عمرانڈوز اور گمرانڈوز غریدہ فاروقی کے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟

حال ہی میں تحریک انصاف کے عمرانڈوز اور گمرانڈوز کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ٹرولنگ کا سامنا کرنے والی سینئر اینکر پرسن اور صحافی غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ صحافیوں پر آئے روز نئے الزامات اور لیبلز لگا دیے جاتے ہیں۔ مرد صحافیوں کو زیادہ تر ’لفافہ‘ کہہ دیا جاتا ہے مگر جب بات خواتین صحافیوں کی آتی ہے تو انکی کردار کشی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور انکے خلاف نازیبا ٹرینڈز بنائے جاتے ہیں۔ لیکن زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس افسوسناک مہم میں تحریک انصاف کے ٹرولز پیش پیش ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ غریدہ فاروقی کے خلاف عمرانڈوز اور گمرانڈوز نے تازہ ٹرینڈز تب بنائے جب عمران خان کے چیف آف سٹاف شہبازگل کو گرفتار کیا گیا۔
غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ مرد صحافیوں پر تو صرف ’لفافے‘ لینے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن خواتین صحافیوں کو جنسی حملے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں جو کہ صنفی تشدد کی ایک قسم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں 2014 سے ایسی ٹرولنگ اور آن لائن ہراسانی کا شکار ہوں۔ مجھے سالوں سے تشدد کی دھمکیاں اور غداری کے لیبل سہنے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی آٹھ شکایات اب بھی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی سائبر کرائم ونگ کے پاس جمع ہیں۔ حالیہ ٹرینڈ کے خلاف بھی میں نے ایف آئی اے کو شکایت کی مگر میری کسی ایک شکایت پر بھی آج تک کوئی کارروائی نہیں ہو پائی۔
لیکن غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ میرے اعصاب بہت مضبوط ہیں اس لیے میں ان کا مقابلہ کرتی رہوں گی۔ میرے ساتھ میرے خاندان اور دوستوں کی سپورٹ ہے۔ میں ہمیشہ کسی نہ کسی قانونی فورم سے رجوع کرتی ہوں۔ ہر عورت اتنی مضبوط نہیں ہوتی۔ خواتین اکثر ڈر جاتی ہیں اور ان کے کام پر اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر جب ایسے حملے ہوتے ہیں تو وہ خود ساختہ سینسرشپ طاری کر لیتی ہیں اور کام سے ہٹنا شروع کر دیتی ہیں جو ان ٹرینڈز اور سائبر حملوں کا اصل مقصد ہوتا ہے۔اس لیے خواتین صحافیوں کے لیے اہم ہے کہ وہ ایسے جنسی حملوں سے اور ایسا کرنے والوں سے نہ گھبرائیں۔ انہیں چاہیئے کہ وہ مقابلہ کریں اور اپنا کام جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ساری شکایات ایف آئی اے کو گئی ہیں۔ ایف آئی والے ان کو سن تو لیتے ہیں مگر اس پر عمل انتہائی سست ہوتا ہے کیونکہ ہمارا انصاف کا نظام کمزور ہے۔ خواتین جب شکایات لے کر جاتی ہیں تو ان کو مختلف حیلوں بہانوں سے مزید تنگ کیا جاتا ہے جو مظلوم پر ایک اضافی ظلم ہے۔ غریدہ فاروقی نے مطالبہ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حرکت میں آنا چاہیے اور ملزمان کو سزا دینی چاہیے صرف اس صورت میں ہی یہ ٹرینڈز رک سکتے ہیں۔
جب ان سوالات اور ٹرینڈز سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی سے پوچھا گیا تو ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ محمد جعفر نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز باہر کے ممالک میں موجود ہیں اور وہ پاکستانی حکام کو جلد جواب نہیں دیتے۔ ان کے مطابق یہ ادارے زیادہ تر، دہشت گردی، پورنوگرافی یا جانی نقصان کے خطرے کی صورت میں جواب دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان سائبر کرائم سے متعلق بین الاقوامی قانونی معاہدوں کا دستخط کنندہ نہیں ہے، جس کے باعث تعاون میں مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ جعفر کے بقول پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز (پیکا) کا سیکشن 20 ایسے معاملات کے لیے اہم ہے۔ جس میں بعد میں ترمیم بھی کی گئی تھی مگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سال اس پر عمل درآمد اور اس کے تحت گرفتاریوں پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ وہ ترمیمی آرڈیننس ہے جس کے مطابق ’شخص‘ کی تعریف تبدیل کرتے ہوئے قرار دیا گیا تھا کہ ’شخص‘ میں کوئی بھی کمپنی، ادارہ یا اتھارٹی شامل ہے اور کسی بھی فرد کے تشخص پر حملے کی صورت میں قید تین سے بڑھا کر پانچ سال تک کردی گئی تھی۔ سائبر کرائم کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ عدالت کے فیصلے کے بعد سے ہتک عزت کے قوانین ایف آئی اے کے تحت نہیں بلکہ پولیس کے تحت آتے ہیں۔ ’جبکہ پولیس پیکا کے تحت ایکشن نہیں لے سکتی۔ اس کی مجاز ایف آئی اے ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ نازیبا سوشل میڈیا ٹرینڈز کے پیچھے جعلی اکاؤنٹس کی تشخیص کے لیے کیا کیا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے اور پولیس کا طریقہ کار الگ ہوتا ہے۔ پولیس جلد ایکشن لیتی ہے ہمیں مینڈیٹ کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے۔ 15 دن کے لگ بھگ تو صرف تصدیق میں لگتے ہیں۔ اگر کسی کو جلد انصاف چاہیے تو وہ پولیس کی مدد اور پاکستان پینل کوڈ کا سہارا لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم کیسز کا مقدمہ بعض اوقات مہینوں بعد درج ہوتا ہے اور پھر کیس کی تیاری کا عمل شروع ہوتا ہے مگر آگے جا کر ایکشن لیتے ہوئے پیکا کا سیکشن 20 پر عدالت کا فیصلہ آڑے آ جاتا ہے۔ جعفر کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم کے محکمے کو تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت وہ لاکھوں شکایات سے نمٹ رہا ہے اور عملے کی کمی کا شکار ہے۔
دوسری طرف غریدہ فاروقی کے خلاف نازیباٹرینڈز کو ٹوئٹر سے ہٹوانے کے لیے سرگرم ڈیجیٹل رائٹس فائونڈیشن کی بانی نگہت داد نے بتایا کہ ایسے ٹرینڈز کو ہٹوانے میں کم از کم 24 گھنٹے یا زائد کا وقت لگتا ہے۔لیکن اتنی دیر میں متاثرہ خاتون کا نقصان ہوچکا ہوتا ہے، پاکستان میں تو یہ آن لائن سے آف لائن ہراسانی میں بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ان کے مطابق کمپنیاں بہت جلد ایکشن نہیں لے پاتیں مگر سائبر ہراسانی کے خلاف ہیلپ لائن اور ایسکلیشن چینل سے فائدہ پھر بھی ہوجاتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ آپ ان ٹرینڈز کو ہٹوا تو دیتے ہیں مگر یہ مسئلے کا حل نہیں، اس کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حرکت میں آتے ہوئے کارروائی کرنی چاہیئے ورنہ ایسے قوانین کا کوئی فائدہ نہیں اگر وہ خواتین کو تحفظ ہی فراہم نہ کرسکیں۔
