عمران خان کی سیاست آئی ایس آئی چیف کی مہربانی ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی پوری سیاست کسی آئی ایس آئی چیف کی مہربانی ہے اور جب سے یہ حکومت آئی ہے ہر طبقہ پریشان ہے. وزیراعظم بتائیں کہ ان کی کون سی کرپشن کی وجہ سے مہنگائی ہوئی ہے۔ وزیراعظم مان لیں وہ نااہل، نالائق اور سلیکٹڈ ہیں انہیں گھر جانا پڑے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں مہنگائی اور غربت مزید بڑھ گئی ہے اور ہرطبقہ پریشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بےبس پارلیمنٹ میں مہنگائی پربحث ہورہی ہے، حکومت کی خالی نشستوں سے بحث کی اہمیت کا اندازہ ہورہا ہے کہ وہ کتنی اہمیت دے رہے ہیں، انہوں نے تو اپنے سینئر وزرا کو بھی نہیں بھیجا، یہاں وزرائے مملکت، سائنس اور پوسٹ کا وزیر موجود ہے لیکن اصل وزیر نہیں ہیں۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ‘جب یہ حکومت آئی تو مہنگائی اور بے روزگاری تھی لیکن اب بہت بڑھ گئی ہے یہ حقیقت ہے، حکومتی ادارے ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، بیورو آف اسٹیٹکس کیا کہہ رہا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘بیورو آف اسٹیٹکس حکومتی ادارہ کہہ رہا ہے کہ پچھلی دہائی میں مہنگائی اتنی تیزی سے نہیں بڑھی جتنی پچھلے ایک سال میں بڑھی. ان کا کہنا تھا کہ خوراک کی مہنگائی ایک اعشاریہ 6 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ جلد خراب ہونے والے غذائی اجناس میں مہنگائی 78 فیصد ہوگئی ہے، دال کی قیمتوں میں 83 فیصد پیاز میں 125 فیصد، ٹماٹر 158 فیصد اور آلو 87 فیصد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ اعداد و شمار میرے نہیں بلکہ حکومتی ادارے کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘اہم بات یہ ہے کہ عام مہنگائی کا اثر دیہاتوں کے رہائشیوں پر زیادہ پڑا ہے، مہنگائی کا عام تناسب 14 فیصد ہے جبکہ مضافات کے لیے 16 فیصد ہے، اس سب کے باوجود گیس 55 فیصد، ایندھن76 فیصد، بجلی کی قیمتوں میں 14 فیصد کا اضافہ کیا ہے’۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے ڈیل پاکستان اور پاکستان کے عوام کے حق کے لیے اچھی نہیں، آئی ایم ایف ڈیل میں غیر حقیقی اہداف مقرر کیے گئے، حکومت مہنگائی، غربت، بیروزگاری کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا کر رہی کوئی جواب نہیں، حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ 12 لاکھ نوکریوں سے محروم ہو چکے ہیں، آپ نے سب کچھ آئی ایم ایف کے حوالے کردیا ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہمیں اپنے حلقوں میں عوام کے پاس جانا ہے اور وہ ہم سے سوال کرتے ہیں، عوامی نمائندے اس معاشی قتل پر خاموش نہیں رہ سکتے، صرف اور صرف وہ لوگ جو عوامی نمائندے نہیں ہیں بلکہ کسی اور طریقے سے آئے ہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ مہنگائی نہیں ہے اور عوام کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ‘ہمیں سب یاد ہے کہ جب عمران خان کہتے تھے کہ جب وزیراعظم کرپٹ ہوتا ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے، جب حکومت نااہل، نالائق، سلیکٹڈ اورعوام کی منتخب کردہ نہ ہو توعوام کا درد بھی محسوس نہیں ہوتا، آئی ایم ایف کے سامنے جھک جاتے ہیں اور اپنے مفاد کیلئے غریب عوام کے معاشی حقوق کی سودے بازی کرتے ہیں پھر مہنگائی بڑھتی ہے جیسے آج بڑھی ہے’۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ‘وزیراعظم کو بتانا چاہیے کہ ان کی کون سی کرپشن کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے یا ہماری بات مان لیں کہ وہ نااہل ہیں، نالائق ہیں اور سلیکٹڈ ہیں، جو بھی ہیں گھر جانا پڑے گا اور عوام کو ریلیف دینا پڑے گا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا وزیراعظم کہتا تھا کہ وہ قرض نہیں لیں گے قرض لینے سے پہلے وہ خود کشی کریں گے اور اب پاکستان کا اپنا اسٹیٹ بینک، عمران خان کا اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ حکومت نے پچھلے 15 مہینوں میں11 ہزار ارب روپے کا قرض لیا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ حکومت ہمیشہ ماضی کی بات کرتی ہے، پچھلے 61 سال، 1947 سے 2008 تک 6 ہزار ارب قرض لیا گیا تھا اور پچھلے 15 مہینوں میں 11 ہزار ارب قرض لیا گیا، پی پی پی نے 2008 سے 2013 تک اندازاً ہر دن 5 ارب اور مسلم لیگ (ن) کے 2013 سے 2018 کے دور میں اندازاً ہرروز 8 ارب روپے کا قرض لیا تھا لیکن اب پچھلے مہینوں میں پی ٹی آئی حکومت نے ہر روز 25 ارب روپے کا قرض لے رہے ہیں’۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان نے تو کہا تھا کہ وہ خود کشی کریں گے لیکن ہمار مطالبہ خود کشی نہیں بلکہ مان لو کہ آپ غلط تھے اور عوام کو ریلیف دو ورنہ گھرجانا پڑے گا’۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے ٹیکس اہداف بھی پورے نہیں کرپا رہی اور غریب عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیاں عوام دشمن ہیں، حکومت کا بجٹ عوامی نہیں بلکہ پی ٹی آئی ایم ایف ہے جبکہ حکومت بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرناچاہتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان جیسے چھوٹے آدمی سے محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام برداشت نہیں ہو رہا اور وہ اس عوامی فلاحی پروگرام کو بھی سبوتاژ کرنا چاہتا ہے.چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ کے سیاسی یتیموں کا ٹولہ عمران حکومت کا حصہ ہے، اس ٹولے پر شہید بینظیر بھٹو کے بہت احسانات ہیں، کسی کو وزیر، کسی کو سینیٹر اور کسی کی خواتین کو ممبر اسمبلی بنایا لیکن وہ ہی سیاسی یتیم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بی بی کا نام ہٹانے میں مدد کررہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی پوری سیاست کسی آئی ایس آئی چیف کی مہربانی ہے اور جب سے یہ حکومت آئی ہے ہر طبقہ پریشان ہے، مہنگائی نے اس ملک کے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے.انہوں نے کہا کہ عمران خان کو آئی ایس آئی کے جس چیف نے وزیراعظم بنوایا اس کا اعتراف ریکارڈ پر موجود ہے جس پر سپیکر نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر انہوں نے دوبار یہ جملہ دہرایا جس پر حکومتی بنچوں کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا تاہم بلاول نے اپنی تقریرجاری رکھی.
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وزیراعظم ہمارا قتل کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ قبر میں سکون ملتا ہے، پاکستانی عوام اب تجربے برداشت نہیں کر سکتی، حکومت 50 ہزار یوٹیلٹی اسٹورز کا منصوبہ لا رہی ہے، اس منصوبے کا حال بھی 50 لاکھ گھروں کے منصوبے جیسا ہوگا جب کہ حکومت کو منی بجٹ لانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے چند وفاقی وزرا کو چھوٹا کہنے پر اسپیکر نے دلچسپ انداز میں کہا کہ وزیر وزیر ہوتا ہے چھوٹا بڑا نہیں۔ قومی اسمبلی میں مہنگائی پر بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فواد چوہدری اور مراد سعید کا نام لئے بغیر کہا کہ ایوان میں وفاقی وزیر سائنس اور مواصلات جیسے چھوٹے وزیر موجود ہیں لیکن بڑے وزیر نہیں، امید ہے ایک وقت ایسا آئے گا جب وزیر خزانہ بھی ہوں گے۔ اس موقع پر اسپیکر اسد قیصر نے مداخلت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو کہا کہ وزیروزیر ہوتا ہے، وہ چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو چھوٹا آدمی کہنے پر اسپیکر نے مداخلت کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ وزیر اعظم عمران خان کو یہ نہیں کہہ سکتے۔ جس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مانتے ہیں لیکن اسپیکر کا کام نہیں کہ وزیر اعظم کا دفاع کرے۔ وزیراعظم کتنا چھوٹا بڑا آدمی ہے، پوسٹل وزیر بتائیں گے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کی تنقید بھری تقریر کو ختم کرنے کے لئے حکومتی ارکان کی جانب سے اسپیکر کو اشارے کئے گئے تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں قاعدے قانون کی رو سے چلنا ہوگا۔
