عمران نے ریاست مدینہ کے نام پر عوام کو ماموں کیسے بنایا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار خالد جاوید جان نے کہا ہے کہ عمران خان پونے چار سالہ دور اقتدار میں اپنے دعوؤں کے مطابق پاکستان کو ریاست مدینہ تو نہ بنا پائے لیکن نازی ہٹلر کا جرمنی ضرور بنا ڈالا جہاں احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کے خلاف شرمناک انتقامی کارروائیوں کی گئیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال کسی بھی معاشرے کے لیے خوفناک نتائج کا حامل ہوتا ہے، جس سے نہ صرف مذہب کا تقدّس بری طرح پامال ہوتا ہے بلکہ سیاست بھی عوام کے حقیقی مسائل حل کرنے کا ذریعہ بننے کی بجائے فروعی مسائل یا نان ایشوز کی نذر ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے معاشرے تقسیم در تقسیم کے عمل کا شکار ہو کر انتشار ، انارکی اور بالآخر خانہ جنگی کے دہانے تک پہنچ جاتے ہیں۔ آج کل پاکستان ایسی ہی ہیجانی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا عمل جنرل ضیا نے شروع کیا، جس نے اپنے ہر غیر آئینی عمل کو مذہب کا جامہ پہنانے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں پاکستان مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہوگیا۔ جو آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جنرل ضیاء کے بعد گو اکثر حکمرانوں نے مذہب کے استعمال کا سلسلہ جاری رکھا لیکن اس ضمن میں عمران خان سب پر بازی لے گئے۔.
خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ اگرچہ مذہب انسان اور خدا کے درمیان تعلق کا ایک انتہائی ذاتی اور پاکیزہ اظہار ہے جس پر تبصرہ کرنے کا کسی تیسرے فرد کو حق حاصل نہیں ہونا چاہیے،لیکن جب کوئی شخص محض اپنے ذاتی، گروہی یا سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کو چوراہے میں لے آئے تو پھر مذہبی تقدّس کے تحفظ کا تقاضا ہے کہ ایسا کرنے والے کے اپنے کردار اور مذہبی علم کا جائزہ لیا جائے کہ کیا کہنے والا جو کچھ کہہ رہا ہے، اس میں کوئی منطق، دلیل یا سچائی موجود ہے بھی یا نہیں؟ شخصیت پرستی کی اسلام اور دیگر مثبت مکاتبِ فکر میں اس لیے شدّت سے ممانعت کی گئی ہے کہ شخصیت پرستی بھی بُت پرستی کی ہی ایک شکل ہوتی ہے، جس میں آپ اس شخص کو جسے آپ پسند کرتے ہیں، انسانی درجے سے اٹھا کر اس درجے پر لے جاتے ہیں جہاں آپ کو اس کے عیب بھی کارنامے دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ عمران خان کی ذاتی زندگی اور سیاسی زندگی میں گفتار اور کردار کی ایک وسیع خلیج حائل رہی ہے۔
ماضی کے پلے بوائے اور آج کے سازشی عمران خان کی ساری زندگی قول و فعل کے تضادات کا شکار دکھائی دیتی ہے، جیسا کہ ان کی حال ہی میں لیک ہونے والی آڈیوز سے بھی ثابت ہوا ہے۔ عمران نے پونے چار برس تک عوام کو ریاست مدینہ کے نام پر ماموں بنایا۔ وہ ایک ہی سانس میں ریاست ِ مدینہ، مغرب کے جمہوری نظام، سعودی عرب کے شاہی نظام اور چین کے ون پارٹی سسٹم کے قائل نظر آئے۔ لیکن ان کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ان تمام نظاموں کا سطحی علم رکھتے ہیں بلکہ ان تمام نظاموں میں جہاں شخصی اقتدار نمایاں ہے اس نظام کے زیادہ قریب ہیں۔ اپنے پونے چار سالہ اقتدار میں انہوں نے جس طرح اپنے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا اور میڈیا میں احتجاجی آوازوں کو کچلا ، اس کی ایک مثال سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا وہ انٹرویو ہے جو انہوں نے عمران خان کے دورِ ستم میں دیا۔ انہیں اس وجہ سے وقت سے پہلے فارغ کردیا گیا جب انہوں نے عمران کے کہنے پر ان کے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم نہیں کیے تھے۔ عمران ریاست ِ مدینہ کے داعی رہے اور انصاف کے سب سے بڑے علم بردار بھی، لیکن اپنے دور میں انہوں نے ہر معاملے میں غلط بیانی کی اور اسے یو ٹرن کا نام دیکر بڑا لیڈر ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاہم جس طرح سابق خاتونِ اوّل پنکی پیرنی نے اپنی سہیلی فرح گوگی کے ذریعے پنجاب پر حکمرانی کی اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا،
آٹا ،چینی، گیس اور ادویات اسکینڈلز میں ملوّث ساتھیوں کو نوازا وہ بھی ایک انوکھی داستان ہے۔ عمران نے معیشت کو تباہ کیا، ہر ادارے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، خارجہ پالیسی پر جھوٹے بیانات سے پاکستان کو دنیا میں تنہا کیا اور جب پاکستان ڈیفالٹ کے کنارے پہنچ گیا تو آئینی عمل کے ذریعے اپنی حکومت کی تبدیلی کو غیر آئینی طریقے سے روکنے کی کوشش کی۔ جب یہ کوشش ناکام ہو گئی تو ایک معمول کے سائفر کو اپنے جھوٹے پروپیگنڈے سے امریکی سازش میں تبدیل کر دیا۔ ایسا کرتے ہوئے نہ عمران اور نہ ہی نہ ان کے حامیوں نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ سازش کبھی بتا کر نہیں کی جاتی۔ بعد میں سائفر کا پول بھی کھل گیا تو خان صاحب اپنے اقتدار میں لانے والوں کے در پے ہو گئے۔ ایسے فاشسٹ رویّوں سے ریاست ِ مدینہ تو نہیں البتہّ پاکستان کو نازی ہٹلر کا جرمنی بنایا جا سکتا ہے۔
