عمران نے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کا فیصلہ کرلیا ہے


عمران خان سے ایک ملاقات کے بعد سینئر صحافی اورتجزیہ کار حامد میر نے بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم قائل ہیں کہ کہیں نہ کہیں ان کے خلاف فیصلہ کیا جا چکا ہے، انہیں ہر قیمت پرنااہل بھی کیا جانا ہے اورپھران کی گرفتاری کی کوشش بھی کی جائے گی، لیکن وہ ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے اور لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ جیو نیوز پر شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے اپنی ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ عمران اپنے چیف آف سٹاف شہباز گل کی گرفتاری پر کافی رنجیدہ نظر آئے۔ انہوں نے بار بار کہا کہ مجھے نیچا دکھانے اور بغاوت کیس میں پھنسانے کیلئے شہباز گل پر ٹارچر کیا گیا حالانکہ اس سے زیادہ سخت باتیں ماضی میں دیگر سیاستدان کر چکے ہیں۔

حامد میر نے بتایا کہ انہیں تب حیرانی ہوئی جب عمران خان نے بتایا کہ انہیں ابصار عالم کو گولی مارنے اور اسد طور پر گھر میں گھس کر تشدد کرنے کے واقعات کا علم ہی نہیں تھا، تاہم عمران قائل ہیں کہیں نہ کہیں ان کے خلاف فیصلہ کیا جاچکا لیکن وہ بھی مقابلہ کرنے اور لڑنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان سے تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے بہت سی پرانی باتیں کیں، میں کچھ باتیں سامنے نہیں لا سکتا البتہ مجھے تاثر یہی ملا کہ عمران کچھ معاملات پر سوچ رہے ہیں۔ مجھ سے ملاقات سے پہلے ان کی ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی جس میں اسد عمر ، پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری بھی موجود تھے، اس میٹنگ میں اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کی پالیسی اپنانے یا نہ اپنانے پر گفتگو ہوئی۔ بقول حامد میر، عمران خان نے مجھے بیک گراؤنڈ بتایا کہ ان کے مسئلے کہاں سے شروع ہوئے تھے۔ عمران خان نے کچھ واقعات بتائے لیکن مجموعی طور پر مجھے لگ رہا تھا کہ وہ ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، حامد میر نے کہا کہ اگر ان کے ساتھ لڑائی بڑھائی جائے گی اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کے لیے بھی ان کے پاس لائحہ عمل موجود ہے۔ اسکے علاوہ اگر کوئی بات چیت کا راستہ اختیار کرے گا تو اس کے لیے بھی ان کے پاس اپنی شرائط موجود ہیں، بظاہر انہوں نے تاثر یہی دیا کہ وہ لڑائی کے لیے بھی تیار ہیں اور الیکشن کی خاطر بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں۔

حامد میر کے بقول عمران سمجھتے ہیں کہ شہباز گل کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں بھی بغاوت کیس میں ملوث کرنے کے لیے شہباز گل سے بذریعہ تشدد بیان لینے کی کوشش کی گئی۔ ان کے پاس گل کے معاملے پر کچھ ایسی معلومات تھیں جو انہوں نے ابھی تک شیئر بھی نہیں کیں، وہ بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ مجھے نیچا دکھانے اور گرانے کے لیے شہباز گل پر ٹارچر کیا گیا۔

سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ میں نے عمران کو بتایا کہ جب آپ وزیر اعظم تھے تو ہمارے کئی صحافی ساتھیوں کو اغوا کر کے ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا تھا۔ لیکن عمران نے ان واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا جس پر مجھے بڑی حیرانی ہوئی، میں نے انہیں تفصیلات بتائیں لیکن مجھے اور زیادہ حیرانی تب ہوئی جب میں نے ابصار عالم کا ذکر کیا تو عمران نے کہا اس کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ میں نے کہا انہیں گولی ماری گئی تھی، انہوں نے کہا اچھا! اس کو گولی مار دی تھی؟ بقول حامد میر، میں نے کہا اچھا! آپ وزیراعظم تھے اور آپ کو نہیں پتہ کہ اسلام آباد میں ابصار کو گولی ماری گئی تھی، میں نے انہیں اسد طور پر ہوئے حملے کی تفصیل بھی بتائی کہ کیسے انکے گھر میں گھس کر ان پر تشدد کیا گیا۔

لیکن عمران ان تمام واقعات سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے تھے۔ جب حامد میر نے انہیں یاد دلایا کہ چونکہ تب ملک کے چیف ایگزیکٹو آپ تھے اس لیے جوابدہ بھی آپ ہی ہیں تو وہ دوبارہ سے شہباز گل کے واقعے کی جانب آ گئے اور کہنے لگے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ سب کون کروا رہا ہے لیکن وہ مجھے بلیک میل نہیں کر سکیں گے، وہ مجھے پریشرائز نہیں کر سکیں گے، لہٰذا مجھے لگا کہ ذہنی طور پر عمران تیار ہیں اور ان کو پتہ ہے کہ ان کو نااہل کر دیا جائے گا۔

بقول حامد میر، میں نے ان سے پوچھا کہ اگر ماضی میں وزرائے اعظم کو اثاثے چھپانے اور توہین عدالت پر نااہل کیا جا سکتا ہے تو کیا ایسا واقعہ آپ کے ساتھ نہیں ہو سکتا؟ اس پر عمران نے کہا ان کے اور میرے کیسوں میں فرق ہے، مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے، حامد میر کا کہنا تھا کہ جس بات پر مجھے بہت زیادہ حیرانی ہوئی وہ یہ تھی کہ توہین عدالت والے معاملے کو وہ بہت ہلکا لے رہے تھے، میرا خیال ہے کہ اس ایشو پر انہوں نے وکلا کے ساتھ بھی تفصیل سے صلاح مشورہ نہیں کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان قائل ہیں کہ کہیں نا کہیں ان کے خلاف فیصلہ کیا جا چکا ہے، انہیں ہر قیمت پرنااہل بھی کرنا ہے اورپھر ان کو گرفتار کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی، حامدمیر کے مطابق شاید عمران کے ذہن میں یہ بھی ہے کہ میں نہ تو نواز شریف ہوں اور نہ یوسف رضا گیلانی، اسلئے اگر میرے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا یا مجھے نااہل کیا گیا یا مجھے گرفتار کیا گیا تو اسلام آباد پر خیبر پختونخوا سے بھی سیاسی یلغار ہوگی اور پنجاب سے بھی سیاسی یلغار ہوگی، شہباز شریف کی حکومت اور ایسے میں رانا ثنا اللہ کی پولیس اور دیگر ادارے انکی سیاسی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ دیکھیے اب اگلے دنوں میں کیا ہوتا ہے لیکن میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو عدالت کے ساتھ تصادم نہیں کرنا چاہیے، ان کو معافی مانگنی چاہیے لیکن وہ جو بھی حکمت عملی بنا رہے ہیں وہ ایک سیاسی حکمت عملی ہے وہ قانونی حکمت عملی نہیں ہے۔

Back to top button