عمران گرفتار ہوئے تو کیا انکے ساتھی کھڑے رہ پائیں گے؟

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں اگلا لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے شدید احتجاج کا فیصلہ کیا ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اگر ریاست نے ردعمل میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا تو کیا عمران خان کے ساتھی ان کے ساتھ کھڑے رہ پائیں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق قرائن بتاتے ہیں کہ عمران خان نہ صرف گرفتار ہوں گے بلکہ نااہل بھی ہو سکتے ہیں، ایسے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کھڑی کی گئی تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی کیونکہ عمران کے زیادہ تر ساتھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے۔ خیال رہے عمران خان کی جماعت میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل ہیں جن کو 2018 کے الیکشن سے پہلے اور بعد میں اسٹیبلشمنٹ نے خود پارٹی کا حصہ بنایا تھا۔ لہٰذا اگر ان کی گرفتاری اور نااہلی ہوتی ہے تو ان کے ایسے تمام ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔
25 اگست کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے خان صاحب کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر تک توسیع کے بعد ایک ہفتہ تو ان کی گرفتاری کا کوئی امکان نہیں لیکن ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ وفاقی حکومت انہیں ہر صورت گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ عمران کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں لیکن ان میں سے تین کیسز ایسے ہیں جن میں انکو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور وہ گرفتار بھی ہو سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کرتی ہے تو پارٹی نے تمام رینکس تک یہ پالیسی واضح کر دی ہے کہ ہر پارلیمنٹیرین اور پارٹی عہدیدار فوراً باہر نکل کر تمام شہروں کی سڑکوں کو جام کر دیں گے۔ پارٹی عہدیداروں اور ورکرز کا خیال ہے کہ حکومت کبھی یہ جرات نہیں کرے گی کہ وہ عمران خان کو گرفتار کرے۔انکا کہنا ہے کہ حکومت نے گذشتہ اتوار دہشتگردی کا پرچہ درج ہونے کے بعد عمران خان کو گرفتار کرنے کا صرف سوچ ہی تھا کہ ایک کال پر نہ صرف کارکنان بلکہ عوام رات ایک بجے پورے ملک میں سڑکوں پر اکٹھے ہو گئے تھے۔لیکن پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پھر بھی حکومت عمران خان کو گرفتار کرتی ہے تو پارٹی نے لائحہ عمل بنا لیا ہے جسے ابھی پبلک نہیں کیا جا سکتا۔ انکا کہنا ہے کہ وہ لائحہ عمل ہی کیا جو پہلے سے بتا دیا جائے۔
عمران کی ممکنہ گرفتاری کے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت میں ایسا کوئی مائی کا لال نہیں جو خان صاحب کو گرفتار کرنے کا سوچ بھی سکے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی حد میں رہنا چاہیے کیونکہ وہ عوام کا ردعمل الیکشن میں اور سڑکوں پر دیکھ چکی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر حکومت عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی تو یہ اس کے لیے سیاسی خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کے لیڈر ملک میں خانہ جنگی کے حالات پیدا کرکے خود سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں۔مائنس عمران خان‘ کے حوالے سے فواد کا کہنا تھا کہ عمران سیاسی لیڈر ہیں، اگر وہ جیل میں بھی ہوں گے تو پارٹی کے وہی چیئرمین ہوں گے اور انہی کی ہدایات پر ہم لوگ عمل کریں گے۔ انہوں نے عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ مخالف پالیسی پر پارٹی میں کسی قسم کی تقسیم کی تردید کی۔
ادھر عمران خان کی ممکنہ گرفتاری بارے سابق وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو پوری قوم کا شدید رد عمل آئے گا جس کو یہ حکومت برداشت نہیں کر سکے گی کیونکہ عوام کو نظر آ رہا ہے کہ حکومت ناجائز طریقے سے عمران خان کو پھنسانا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی عوام کے ساتھ مل کر اپنے قانونی اور آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے پُرامن احتجاج کرے گی۔
انکا کہنا تھا کہ کہ عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں، جو کہ ممکن نہیں، پارٹی کی کور کمیٹی، سیکریٹری جنرل اور وائس چیئرمین دوسرے لیڈرز کے ساتھ مشاورت کرکے فیصلہ کریں گے۔ ’بھرپور احتجاج کا فیصلہ بہرحال پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ فیصلے کہ کہاں احتجاج کرنا ہے، کب اسلام آباد جانا ہے، وقت آنے پر ہوں گے۔ عمران خان کے خلاف نااہلی کیس کے حوالے سے شفقت محمود کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی والے یہ کوشش ضرور کریں گے لیکن قانونی طور پر یہ کوشش سرے نہیں چڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک سیلاب ہے جس کےسامنے بند باندھنا ممکن نہیں ہے۔
