اس وقت قومی مسئلہ نمبر 1 سیلاب کی بجائے شہباز کیوں ہے؟

سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد ایمرجنسی کی صورت حال ہے لیکن ٹیلی ویژن اسکرینیں اور اپوزیشن اور حکومت شہباز گل کے ساتھ جنسی زیادتی اور خاتون جج کے خلاف عمران خان کے نازیبا کلمات کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ یہ ملک کہاں چلا گیا ہے اور یہ کہاں جا رہا ہے؟ کیا کسی کو احساس ہے؟ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ لاکھوں لوگ اس وقت کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن وفاق میں کیا ہو رہا ہے؟ عمران خان روز چار گھنٹے ایکسرسائز کرتے ہیں، نہاتے دھوتے ہیں، قوم سے وہی گھسا پٹا خطاب فرماتے ہیں اور اس کے بعد ٹیلی ویژن اسکرینیں سیلاب زدگان کو بھلا کر عمران خان کے پیچھے دوڑ پڑتی ہیں اور پھر حکومت لنگوٹ کس کر جواب دینا شروع کر دیتی ہے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں آنکھیں مل رہا تھا اور بار بار غور سے تصویر دیکھ رہا تھا لیکن آنسوؤں کی وجہ سے ہر بار تصویر دھندلا جاتی تھی‘ مٹی اور پانی نے مل کر دیوار سی بنا دی تھی اور اس دیوار میں مختلف سائز اور عمروں کے پانچ بچوں کی نعشیں چنی ہوئی تھیں‘ نعشیں مٹی کے ڈھیر میں مٹی کے نقش محسوس ہوتی تھیں اور غور سے دیکھنے سے نظر آتی تھیں‘ یہ بچے کون تھے اور یہ سیلاب میں بہہ کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے؟میں نہیں جانتا تھا لیکن یہ نعشیں پاکستان کے اجتماعی ضمیر کا خوف ناک نوحہ تھیں اور یہ نوحہ قوم کا گریبان پکڑ کر بتا رہا تھا قومیں جب بے حس ہو جاتی ہیں تو انھیں بچوں کی نعشیں بھی نہیں جگا سکتیں۔
یہ پانچ بچے ان 822 لوگوں میں شامل ہیں جو پاکستان کے تازہ ترین سیلابوں اور بارشوں کا نشانہ بن گئے‘ جولائی اور اگست کی بارشوں نے پورے ملک میں تباہی پھیلا دی ہے‘ بلوچستان میں 30 برسوں کے ڈیٹا کے مطابق 370 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں اور سندھ میں 400 فیصد جب کہ پورا جنوبی پنجاب اور آدھا کے پی‘ گلگت بلتستان اور کشمیر اس وقت پانی میں ڈوبا ہوا ہے‘ جھیلیں پھٹ رہی ہیں‘ ڈیم ٹوٹ رہے ہیں اور پوری پوری بستیاں بہہ کر سیکڑوں میل دور جا پڑی ہیں‘ سندھ میں 231 لوگ‘ بلوچستان میں 225‘ کے پی میں 166‘ پنجاب میں 151‘ گلگت بلتستان میں 9 اور آزاد کشمیر میں 37 لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں۔بلوچستان کا 95 فیصد حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے‘ ڈیڑھ لاکھ مکان‘ فیکٹریاں اور شاپنگ ایریا زمین بوس ہیں‘ گاڑیاں پانی میں بہہ گئی ہیں اور فصلیں اور باغ مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں‘ ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس تک غائب ہے جب کہ متاثرین صاف پانی اور خوراک کو ترس رہے ہیں‘ خیمے لگانے کے لیے بھی جگہ نہیں بچی‘ سندھ کی رابطہ سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں‘ سندھ اور بلوچستان کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔بلوچستان کے 21 ڈیم ٹوٹ گئے ہیں‘ پورے پورے اضلاع کی فصلیں اور کھیت ختم ہو گئے ہیں اور لوگ اس وقت کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔.
تاہم جاوید چوہدری افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری اپوزیشن اور حکومت شہباز گل کے ساتھ جنسی زیادتی اور خاتون جج کے خلاف عمران کے کلمات کے پیچھے بھاگ رہی ہے‘ یہ ملک کہاں چلا گیا ہے اور یہ کہاں جا رہا ہے؟ کیا کسی کو احساس ہے!۔ انکاکہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب آج کا ایشو نہیں ہے‘اس خطے میں 11 لاکھ سال سے ساون کا موسم آ رہا ہے‘ مہا بھارت‘ پران اور گیتا میں بھی بارشوں اور سیلابوں کی تباہی کا ذکر ہے‘ سینٹرل ایشیا سے دس ہزار سال سے طالع آزما ہندوستان آ رہے ہیں لیکن یہ بھی جولائی کا مہینہ شروع ہوتے ہی مون سون سے قبل بھارت سے نکل جاتے تھے‘ آپ نے کبھی سوچا محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 حملے کیوں کیے؟ وہ بھی ہر مون سون سے پہلے ہندوستان سے واپس دوڑ جاتا تھا‘ مون سون تاریخ کے ہر دور میں ہندوستان کا سب سے بڑا دفاع رہی‘ اس خطے کی تاریخ ہے یہاں جولائی‘ اگست اور ستمبر کے دوران کوئی سیاسی‘ عسکری اور سفارتی مہم کام یاب نہیں ہوئی‘ پاکستان اور بھارت بھی مون سون میں بنے تھے۔
مہاجرین کو اس دوران کیا کیا مصیبتیں جھیلنا پڑیں تاریخ آج تک اس پر آنسو بہا رہی ہے لہٰذا بارش کی مصیبت اگر اچانک آئے تو یہ شاید واقعی مسئلہ ہو لیکن یہ عذاب اگر ہزاروں لاکھوں سالوں سے آ رہا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے ہم نے اب تک اس کے تدارک کے لیے کیا کیا؟ ہماری تیاریاں اور بندوبست کہاں ہیں؟دنیا بھر کے لوگ اکتوبر کے مہینے میں رضائیاں اور سویٹر نکال کر سردیوں کی تیاریاں کر لیتے ہیں اور مارچ شروع ہوتے ہی گرم کپڑے الماریوں میں پیک کر دیتے ہیں اور ہلکے لباس نکال لیتے ہیں لیکن ہم جس خطے میں رہ رہے ہیں وہاں ہر سال سیلاب آتا ہے اور ہم اس سیلاب کے لیے کیا تیاری کرتے ہیں؟
جاوید چوہدری سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم بارش سے پہلے اپنے پرنالے‘ پائپ‘ نالیاں‘ گٹڑ‘ جوہڑ‘ ندیاں‘ جھیلیں اور ڈیم چیک کرتے ہیں‘ کیا پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ موجود ہے جو پورے ملک کی آبی گزرگاہوں کا ڈیٹا جمع کرتا ہو اور جو لوگوں کو سیلاب سے پہلے گزر گاہوں سے دور ہٹنے اور اپنے مال مویشی بلند جگہوں پر لے جانے کا حکم دیتا ہو اور جس نے آج تک لوگوں کو آبی گزر گاہوں پر مکان‘ ڈیرے اور باڑے بنانے سے روکا ہو یا دریاؤں اور نہروں کے کناروں پر فصلیں اگانے پر پابندی لگائی ہو یا جس نے حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کو پانی کا بہاؤ روکنے سے منع کیا ہو؟ دوسرا کیا ہم نے آج تک سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کوئی ٹھوس سسٹم بنایا؟ ملک میں ہر سال سیلاب آتا ہے اور قوم گھبرا کر این ڈی ایم اے کی طرف دیکھنے لگتی ہے اور این ڈی ایم اے فوج سے مدد مانگتی رہتی ہے۔ جاوید چوہدری پوچھتے ہیں کہ کیا یہ ہے ہمارا بندوبست؟
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میری حکومت سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر کم از کم سیلابوں سے نمٹنے کا سسٹم تو بنا دیں‘ ہم مارچ میں بارشوں اور سیلابوں کی وارننگ جاری کرنا شروع کریں‘ ضلعی انتظامیہ آبی گزرگاہوں کا جائزہ لے اور جہاں جہاں رکاوٹ نظر آئے یہ اسے ہٹا دے‘ لوگوں کو محفوظ ٹھکانوں کے بارے میں بھی بتا دیا جائے اور فوڈ سپلائی کا سسٹم بھی بنا دیا جائے‘ ہم نے اگر نالے کھلے اور لمبے کرنے ہیں تو پھرایک ہی بار کر دیں‘ سیلابی بہاؤ پر جھیلیں‘ جوہڑ اور نالے بناتے چلے جائیں تاکہ جب پانی آئے تو یہ سینکڑوں نالوں‘ جوہڑوں اور جھیلوں میں تقسیم ہو جائے اور یوں اس کی تندی ختم ہو جائے گی‘ امریکا میں ہر رہائشی بلاک کے لیے بارشی پانی کا ذخیرہ بنانا لازم ہے‘ ہندوستان میں بھی ہزاروں سال تک باؤلیاں اور تالاب بنائے جاتے تھے۔ہم آج اسے دوبارہ قانون کیوں نہیں بناتے؟ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اپنے ڈیمز‘ جھیلیں اور ذخیرہ گاہیں بھی ہونی چاہییں‘ ان سے زیرزمین پانی کا لیول بھی بڑھے گا‘ جانوروں اور پودوں کو بھی پانی ملے گا اور ماحول بھی صاف ستھرا ہو جائے گا‘ ہم ہر سال کروڑوں کیوسک پانی ضایع بھی کرتے ہیں‘ یہ پانی بستیاں اور شہر بھی بہا لے جاتا ہے اور ہم لوگوں کی بحالی اور امداد پر بھی اربوں روپے خرچ کرتے ہیں اور یہ اخراجات ایک مستقل عمل ہے۔ بقول جاوید چودھری، ہم اگر ایک ہی بار چھوٹے چھوٹے ڈیمز‘ نالے اور جھیلیں بنا دیں تو ہم عوامی نقصان اور ہر سال کے خرچے دونوں سے بچ جائیں گے۔
