عمران لاپتہ صحافی کے خاندان کو کیوں نہیں ملنا چاہتے تھے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر وزیراعظم عمران خان نے تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد تین برس پہلے غائب ہونے والے صحافی مدثر نارو کے خاندان سے ملاقات تو کر لی لیکن یہ صرف ایک رسمی کاروائی قرار دی جا رہی ہے جسکا مقصد عدالتی حکم کی تعمیل کرنا تھا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ان کا یہ اعلان صحافتی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں آیا اور یہ الزام عائد کیا گیا کہ وزیر اعظم صحافیوں کو اغوا کرنے والوں کا محاسبہ کرنے کی بجائے اغوا کاروں کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور کچھ دیگر حکومتی وزراء کی جانب سے سمجھانے بجھانے کے بعد وزیر اعظم نے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مدثر نارو کے خاندان سے ملنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم اس ملاقات کی تصاویر دیکھی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا موڈ سخت آف تھا اور وہ مجبوری میں مدثر نارو کے خاندان سے مل رہے تھے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شاید مدثر نارو کے خاندان سے اس لیے نہیں ملنا چاہتے تھے کہ کچھ عرصہ پہلے مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مدثر کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے بیٹے کو اپنی گود میں اٹھا لیا تھا۔
وزیراعظم سے ملنے کے بعد تین برس پہلے اغواء ہونے والے صحافی کی والدہ راحت نے کہا کہ ‘ہم نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ مدثر نارو کون ہے۔۔۔ انھیں میرے بیٹے کی جبری گمشدگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا تھا۔ انہیں تو عدالت نے حکم دیا تو انھوں نے ہمیں بلا لیا’۔ انہوں نے اپنی گود میں موجود مدثر نارو کے بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے یہ بچہ اگلے سال فروری میں چار سال کا ہوجائے گا لیکن ہمارے پاس اسکے اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ اس کے والد کہاں ہیں۔’ انھوں نے بتایا کہ 9 دسمبر کو ان کو وزیرِ اعظم ہاؤس سے بلاوا آیا اور کہا گیا کہ آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ ‘عمران خان نے ہمیں ملتے ہی پوچھا کہ آپ کے بیٹے کو کون لوگ لے گیا ہے اور کیوں؟ انھیں نہیں پتا تھا کہ مدثر کس ایجنسی کے پاس ہے لہذا انھوں نے آرڈر جاری کیے ہیں کہ باقاعدہ تحقیقات کر کے ہمیں اطلاع دیں کہ مدثر نارو کہاں ہے۔
مدثر کی والدہ راحت نے کہا کہ اس برے وقت میں وکلا اور شیریں مزاری نے ہماری بہت مدد کی ہے۔ لیکن اب ہماری التجا ہے کہ ہمارے بیٹے کو چھوڑ دیا جائے۔’
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں لاپتہ صحافی اور بلاگر کے والدین اور کمسن بیٹا بھی شامل تھا۔وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے مراسلے کے مطابق اس ملاقات میں وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور سیکریٹری داخلہ یوسف ندیم کھوکھر شریک ہوئے۔واضح رہے کہ مدثر نارو کو مبینہ طور پر اُس وقت جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جب وہ 20 اگست 2018 کو اپنے اہلخانہ کے ہمراہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے خیبر پختونخواہ کے سیاحتی مقامات ناران اور کاغان گئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کا بچہ بھی تھا۔ بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے مدثر نارو کے والدین کو واقعے سے متعلق تحقیقات اور تمام تر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مدثر کے والدین کو ‘تسلی بخش جواب’ دیں۔
ادھر مدثر کے وکلا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عمران خان نے تسلیم کیا کہ انھیں مدثر نارو کیس کے بارے میں علم نہیں تھا مگر انھوں نے اس واقعے پر افسوس ظاہر کیا اور خاندان کو بتایا کہ پی ایم او انھیں آئندہ دو سے تین روز میں تفصیلات سے آگاہ کرے گا۔ واضح رہے کہ اس ملاقات سے پہلے 4 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ مدثر نارو کو 13 دسمبر کو عدالت میں پیش کریں۔
یاد رہے کہ 9 دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس روز جہاں ایک طرف یہ مدثر نارو کے والدین اور کم عمر بیٹے سے وزیرِ اعظم عمران خان نے ملاقات کی، وہیں دوسری جانب اسلام آباد کے ڈی چوک پر بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے رشتے داروں نے احتجاج کیا۔
رواں ماہ کے اوائل میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ لاپتہ صحافی مدثر نارو کو 13 دسمبر کو عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا تھا کہ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اس مقدمے کی اگلی سماعت سے پہلے مدثر نارو کے والدین، اہلیہ اور بچے کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو یقینی بنائیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالتی حکم نامے میں واضح کیا تھا کہ یہ ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے کہ وہ مطمئن کریں کہ ریاست یا ایجنسیاں لاپتہ شخص کو اغوا کرنے میں ملوث نہیں اور اگر جبری طور پر لاپتہ ہونے والے شخص کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی جاتیں تو وفاقی حکومت ذمہ دار اداروں کا پتا لگا کر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائے اور اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔ تاہم اس عدالتی حکم کے بعد پہلے وزیراعظم نے مدثر نارو کے خاندان سے نہ ملنے کا اعلان کیا لیکن پھر سمجھانے پر اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ ، پاکستان نے پہلی بار میڈل جیت لیا
اس موقع پر مدثر کے بھائی کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی کارروائی سے مطمئن ہیں اور اب انھیں یقین ہو چلا ہے کہ ان کے بھائی کے بارے میں جلد ہی کوئی اچھی خبر سننے کو ملے گی۔ یاد رہے کہ عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم اپنے زیر کنٹرول ایجنسیوں کو مدثر نارو کو عدالت میں پیش کرنے یا ان کے ٹھکانے کا پتا لگانے کی ہدایت کریں۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ مدثر کی عدم بازیابی کی صورت میں اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہو کر اس بارے میں وفاقی حکومت کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں۔
مدثر نارو کی گمشدگی سے متعلق رواں سال عدالت میں دائر درخواست کے مطابق 2018 کے انتخابات کے چند دن بعد انھیں مبینہ طور پر فون پر دھمکی دی گئی کہ وہ سوشل میڈیا پر انتخابی دھاندلی کے بارے میں لکھنا بند کردیں۔ مدثر کے بھائی مجاہد محمود کے مطابق لاپتہ ہونے سے قبل ہی مدثر نارو کو دھمکی آمیز کالز موصول ہوئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے باز رہیں ورنہ انھیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نہوں نے بتایا کہ واقعے کے روز ان کا بھائی اپنی بیوی کے ساتھ یہ کہہ کر باہر گیا تھا کہ وہ سیر کے لیے جا رہے ہیں مگر وہ پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ مدثر کی اہلیہ صدف اپنے شوہر کو ڈھونڈنے کے لیے تین برس کوشاں رہیں لیکن رواں سال 8 مئی کو اچانک ان کی وفات ہوگئی۔

Back to top button