی پر ممنوعہ سورس سے فنڈ حاصل کرنا ثابت ہوا ہے۔ایف آئی اے نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی ہے۔عمران خان بینکنگ کورٹ سے اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں تاہم آئندہ سماعت پر انہیں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کیس میں ایف آئی اے نے تاحال چالان جمع نہیں کرایا جبکہ پی ٹی آئی نے اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس کے بعد معاملہ ایک بار پھر الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کر دیے ہیں جس پر تحریک انصاف ایک بار پھر مفصل جواب جمع کرائے گی۔ الیکشن کمیشن جواب سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں ممنوعہ ذریعے سے حاصل کردہ فنڈز ضبط کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کی درخواست الیکشن کمیشن میں زیرالتوا ہے۔ تاہم اس نوعیت کی ایک اور درخواست لاہور ہائی کورٹ کے سامنے بھی موجود ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس معاملے پر الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ان کیسز کی وجہ سے ماہرین قانون کے مطابق عمران خان کی گرفتاری اور نااہلی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور امکانات کوتقویت ملتی ہے۔
